مجبوری

Print Friendly, PDF & Email

1بڑے انہماک کے ساتھ اپنی دونوں نظریں سمارٹ فون پر جمائے، دنیا و مافیہا سے بے خبر ذیشان اپنی دھن میں مگن جا رہا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ کمال برق رفتاری سے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے دوست کے میسجز کا جواب بھی ٹائپ کرتا جا رہا تھا۔ چلتے چلتے اچانک رک گیا اور غیر ارادی طور پر پارک کے اس جانب بنائی گئی مصنوعی جھیل کے کنارے لگے لکڑی کے بینچ پر بیٹھنے لگا تو وہاں پر پہلے سے بیٹھے ہوئے شخص کی طرف ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ فون پر مصروف ہونے کی وجہ سے بس اتنا ہی دیکھ سکا کہ ہونٹوں پر ایک آسودہ سی مسکراہٹ سجائے وہ شخص بطخوں کو کچھ کھلا رہا تھا۔ اسے وہ شخص کچھ عجیب سا لگا۔ بلاوجہ مسکراتے لوگ اسے ہمیشہ سے عجیب لگا کرتے۔
اسے اور اس کی مسکراہٹ کو نظر انداز کر کے وہ دوبارہ فون پر مصروف گیا۔ ساتھ میں بیٹھے شخص نے ہوا میں منہ کرکے ایک لمبی سانس اندر کھینچی اور دھیمے لہجے میں اس سے مخاطب ہوا،” کل پوری رات بارش ہونے کے بعد آج ہوا کتنی صاف ہے۔ نہ کوئی آلودگی اور نہ ہی کوئی گردوغبار۔ ”
” کل رات بارش ہوئی تھی؟” چونک کر اس نے اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے دل ہی دل میں اپنے آپ سے سوال کیا۔
ذیشان کی جانب سے کوئی ردعمل نہ ملنے کے باوجود اجنبی نے اپنی بات جاری رکھی۔ ” چنبیلی اور موتیے کے پھولوں کی خوشبو مجھے روزانہ اس پارک میں کھینچ لاتی ہے۔ ان پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو دور دور تک ِفضا کو معطر کیے رکھتی ہے۔
چند لمحوں کے توقف کے بعد اجنبی پھر بولا، ” یہ جگہ پارک میں میری سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔ میں یہاں اس بینچ پر روزانہ آکے بیٹھتا ہوں۔ ”
اجنبی کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ذیشان نے مزید تیزی سے فون پر انگلیاں چلائیں۔ وہ بیک وقت دو تین ایپس پر لگا ہوا تھا اور ساتھ ہی ساتھ دوست کے ساتھ میسیجنگ میں بھی مصروف تھا۔
اجنبی پھر گویا ہوا، ” یہ ساری بطخیں مجھے پہچانتیں ہیں۔ میں روزانہ انہیں ڈبل روٹی کے بچے کچھے ٹکڑے کھلانے آتا ہوں۔ جب کبھی مجھے آنے میں دیر ہوتی ہے تو یہ ساری کی ساری اس جگہ اکٹھی ہو کر ایسا شور مچاتی ہیں کہ کان پڑے سنائی نہیں دیتی۔ ”
اس نے پہلی بار نظریں سمارٹ فون سے ہٹائیں۔ جھیل کی ساری بطخیں جھیل کے کنارے اکٹھی ہو گئی تھیں۔
بڑی بطخیں آگے آگے تھیں چھوٹی بطخیں ادھر ادھر سے راستہ بنا کر آگے آنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں۔ خوبصورت سی جھیل کے نیلگوں پانی میں تیرتی ہوئی یہ بطخیں ! کس قدر خوبصورت اور پرسکون تھا قدرت کا یہ نظارہ۔
” میرے یہاں بیٹھنے کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ ”
اجنبی کی آواز نے اسے خیالات کی دنیا سے باہر نکالا اور وہ پھر سے اپنے فون پر لگ گیا۔ میسجنگ سے فارغ ہوا تو فیس بک پر اپنے کسی دوست کے اسٹیٹس پر کمنٹ لکھنے لگا،” فطرت اور فطری چیزیں ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہیں۔”
اجنبی نے اس کی بے توجہی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔
” وہ سامنے کھیل کا میدان دیکھ رہے ہو وہاں جب بچے کھیلتے کھودتے اور لڑتے جھگڑتے ہیں تو ان کی آوازیں مجھے اپنے ماضی میں لے جاتی ہیں۔ ساری تھکن اور پریشانی پل بھر میں ختم ہو جاتی ہے۔ ”
ذیشان ایک اور دوست کے اسٹیٹس کو لائک کرنے لگا تو دیکھا کہ وہ اجنبی شخص جانے کی تیاری کررہا تھا۔
اس نے جیب سے سیاہ چشمہ نکال کر پہنا اور ہاتھ سے ٹٹول کر اپنے ساتھ رکھی ہوئی سفید چھڑی نکالی اور ذیشان کی طرف دیکھ کر بڑی خندہ پیشانی سے اسے خدا حافظ کہا اور چھڑی کی مدد سے مگر بڑی مہارت سے راستہ ڈھونڈتے ہوئے ایک طرف چل دیا۔
ذیشان کا دماغ ایک دم جیسے ماؤف سا ہوگیا۔ بینائی سے محروم ہونے باوجود فطرت کے ہر ایک نظارے کو وہ اس سے زیادہ دیکھ سکتا تھا محسوس کر سکتا تھا اور آنکھیں ہونے کے باوجود اس نے اپنے آپ کو جان بوجھ کر ان سب نظاروں سے محروم رکھا ہوا تھا۔ اسے اپنے آپ پر ترس آرہا تھا۔
فون کی آواز نے اسے پھر چونکا دیا۔ دیکھا تو اس کے دوست نے اس کے کمنٹ کا جواب لکھا تھا۔ سر جھٹک کر سارے خیالات کو ذہن سے نکال کر ایک بار پھر وہ جواب پڑھنے میں لگ گیا۔

Views All Time
Views All Time
959
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   طوائف - علینہ ارشد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: