Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حضرت علی ؑ و حضرت عمرؓ: اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام کے بہترین نمونے

by اکتوبر 6, 2016 اسلام
حضرت علی ؑ و حضرت عمرؓ: اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام کے بہترین نمونے
Print Friendly, PDF & Email

amjad-abbasحضرت ابوبکر نے آخری وقت میں اپنا جانشین (حاکم) حضرت عمرؓ کو قرار دیا، اگرچہ بنو ہاشم اور اُن کے ہم نوا صحابہ کرام حکومت کو اہلِ بیت کا حق سمجھتے تھے ( اہلِ بیت کے موقف کی بنیاد احادیث پر ہے جیسے حدیثِ منزلت، حدیث کساء، حدیثِ ثقلین وغیرہ، وہ حکومت کو دینی منصب کے طور پر دیکھتے تھے جبکہ عمومِ صحابہ کرام نے اِسے مدنی ضروریات کے تحت ایک دنیاوی منصب کے طور پر لیا۔ اہلِ بیت کے موقف کی رُو سے خلافت منصوص امر ہے، جبکہ عمومِ صحابہ کے موقف سے خلیفہ مسلمانوں کا منتخب کردہ حاکم ہے)، اہل بیت کی نظروں میں اِس کے موزوں ترین امید وار حضرت علی ؑ تھے، روایات میں اُنھیں وصیِ رسول بھی کہا گیا ہے، چنانچہ اہلِ بیت کا موقف تھا کہ حکومت میں بھی وہ وصیِ رسالت ماب صلی اللہ علی ؑہ و آلہ وسلم ہیں۔ سیدہ فاطمہ نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہ کی، حضرت علی ؑ نے بھی بقولِ امام بخاری، سیدہ کی زندگی میں بیعت نہ کی، لیکن حکومت کے ساتھ تعاون سے گریز بھی نہ کیا۔ تینوں ادوار میں حکومت قائم ہو جانے  کے بعد اُنھوں نے اِس کے خلاف کسی قسم کی تحریک برپا نہ کی۔ حضرت علی ؑ حکمرانوں کے مقابل خود کو امامت و پیش وائی کا زیادہ اہل سمجھتے تھے، یہ حقیقت بھی ہے کہ تمام علمی مسائل میں صحابہ کرام آپؑ سے استفادہ کرتے۔ جہاں تک حضرت عمرؓ کا تعلق ہے تو وہ خانوادہِ رسالت کا ذاتی طور پر بہت احترام کیا کرتے تھے۔ (فدک اور بیعت جیسے امور میں حضرت ابوبکر و حضرت عمرؓ نے عبوری قسم کے فیصلے کیے جن سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، میں یہاں اہلِ بیت کے موقف کو درست سمجھتا ہوں(

مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ سبھی اہم اُمور میں حضرت عمرؓ، صحابہ کرام ، خاص کر حضرت علی ؑ سے مشورہ لیتے، بسا اوقات اپنی رائے سے دستبردار بھی ہوجاتے۔ اہلِ سنت کے ساتھ اہلِ تشیع مؤرخین نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے اگر علی ؑ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔ ایسی آزمائش سے پناہ مانگتے جس میں حضرت علی ؑ اُن کے ساتھ نہ ہوں۔ حضرت علی ؑ نے بھی مختلف مشکلات میں حکومت کے ساتھ تعاون کیا۔ اہلِ فارس سے جنگ کے موقع پر حضرت عمرؓ خود لشکر کے ساتھ جانا چاہ رہے تھے لیکن حضرت علی ؑ نے اُنھیں دار الحکومت چھوڑنے سے منع کیا اور تجویز دی کہ آپ میدانِ جنگ میں نہ جائیں۔ شیعہ و سُنی کتب میں بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ حضرت عمرؓ کو حضرت علی ؑ نے مشورے دیئے اور اُنھوں نے وہ قبول بھی کیے۔ (اہلِ بیت اپنے موقف سے دستبردار نہ ہوئے، اختلاف باقی رہا۔۔۔ یہ اِسی اختلاف کا نتیجہ تھا کہ تینوں ادوار میں حضرت علی ؑ نے کوئی حکومتی عہدہ نہ لیا، سیدہ فاطمہ کا جنازہ رات کو پڑھایا، حضرت ابوبکر و حضرت عمرؓ کو اطلاع نہ دی، لیکن تعاون جاری رکھا، یوں باہمی احترام برقرار رہا)

یہ بھی پڑھئے:   (اسلام کے صوتی علوم - سوز خوانی (۲

جہاں تک اندازِ حکمرانی کی بات ہے تو حضرت عمرؓ کے سیرت نگاروں کے بقول آپ انتہائی سادہ طبیعت کے، درویش صفت آدمی تھے، آپ نے عمدہ طریقے سے عدل و انصاف کا نظام برقرار رکھا۔ اپنے خاندان کو حکومت میں شامل نہ کیا۔ اپنے گورنروں کا سخت احتساب کیا۔ حضرت ابوہریرہ جیسے صحابی کو گورنری سے ہٹا لیا۔ حضرت علی ؑ کے خاص ساتھی حضرت سلمان فارسی کو گورنر بنایا۔ آپ کے دور میں چند امور اختلافی بھی ہیں جیسے عربی و عجمی میں امتیاز کرنا، وظائف میں بدری و غیر بدری صحابی میں فرق کرنا، جناب معاویہ کے شاہانہ انداز کو دیکھ کر ہنسی میں ٹال دینا کہ یہ قیصر و کسریٰ کی روش پر ہے، نیز وقتی ضرورت کے پیش نظر آپ کے چند اجتہادات ایسے بھی ہیں جو بظاہر نص سے مخالف ہیں جیسے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین قرار دینا، ماہ رمضان کے نوافل کی جماعت وغیرہ۔

حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ اگر حضرت علی ؑ کو حاکم بنایا گیا تو وہ نظامِ حکومت بہترین چلائیں گے لیکن وہ حضرت علی ؑ کے مخالفین کے نظریے سے بھی آگاہ تھے، مجھے مفتی محمد فاروق علوی صاحب نے ایک روایت سنائی کہ حضرت عمرؓ نے آخری وقت میں کہا کہ حکومت کے سب سے زیادہ اہل علی ؑ ہیں لیکن میں جانتا ہوں بعض لوگ اُنھیں ناپسند کرتے ہیں، اگر علی ؑ کو حکومت دی گئی تو وہ اُن سے ضرور لڑیں گے۔۔۔

یہ بھی پڑھئے:   ماہِ رمضان المبارک---کیا کھویا کیا پایا

یہاں ایک اور امر کا تذکرہ لازمی ہے کہ حضرت عمرؓ نے، لوگوں کے مشورہ دینے کے باوجود اپنے بیٹوں کو اقتدار منتقل نہ کیا۔ آخری وقت میں بھی ایک مختصر سی شورائی کمیٹی بنائی جس میں حضرت علی ؑ، حضرت عثمان ؓ اور دیگر چند صحابہ شریک تھے۔ حضرت عمرؓ کو اگرچہ حضرت ابوبکر نے خلیفہ نامزد کیا لیکن حضرت عمرؓ نے اپنی بار یہ روش نہ اپنائی، بلکہ کسی حد تک مسلمانوں کا معاملہ اُن پر چھوڑ دیا۔ ہاں یہ الگ بات کہ کمیٹی میں سب سے زیادہ کردار حضرت عبد الرحمان بن عوف کو دیا گیا، جنہوں نے حضرت علی ؑ اور حضرت عثمان ؓ سے پوچھا کہ تُمہیں اقتدار ملے تو قرآن و سنت اور پہلے دو حکمرانوں کی سیرت پر چلو گے؟ حضرت عثمان ؓ نے حامی بھری لیکن حضرت علی ؑ نے قرآن و سنت کے متعلق فرمایا کہ میں اُن کا بہترین جاننے والا ہوں لیکن پہلے دو حکمرانوں کی سیرت پر عمل نہ کروں گا۔ میں از خود فیصلے کروں گا۔ یوں حضرت عثمان ؓ کے حق میں فیصلہ ہوگیا۔

اسلام کے ابتدائی دور میں صحابہ کرام میں اختلافات موجود تھے لیکن باہمی احترام کا رشتہ موجود رہا، حضرت عثمان ؓ کے عہد میں پہلی بار صحابہ کرام باہم دست و گریباں ہوئے پھر یہ سلسلہ امتِ مسلمہ میں جاری و ساری ہوگیا۔۔۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عہدِ اولین کے صحابہ کرام کی طرح اختلافات کے باوجود باہمی احترام کے ساتھ پُر امن رہنے کی توفیق دے۔

Views All Time
Views All Time
1223
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: