زندہ رہنے کا سبب صرف عزا کوشی ہے

Print Friendly, PDF & Email

زود رنجی نہ کوئی زود فراموشی ہے
اعتدالِ غمِ شبیر ؑ سیہ پوشی ہے

منبرِ نوکِ سناں پر ہے خطابِ شبیر ؑ
بھرے بازار میں جبرئیل ع سے سر گوشی ہے

مسخ ہوتی ہوئی تصویرِ خلافت میں فقط
ایک شطرنج ہے اک تخت ہے مے نوشی ہے

زینہ با زینہ رواں فزت برب الکعبہ
اک امامت پہ امامت کی سبکدوشی ہے

حُریّت نے جو اذاں سنتے ہی کروٹ لی ہے
ہوش مندی سے فزوں تر یہی مدہوشی ہے

ہے کوئی اور فداکارِ الٰہ مثلِ حسین ؑ
چودہ صدیوں سے اسی نام پہ خاموشی ہے

زندگی اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اکبر
زندہ رہنے کا سبب صرف عزا کوشی ہے

 

Views All Time
Views All Time
74
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   وسعتِ قلب بر سرزمینِ عشق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: