حُر ؑ کو حسین ؑ شہرِ شہیداں میں لے گیا

Print Friendly, PDF & Email

ذرے کو ماہتاب شبستاں میں لے گیا
حُر ؑ کو حسین ؑ شہرِ شہیداں میں لے گیا

کہنے کو سنگ و خشت کے زنداں میں لے گیا
قرآن اپنی آیتیں جزداں میں لے گیا

اک شیر خوار دستِ تبسم سے تھام کر
ناممکنات کو حدِ امکاں میں لے گیا

سورج کو کیا چراغ دکھاتا فریبِ شام
نیزوں کو آفتاب چراغاں میں لے گیا

سجدے چلے مدینے سے تلواریں شام سے
جو جس کا اسلحہ تھا وہ میداں میں لے گیا

وہ لے گیا ہے چادرِ تطہیر اپنے ساتھ
اپنا کفن جو ساتھ نہ ساماں میں لے گیا

چُلُّو کی بات اصل میں کرب وبلا کی تھی
ایسا خدا کا دل ہوا قرآں میں لے گیا

اکبر ہے ناخدا کی عجب منزلِ یقیں
اپنا سفینہ موت کے طوفاں میں لے گیا

 

Views All Time
Views All Time
92
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   اے چاند یہاں نہ نکلا کر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: