حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

Print Friendly, PDF & Email

Umme Rubabمیں پہلی نظر کی محبت پر یقین رکھتی ہوں کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہر انسان دنیا میں آتے ہی سب سے پہلی نظر اپنی ماں پر ڈالتا ہے اور اسی لمحے اسے پہلی نظر میں محبت ہو جاتی ہے۔
ماں کے لیے کوئی ایک دن مخصوص یا مقرر نہیں کیا جا سکتا ۔ہماری زندگی میں ہر دن ماں کا دن ہے، ماں نہ ہو تو سب کچھ نا مکمل ہو گا ہر دن ادھورا ہو گا۔ماں کی محبت کوبیان کرنا گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔
ہر سال ماں کے عالمی دن پر ہم اپنی ماؤں کو محبت بھرے پیغامات بھیجتے ہیں ۔اپنے الفاظ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، تحائف دیتے ہیں۔لیکن سوچیئے کہ وہ ہستی جو زندگی بھر ہم سے بے غرض، بے لوث محبت کرتی آئی ہو کیا صرف ایک دن ہماری محبت کی حق دار ہوتی ہے؟کیا صرف ایک جملہ یا صرف ایک شعر لکھ دینے سے اس کی محبت کا حق ادا ہو جاتا ہے؟ کبھی سوچا کہ اپنی روزمرہ عملی زندگی میں ہم کتنی بار اپنی ماں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں؟ کتنی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر ماں ایک بات ایک سے زیادہ بار پوچھ لے تو ہم الجھ کر اسے جواب دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اسی ماں نے ہمیں بولنا سکھایا ہے اور بچپن میں ہم بھی کتنی بار ایک ہی بات بار بار پوچھا کرتے تھے اور ہماری ماں ہر بار بڑی خندہ پیشانی سے ہماری بات کا جواب دیتی تھی۔
محبت کا اظہار صرف زبانی نہیں عملی ہوتا ہے۔کتنی بار ہم اپنی ماں کی ضرورت اوراس کے آرام کا خیال رکھتے ہیں؟کتنی بار ہمیں یہ خیال آتا ہے کہ دن بھر کام کرتے کرتے وہ تھک گئی ہوں گی، کیا ہم خود انہیں کبھی آرام کرنے کو کہتے ہیں؟ کتنی بار ہم ان کے کام کا بوجھ اور ذمہ د اری خود اٹھاتے ہیں؟ ہر گھر میں بیٹی تو ماں کو آرام دینے کی کوشش کرتی ہے لیکن کیا بیٹے کبھی ایسا سوچتے ہیں؟ ماں اگر بیمار ہو یا تھکی ہوئی ہو ہم تب بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ وہی ہمارے کام کرے۔
مائیں ایک گھر بناتی ہیں اسے سنبھالتی ہیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں،انہیں پال پوس کر بڑا ہوتے اور اپنے اپنے مقام پر فائز ہوتے دیکھتی ہیں اور جب وہ اپنے فرائض سے فارغ ہوتی ہیں تو وہ تنہا رہ جاتی ہیں۔ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے، بیٹیاں بیاہ کر اپنے اپنے گھروں کی ہو جاتی ہیں ،بیٹے اعلیٰ تعلیم اور نوکری کرنے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور ماں تنہا رہ جاتی ہے۔لیکن ہم میں سے شاذ ہی کوئی اس کی تنہائی کو سمجھتا ہے یا سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
۔ہمارے مذہبب میں ماں کا درجہ، اس کا مقام سب سے بلند ہے، اس کے قدموں میں جنت ہے۔ہم ماں کے کسی بھی احسان کا بدلہ تو نہیں اتار سکتے مگر اتنا تو کر سکتے ہیں کہ صرف اس کے فرائض یاد نہ رکھیں اس کے حقوق کا بھی خیال رکھیں۔

Views All Time
Views All Time
819
Views Today
Views Today
1
mm

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   احرام میں لپٹے ابلیس -شعیب آرین
mm

امِ رباب

ایک محنت کش خاتون ہیں۔ قسمت پر یقین رکھتی ہیں۔کتابیں پڑھنے کا شوق ہے مگر کہتی ہیں کہ انسانوں کو پڑھنا زیادہ معلوماتی، دل چسپ، سبق آموز اور باعمل ہے۔لکھنے کا آغاز قلم کار کے آغاز کے ساتھ ہوا۔ اپنی بات سادہ اور عام فہم انداز میں لکھتی ہیں۔ قلم کار ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔

2 thoughts on “حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

  • 14/05/2016 at 11:21 صبح
    Permalink

    مائیں ایک گھر بناتی ہیں اسے سنبھالتی ہیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں،انہیں پال پوس کر بڑا ہوتے اور اپنے اپنے مقام پر فائز ہوتے دیکھتی ہیں اور جب وہ اپنے فرائض سے فارغ ہوتی ہیں تو وہ تنہا رہ جاتی ہیں۔ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے، بیٹیاں بیاہ کر اپنے اپنے گھروں کی ہو جاتی ہیں ،بیٹے اعلیٰ تعلیم اور نوکری کرنے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور ماں تنہا رہ جاتی ہے۔لیکن ہم میں سے شاذ ہی کوئی اس کی تنہائی کو سمجھتا ہے یا سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

    کیا خوب صورت عکاسی کی ہے آپ نے !!!۔ یوں کہیے کہ ممتا کے سفر کے چند لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔

    Reply
  • 14/05/2016 at 12:12 شام
    Permalink

    Heart touching article, an eye opener for all of us.

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: