نوجوان نسل کو یہ بھی سکھائیں

Print Friendly, PDF & Email

ہم میں سے اکثر کی نظر سے نوجوان نسل سے متعلق تنقیدی تحاریر گزرتی ہیں جن میں نئ نسل کے روئیے ، کردار ، اخلاق کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن بہت کم ہی کوئی ایسی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں اس مسئلے کے ذمے داروں کا تعین کیا گیا ہو۔ جدید دنیا کی ترقی و تیزی ہمارے معاشرے پر بھی یقینا اپنے منفی و مثبت اثرات مرتب کر رہی ہے ۔ جس کا ایک اثر ہماری خواتین کی روزمرہ کی روٹین پر بھی پڑا ہے ۔ دس پندرہ سال پہلے تک آٹھ سے نو بجے کی انٹرٹینمنٹ اور ویک اینڈ کے ایک لانگ پلے کے ساتھ گزرنے والی پرسکون زندگی کا آغاز اب ان گنت چینلز کے مارننگ شوز سے ہوتا ہے ۔ کئی طرح کے ٹاک شوز ، کوکنگ شوز ، سوپ ڈراموں اورہفتہ وار ڈراموں پہ مشتمل روٹین میں بریکنگ نیوز کی دوڑ میں شامل نیوز چینلز بھی ہیں۔

ماں باپ (خصوصا ماں) کی یہ بڑھتی ہوئی مصروفیت ان کے اور ان کے بچوں کی تربیت کی راہ میں حائل ہوچکی ہے ۔ تربیت کا شمار اب بہترین اسکول کی تگڑی فیسیس اور ہر گلی محلے میں قائم ٹیوشن سینٹرز میں بچوں کو بھیج کر ان کے اچھے گریڈز تک محدود ہوگیا ہے ۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ہر خاندان بس اسی جدوجہد میں مصروف نظر آتا ہے ۔ اور یہی بچے جب نوجوانی کی سرحد میں قدم رکھتے ہیں تو ان کی زندگی کے اس اہم دور میں ان کی جذباتی تربیت کی فراہمی کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہیں نظر آتا۔ انہیں اسکول کے گریڈز اور کامیابی کی دوڑ میں شامل کرنے والے ماں باپ عمر کے ساتھ ان کے بدلتے ہوئےجذبات کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی انہیں زندگی گزارنے کے لئے یا رشتوں کو نبھانے کی مناسب تربیت فراہم کرنے پر توجہ دیتے ہیں۔

تربیت کی اس عدم دست یابی کے ساتھ نوجوان نسل کو ٹی وی ڈراموں اور فلموں کو دیکھنے کی آزادی انہیں ایک غیر حقیقی دنیا کا باسی بنا دیتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ فلمیں اور ڈرامے ان کی جذباتی تربیت کا ایک میڈیم بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی نسل کے تصورات زندگی، محبت ، شادی اور بچوں کے بارے میں غیر حقیقی یا افسانوی ہوتے ہیں۔ جس میں انہیں ایک افسانوی دنیا کے طرز کی آسائشیں تو نظر آتی ہیں لیکن زندگی کی اصل حقیقتیں کیا ہوتی ہیں اس بارے میں ان کی آگہی نہیں ہوپاتی ہے۔

اسی ضمن میں ہمیں ٹین ایج کے بچوں کے حوالے سے کچھ ایسے واقعات بھی سننے کو ملے جن سے اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلا نویں جماعت کے بچے کا اپنے ساتھی طالبہ پر گولیاں چلا کر خودکشی کرلینا۔ یا میٹرک کے امتحان میں پوزیشن نہ آنے پر خودکشی کرلینا۔ اس طرح کے واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ نوجوان نسل کو خود رو پودوں کی مانند چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سوائے ڈگریوں کے کاغذی پھولوں کے ان کی شخصیت میں کس قسم کی کمی ،خامی یا خرابی ہوتی ہے عموما والدین اس سے بھی آگاہ نہیں ہوتے جب تک کہ کسی واقعے کی وجہ سے وہ سامنے نہ آجائیں ۔

یہ بھی پڑھئے:   ان بارشوں سے کہہ دو کہیں اور جا کے برسیں

بچپن سے نوجوانی کی حدود میں داخل ہوتے بچوں میں تیزی سے رونما ہوتی جسمانی، ذہنی اور جذباتی تبدیلیوں کے پیش نظر ، ماں باپ کی ذمے داری ہے کہ نہ صرف ان کو جسمانی تبدیلیوں کے حوالے سے آگاہ کریں بلکہ ان میں پیدا ہونے والی جذباتی تبدیلیوں کے حوالے سے شعور پیدا کریں۔ بچوں اور بچیوں کے بارے میں یہ تصور کرلینا کہ وقت آنے پر انہیں سب کچھ خود بخود پتہ چل جائے گا، انتہائی غیر مناسب رویہ ہے۔ اپنے بچوں کو اگر اس حوالے سے شعور نہ دیا جائے تب وہ اپنے طور پر اس حوالے سے کسی اور طرح چیزوں کی آگاہی لینے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے لئے ضرر رساں بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

بڑھتی عمر کے بچوں میں اپنی مخالف صنف کی طرف رغبت پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے ۔ جس کے حوالے سے ماں باپ کو بچوں سے بات کرنی چاہیے کہ ہماری معاشرتی اور مذہبی روایات کیا ہیں۔ بے جا سختی یا انتہائی لاپرواہی دونوں ہی طرح کے روئیے اس حوالے سے مناسب نہیں ہوتے۔ بچوں اور بچیوں کو بلا امتیاز اس سلسلے میں شعور پیدا کرنا اور معاشرتی حدود سے آگاہی دینا از حد ضروری امر ہے ۔انہیں ٹین ایج میں اس تعلق یا رشتے کی حقیقتوں سے آگاہی دینا اس لئے ضروری ہے تاکہ انہیں علم ہو کہ زندگی پریوں کی کہانی نہیں ہوتی ۔ ہر لڑکی کوئی شہزادی اورلڑکا شہزادہ نہیں اسی طرح کے عام انسان کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتی ہے۔ انہیں علم ہونا چاہئے کہ زندگی ریسٹورنٹ کی ٹیبل پر کیا جانا والا کوئی لنچ ہے نہ آئسکریم کے کپ پہ تمام ہونے والی گپ شپ۔ حقیقتوں کی تلخی کو جاننا اور سمجھنا نوجوان نسل کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ کسی ڈگری کا حصول یا اچھے گریڈز کا لانا۔

اس طرح کی آگاہی سے نوجوان نسل کا اپنے ماں باپ سے جذباتی تعلق مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں اپنے والدین کی ان مشکلات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو ان کو بچوں کو پروان چڑھانے میں پیش آئیں۔ اور اس طرح وہ ماں اور باپ جیسے انمول رشتوں کی حقیقی قدر کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔نوجوان نسل سے زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے تاکہ وہ آگے چل کر جذباتی فیصلوں سے اپنی زندگی کو مشکل نہ بنائیں۔ اکثر جذباتی اور عجلت پسندی میں کئے گئے غلط فیصلوں کی وجہ زندگی کی حقیقتوں یا حقیقی مسائل سے آگاہی نہ ہونا ہوتی ہے ۔ اس لئے ماں باپ کو بچوں کی کامیاب معاشی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اس طرح کرنا چاہئیے کہ وہ جذباتی طور پر متوازن اور معاشرتی طور پر صحت مند روئیے کے حامل ہوں۔
اس کے ساتھ ہی بچوں اور بچیوں دونوں کو رشتے نبھانے کے حوالے سے بھی تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ذہنی ، جذباتی اور نفسیاتی طور پر مثبت اور متوازن انسان جسے زندگی کی اونچ نیچ کا علم ہو وہ رشتے نبھانے میں بھی متوازن رہتا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   قلم کار کے حصے کی شمع

درحقیقت اس قسم کی تربیت میں ماں اور باپ دونوں کا کردار اہم ہے لیکن ماں کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جہاں وہ بیٹیوں سے قریب ہوتی ہے اور ان کی تربیت کی ذمہ داری کو بہتر نبھا سکتی ہے وہیں وہ اپنے بیٹے کی بھی عورتوں کی عزت ان کے حقوق اور انُ سے سلوک کے حوالے سے بہتر کردار سازی کرسکتی ہے۔لہٰذا ماں باپ کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان نسل کو خود رو پودوں کی طرح نہ رہنے دیں ان کے قریب آئیں، انہیں دوست بنائیں اور ان کو اسکول کی کتابوں کے ساتھ ساتھ زندگی کو سمجھنے کے سبق اور رشتوں کے نبھانے کا فن بھی سکھائیں تاکہ وہ ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کے ساتھ ایک مثبت معاشرہ قائم کرسکیں۔

قلم کار کی دوسری سالگرہ کے موقع پر بہت سی نیک خواہشات۔ قلم کار اردو ویب سائیٹ کی دوڑ میں اپنی متوازن تحریروں کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ایک ایسی ویب سائیٹ جہاں پر تند و تیز تحریروں کی جگہ دھیمی ، سبک اور ہلکی پھلکی پر مزاح تحریروں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ سیاسی تجزئیے اور زندگی کے دیگر مسائل کا احاطہ کرتے آرٹیکلز کو ہی پبلش کیا جاتا ہے ۔
دعا ہے کہ قلم کار اسی کامیابی سے اپنا سفر جاری و ساری رکھے ۔ آمین

Views All Time
Views All Time
272
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: