میں اور میری قلم کار ٹیم

Print Friendly, PDF & Email

آج قلم کار کی دوسری سالگرہ کے موقعہ پر مجھ سمیت قلم کار کی تمام ٹیم اور قارئین کو بہت بہت مبارک ہو۔خاص طور ملک قمر عباس اعوان صاحب کو مبارک ہو۔ جن کی محنت لگن اور جنون سے یہ ادارہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ آج جب ہر طرف ویب سائٹس کا جھرمٹ ہے۔ اس میں مجھے اگر کوئ موضوع، ایڈیٹنگ، مواد اور سنجیدگی کے حوالے سے کسی بہترین ویب سائٹ کا پوچھے تو میں بلاشبہ قلم کار کا نام لوں گا۔ اس وجہ سے نہیں کہ میری قلم کار سے وابستگی ہے یا یہ میرے دوست کی ویب سائٹ ہے۔ میرا تقریباً سبھی ویب سائٹس پر لکھنے والے دوستوں سے پیار اور احترام بھرا رشتہ ہے۔ ایک قاری کی حیثیت سے میں نے شاید کم ہی کسی بھی ویب سائٹس پر تنقید کی ہو۔ لیکن میں سب ویب سائٹس کا باقاعدہ قاری ضرور ہوں۔ میرے خیال سے قلم کار پر آج تک ایسی کوئی متنازعہ تحریرنہیں لکھی گئی جس میں کمپنی کی مشہوری کے لئے کسی قسم کا مصالحہ لگایا گیا ہو یا کسی متنازعہ موضوع پر صرف ریٹنگ کی خاطر حقائق کو یک سر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہو۔

آج جب ویب سائٹس نظریاتی کمین گاہیں بن چکی ہیں۔ جہاں مخالفین کی تذلیل، نظریاتی مخالفین کی مخصوص انداز سے دھجیاں اڑانے کا گڑھ بن چکی ہوں۔ اس میں قلمکار ایک خوشگوار ہوا کا سا احساس دلاتی ہے۔ یار لوگوں نے قلم کار پر شیعہ ویب سائٹ ہونے کا الزام شاید کسی تعصب یا نفرت کی وجہ سے نہ لگایا ہو لیکن پھر بھی یہ الزام جہاں بھی پڑھتا ہوں مجھے ہنسی آتی ہے۔ ایران پر اردو میں جس قدر جامع اور شاندار تحریر مصلوب واسطی نے لکھی شاید ہی اس قدر جامع اور حقائق پر مبنی تحریر اردو میں آج تک کسی ویب سائٹ پر لکھی گئی ہو اور شاید کسی بھی ویب سائٹ پر اتنی تعداد میں اہل تشیع نے تنقید کی ہو جتنی اس ایک مضمون پر ہوئی تھی۔ پھر بھی دوست اگر اس پر شیعہ ویب سائٹ کا لیبل لگائیں تو وہ ان کی سوچ ہے۔ حالانکہ ایسے الزام سب پر ہی لگتے ہیں ،میں اس سب کو الزامات سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔

قلم کار سے میرا تعارف تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ایک مضمون زندان کی چیخ سے ہوا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ حیدر جاوید سید صاحب کی آپ بیتی کی ساتویں قسط تھی۔ پھر یوں ہوتا کہ ہفتے کے آخر پر جب ہم بالکل فارغ ہوتے تو قلم کار بس اس لئے سرچ کرتے کہ شاید زندان کی چیخ کی کوئی نئی قسط آ گئی ہو گی۔ زندان کی چیخ پڑھتے ہوۓ غائبانہ طور پر میں حیدر جاوید سید صاحب کا فین ہو گیا تھا۔ سوچتا تھا جب بھی ملتان گیا تو ان محترم سے ضرور ملوں گا۔ ان کی آپ بیتی پڑھتے ہوۓ میرے لاشعور میں کہیں ان کے بارے میں ایک راۓ پختہ ہو رہی تھی۔ جو آگے چل کر سچ بھی ثابت ہوئی کہ وہ پاکستان میں تاریخ، سیاست اور صحافت کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ ایک دن دوست کی وال پر کمنٹ کیا کہ یار مجھے بھی شاہ جی سے ملنا ہے۔ اگلے دن کمنٹ پڑھتے ہی شاہ جی نے ان باکس کیا اور بتایا کہ وہ شیخوپورہ رہتے ہیں۔ تو میں نے لاہور سے واپسی پر ان سے ملنے کا وقت لے لیا۔ وہ دن اور آج کا دن شاہ جی نے ایک بزرگ، بڑے بھائی دوست اور استاد کی طرح ہر موقع پر رہنمائی کی ہے۔ تاریخ، مذہب ثقافت و صحافت اور شاید ہی کوئی ایسا موضوع اور ذہن میں اٹھنے والا سوال ہو گا جو میں نے شاہ جی کے سامنے رکھا ہو اور انہوں نے اس کا تسلی بخش جواب نہ دیا ہو۔ بس اتنا کہوں گا کہ میرے لئے وہ خدا کی مجھ پر لاتعداد نعمتوں اور رحمتوں میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان کا لبرل کمرشل مافیا آج کل شعلے چبائے کیوں بیٹھا ہے؟

شاہ جی سے ملاقات کے ایک ہفتے بعد لاہور پریس کلب میں قلم کار کے روح رواں جناب ملک قمر عباس اعوان صاحب سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تو انہیں بہت سنجیدہ سلجھا ہوا اور ویب سائٹ سے متعلق بہت ایکٹیو پایا۔ ملک صاحب بہت اچھا مزاح لکھتے ہیں۔ سوشل ایشوز پر ان کی لکھی تحریریں بہت جامع اور دل پر اثر کرنے والی ہوتی ہیں۔ ملک صاحب چونکہ اب شُدہ اوہ سوری شادی شدہ ہو گئے ہیں۔ اس لئے کچھ زیادہ ہی مصروف بھی رہنے لگے ہیں۔ ملک صاحب کو دیکھ کر ایک سبق ضرور ملا ہے کہ شادی جب بھی اور جس کی بھی ہو پھر کنواروں والی آزادی نہیں ملتی۔ یہ شادی کے ہی اثرات ہیں کہ ہر جگہ سب سے پہلے پہنچنے والے جناب ملک قمر عباس اعوان صاحب شادی کے بعد اب کسی بھی پروگرام میں بمشکل کھانا ختم ہونے کے بعد ہی پہنچ پاتے ہیں۔ ملک صاحب نے اب تک جس محنت اور لگن کے ساتھ ویب سائٹ کو چلایا ہے۔ اس پر وہ واقعی تعریف کے مستحق ہیں۔ خاص کر ویور لینے کی خواہش کے باوجود جو کہ ایک فطرتی عمل ہے انہوں نے آج تک ایک بھی ایسی تحریر نہیں لگائی جو سستی ریٹنگز یا کسی قسم کے انتشار کا موجب بنے۔

قلم کار پر میں اگر شاہ جی کے بعد کسی کی تحریر شوق سے پڑھتا ہوں تو وہ عامر حسینی صاحب ہیں۔ عامر بھائ مظلوموں کے حق میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے والے چند لوگوں میں سے ہیں۔ وہ جس چیز کو ٹھیک سمجھتے ہیں اس موقف کے حق میں ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں۔ سچ کہوں تو مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں میری جو تھوڑی بہت معلومات ہیں۔ اس سے واقفیت عامر بھائی کے کالم پڑھنے کے بعد ہوئ تھی۔ عامر بھائ قلمکار کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ میرے نزدیک عامر بھائی قلم کار کی پہچان ہیں۔

قلم کار ٹیم میں شامل ہونے کے بعد ایک بات جو شدت سےمحسوس ہوئی کہ یہاں کسی طرح سے کسی کو بھی صنفی امتیاز حاصل نہیں ہے۔ ام رباب آپی کی تحریر تو کمال ہوتی ہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ ایڈیٹنگ کے ذریعے بہت سی تحریروں کی نوک پلک سنوار کر ان کو پڑھنے کے قابل بناتی ہیں۔ وہ ہماری ہیڈماسٹرنی ہیں جو ہماری ہر طرح کی غلطی پر نظر رکھتی ہیں۔ مجھے تو جب بھی ام رباب کے نام سے فیس بک کوئی بھی نوٹیفکیشن دے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ میں نے کہیں املا کی کوئی غلطی کر دی ہے۔ عام طور پر ہوتا ہے کہ لوگ برا منا جاتے ہیں لیکن مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی ہے جب بھی وہ میری اصلاح کریں۔ بلکہ اب تو باقاعدہ میں کوشش کرتا ہوں کہ کوئی غلطی نہ ہی کروں پھر بھی اس تحریر میں بیس تیس املا کی غلطیاں نکل ہی آئیں گی۔

یہ بھی پڑھئے:   سیکھنا اور سکھانا ایک مسلسل عمل ہے

فرح آپی اپنی شاندار شاعری کی طرح ان بے عنوان تحریروں کو خوبصورت عنوان دے کر تحریر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیتی ہیں۔ فیس بک پر اور حقیقی زندگی میں میں نے فرح آپی جتنے شفیق لوگ کم ہی دیکھے ہیں۔ دعا ہے کہ ان کی مصروفیات جلد ختم ہو جائیں تا کہ ہم ان کی تحریروں اور مشوروں سے مستفید ہو سکیں۔

زہرا تنویر اور مدیحہ آپی ملک صاحب کی مصروفیت میں ہماری تحریریں پبلش کرنے کا کام کرتی ہیں۔ زہرا آپی خود بہت عمدہ لکھاری ہیں اور مختلف اخبارات میں ان کی تحریریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اب قلمکار پر تحریریں باقاعدگی سے شائع ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ان کے آنے سے اب ایک سہولت ہو گئی ہے کہ پہلے جلدی پبلش کروانے کے نام پر دس گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا تھا اب ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی پبلش ہوجاتی ہیں۔
میثم زیدی شہسوار حسین اور وقاص اعوان بھائی کا ذکر کئے بغیر یہ تحریر مکمل نہیں ہو سکتی۔ شہسوار بھائی شاندار لکھاری ہیں۔ زندگی کے حقیقی تجربات، قبائلی علاقوں کی تاریخ اور اس سے جڑے حقیقی واقعات پر شہسوار بھائی کو مکمل دسترس حاصل ہے۔

میثم بھائی کی تعریف اس لئے تھوڑی کروں گا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ میں ان کی تعریف کر کے ان میں ہوا بھر دیتا ہوں۔ حالانکہ مجھے نہیں لگتا کہ اس کی ضرورت ہے۔ میثم بھائی کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایک جملے میں اتنی گہری بات کہہ جاتے ہیں کہ مجھ جیسے نالائق کے لئے اس کو سمجھنے میں بلامبالغہ گھنٹوں لگ جاتے ہیں اور سمجھ اس وقت تک کچھ بھی نہیں آتا جب تک کہ ان سے میسج کر کے یا ملاقات کر کے کچھ پوچھ نہ لوں۔ آخر پر دعا ہے کہ اللہ تعالی پنجتن پاک کے صدقے قلمکار فیملی کے تمام ممبران کی پریشانیاں دور کرے تا کہ ہم سب مل کر قلمکار کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کریں۔

Views All Time
Views All Time
246
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: