Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

سلگتے قلم

Print Friendly, PDF & Email

قلم رب العزت کا وہ تحفہ ہے جس سے کچھ افراد دل و جان کا رشتہ بنا لیتے ہیں اور کچھ بس شناسائی رکهتے ہیں ، قلم سے دوستی بچپن سے تهی لیکن دس سال پہلے بننے والی فیس بک آئ ڈی جب ایک سال پہلے دوبارہ فعال کی تو اتفاق سے پہلی تحریر قلم کار پر شاہانہ آپا کی پڑهی ، معلوم ہوا کہ قلم دوست افراد کے لئے ایک ویب سائٹ ہے ، نام بہت اچها لگا "قلم کار ” اس کے بعد مختلف تحاریر پڑهنے کو ملتی رہیں ، رباب آپا سے تعارف ہوا ، ان کی تحاریر پڑهیں ، بہت کچھ سیکهنے کو ملا ، سب سے خاص بات جو سیکهنے کو ملی وہ یہ کہ مختلف سماجی و معاشرتی مسائل کو مختلف زاویہ نگاہ سے کیسے دیکھا جاتا ہے ، کیسے احاطہ تحریر میں لایا جاتا ہے کیسے مختلف نکتہ نظر رکهنے والے افراد مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں ،اور انشاءاللہ امید ہے کہ ہم سب مل کر قلم کے ذریعے اپنے معاشرے اور سماجی سوچ میں ایک مثبت تبدیلی لے کر آئیں گے.

سوشل میڈیا پر لکهنے کے حوالے سے اکثر افراد کہتے ہیں کہ کیا فائدہ لکهنے کا ،حتیٰ کہ میری بچپن کی سہیلی بهی یہی کہتی ہے کس کام میں لگ گئی ہو ، سہیلی سمیت سب لوگوں کے لئے ایک چهوٹی سی کہانی پیش خدمت ہے .برطانیہ کے ایک ٹاون میں رہنے والا جارج باقاعدگی سے چرچ جاتا تها لیکن پهر اس نے جانا چهوڑ دیا کیونکہ وہ اکتا گیا تها پادری صاحب کے ایک جیسے خطابوں سے اور تبلیغ سے ، دو ماہ گزر گئے ، ایک سرد شام جارج کے دروازے پر دستک ہوئی ، جارج نے دروازہ کهولنے پر دیکها پادری صاحب کهڑے ہیں ، جارج نے سوچا اوہو اب یہ مجهے تبلیغ کریں گے اور دوبارہ چرچ آنے پر اصرار کریں گے ، وہ کوئی مناسب بہانہ سوچنے لگا اور پادری صاحب اندر آکر آتش دان کے قریب رکهی کرسیوں پر بیٹھ گئے ، جارج بهی ان کے قریب ہی رکهی کرسی پر بیٹھ گیا اور اس نے موسم کے متعلق بات شروع کرنا چاہی لیکن پادری صاحب خاموشی سے آتشدان کے جلتے کوئلوں کو دیکهتے رہے ، جارج چپ ہو گیا ، تهوڑی دیر کے بعد پادری صاحب نے راکھ الگ کرنے والی لکڑی سے ایک کوئلہ آتش دان سے الگ کر دیا ، کچھ دیر کے بعد کوئلہ ٹهنڈا ہو گیا، جارج نے جلدی سے کوئلے کو واپس آتشدان میں اچهال دیا وہ دوبارہ سے سلگنے اور جلنے لگا ، پادری نے کہا تم نے دیکها اکیلا کوئلہ کچھ بهی نہیں ہے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر روشنی اور گرمائش پیدا کر رہا ہے ، اگلی اتوار ہم چرچ میں ملیں گے، یہ کہہ کر وہ اٹهے اور چلے گئے .

یہ کہانی ہمیں ہماری ایک ٹیچر نے سنائی تهی، پهرطویل عرصے کے بعد یہ کہانی مسٹر پائلو کوئلو کے الفاظ میں پڑهنے کو ملی .اور آج مجهے ” قلم کار ” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر یاد آئی ، معاشرے میں ایک مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھانے میں "قلم کار ” اپنا کردار ادا کر رہا ہے دو سال کامیابی سے گزر گئے ، بہت سارے افراد نے لکهنا سیکها اور خود بهی لکهنا شروع کر دیا ، قلم کار کی ٹیم نے با صلاحیت افراد کو آگے بڑهنے کا موقع دیا ، رباب آپا ، زہرا تنویر ، قمر عباس ، اور دیگر ٹیم ممبرز سمیت پوری ٹیم کو دوسری سالگرہ کی بہت بہت مبارک باد ، دعا ہے کہ "قلم کار ” پر ترقی کی نئی راہیں کھلیں اور سارے قلم کاروں کا زور قلم مزید روشن و افزوں ہو .(آمین)

سب پڑهے لکهے اور باشعور افراد کو چاہیے کہ قلم کی جد و جہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں تا کہ حقوق کی ادائیگی اور قوانین کی پاسداری کے لئے لکها جاتا رہے اور علم و قلم کا حق ادا ہوتا رہے . بہت بہت مبارک باد ، دعائیں اور دلی تشکر کہ مجھے بهی لکهنے کا موقع دیا .

Views All Time
Views All Time
242
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   کار مرداں روشنی و گرمی است

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: