Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

میں پیدل چلا کربلا – سفرِِعشق – حنان صدیقی

by نومبر 21, 2016 بلاگ
میں پیدل چلا کربلا – سفرِِعشق – حنان صدیقی
Print Friendly, PDF & Email

hannan-siddiquiخداوند متعال نے انسان کو عجیب الفطرت خلق کیا اور اس کو عقل و شعور جیسی دولت سے سرفراز کرکے اشرف المخلوقات قرار دیا. اپنے ودیعت کردہ انبیاء اور اولیاء کے ذریعے، عام انسانوں تک اپنا پیغام پہنچایا اور ہر کسی کو عقل و شعور کی بناء پر مکمل اختیار دیا کہ حق و باطل کی پہچان کر کے زندگی کے سفر کو بخوبی طے کرے۔ محبت و نفرت کا مادہ بھی انسان کی فطرت میں شامل ہے، عقل و شعور کے سہارے،جس سے چاہے محبت کرتا ہے اور جس سے چاہے نفرت کرتا ہے۔

محبت، عقیدت، عشق، لگن، محنت، شجاعت، ایثار و قربانی کی مثال دیکھنی ہے تو آئیں کربلا میں دیکھیں جہاں اب تک بیس سے پچیس ملین کی تعداد میں ، سیدالشہداء، محسن انسانیت مولا امام حسین(ع) کے زائرین امام کے حرم کی جانب گامزن ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. زائرین کی اکثریت موسم اور دہشت گردی کے حملوں کی پروا کئے بغیر نجف سے کربلا ،پیدل چل کر آتی ہے۔ اگر جائزہ لیا جائے تو عراق کے حالات، داعش اور وقت کے یزید پرستوں کے خوف و خطر کی وجہ سے ناگفتہ بہ ہیں لیکن زائرین کو چاہے جتنا ڈرایا اور دھمکایا جائے پھر بھی بوڑھے، جوان، معذور و ناتواں، صحتمند، عورتیں بمعہ شیر خوار بچے، نجف سے کربلا تک بلا خوف و خطر عازم سفر ہوتے ہیں اور ہر سال پہلے کی نسبت زیادہ جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے ۔ لبیک یا حسین(ع) کے فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ

"پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا”

پچھلے سال بھی امریکی میڈیا کے مطابق یہ اجتماع دنیا کے تمام مذہبی اجتماعات سے بڑا قرار پایا لیکن یہ امام کے زندہ معجزوں میں سے ہے کہ اتنی کثیر تعداد ہونے کے باوجود نہ کہیں بدنظمی ہے نہ ہی بے سکونی اور صرف شیعہ نہیں بلکہ سنی اور غیر مسلم سب کے سب، سیدالشہداء کی بارگاہ اقدس میں نذرانہءعقیدت پیش کرنے آتے ہیں کیونکہ حسین(ع) کسی خاص مسلک کے امام نہیں بلکہ انسانیت کے محسن و مونس ہیں۔ بقول شاعر

"انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسین(ع)”

مزید برآں یہ کہ اہل کربلا کی طرف سے زائرین کو ہر قسم کی سہولیات بلا معاوضہ بلکہ عینی شاہدین کے مطابق منت سماجت کر کے فراہم کی جاتی ہیں.

ایک طرف حج کے موقع پر سعودی حکمرانوں کی نا اہلی اظہر من الشمس ہے. پچیس سے تیس لاکھ حجاج نہیں سنبھالے جاتے اور بھگدڑ کے نتیجے میں ہزاروں حجاج کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں ۔ حج کے موقع پر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی مہنگے داموں ممکن ہوتی ہے تو دوسری جانب اربعین کے موقع پر کربلا میں بیس پچیس ملین سے زائد تعداد کے باجود نہ کوئی بھگدڑ ہے نہ ہی بدنظمی. کربلا والوں کے ایثار کو دیکھئے کہ اپنی مدد آپ کے تحت زائرین کے لئے بچوں کے پیمپرز سے لے کر اعلی اور عمدہ کھانوں تک، ہر سہولت کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے مزید یہ کہ عراقی علماء اور ارب پتی لوگ بھی زائرین کی خدمت کرنا اور بالخصوص پاوں دبانا اپنے لئے سعادت عظیم سمجھتے ہیں.

یہاں پر الباکستانی میڈیا کی بے شرمی اور بے حسی کا تذکرہ کرنااز حد ضروری ہے ۔یہ میڈیا جو معمولی اور بے وقعت خبروں سے لے کر کسی کے نجی معاملات کو اچھالنے تک کی خبر کو سب سے پہلے نشر کرنا اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے، اسے کربلا کے اتنے عظیم اور پر خلوص اجتماع کو کوریج دینے کی توفیق نہیں ہوتی. اسی جانبداری سے آزادانہ میڈیا کے دعووں کی وقعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
میڈیا کے کرتا دھرتا اگر اتنے عظیم اجتماع کی خبر کو بھی تفصیلا دنیا تک پہنچا دیں تو حق پرستوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملے گی.

آخر میں خداوند متعال سے نہایت عاجزانہ دعا ہے کہ مولا حسین(ع) اور شہدائے کربلا کے صدقے ہر شخص کو یہ عظیم سعادت نصیب ہو اور ہر بندہ یہ صدا بلند کرے کہ

"ناز قسمت پہ کرتا ہوا، میں پیدل چلا کربلا”

Views All Time
Views All Time
315
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   رنگون: ایک ایسی فلم جو بھلادئے گئے تاریخ کے باب یاد دلاتی ہے - عامر حسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: