اک فتوے کی مار ہو تم

Print Friendly, PDF & Email

Haider Javed Syedتطہیر سماج جن کی ذمہ داری تھی ان کی مصروفیات سوا ہیں۔ سو حالت یہ ہے کہ صاحبانِ اولاد خصوصاََ بچیوں کے والدین پل پل جیتے اور مرتے ہیں۔ ادھر عالم یہ ہے کہ اہم مذہبی جماعت کے رہنما یہ فرماتے ہوئے پائے گئے کہ ’’ بے راہ روی کی وجہ یہ ہے کہ بچیاں پردہ نہیں کرتیں‘‘۔ سوال یہ تھا کہ’’ ایسا کیوں ہے کہ پانچ سال کی بچی بھی غیر محفوظ‘‘؟ جواب جو انہوں نے دیا لکھ چکا۔ سر دھنیے اس پر ۔ سارے جہاں کا درد تو ہمارے جگر میں ہے، مقبوضہ کشمیر، شام، عراق، مصر، افغانستان، برما اور پھر پڑوسی ملک کی مسلمان اقلیت۔ ان کے درد میں کڑھنے والوں نے اپنے گھرکی دہلیز کے باہر بننے والے ماحول کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔طالب علم یہی سمجھ پایا ہے کہ ’’لگے رہو منابھائی‘‘ ٹائپ اندھی تقلید وارے کھاتی ہے۔ لمحہ بھر کے لئے تسلیم کر لیتے ہیں پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ غیر اسلامی معاشروں پر انگلیاں اٹھانے والے کبھی گریبان میں جھانکنے کی زحمت کریں تو ان پر آشکار ہو کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر رہ گئے ہیں ہم۔ انسانیت سے بھی گئے۔ عجیب بے حسی ہے۔ فقط چند دنوں کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجیئے۔ ۵ سے ۱۷ سال کی بچیوں سے ہوئے ناروا سلوک کے ۵۰ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد وہ ہے جو رپورٹ ہوئی۔ غیرت، عزت اور ان سے جڑے معاملات کی بدولت جن واقعات کو دبا لیا گیا وہ بھی رپورٹ میں شامل ہوتے تو کیاہوتا۔ اب پوچھئے مصر، برما، شام اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے غم میں ہلکان ہوتے ہوئے جانبازوں سے۔ دکھائی دیا، کچھ سنائی دیا اور کچھ پڑھا آپ نے؟ کب تطہیر سماج کا جہاد شروع کر رہے ہیں؟
مگر کیا ذات کے سنوارے بنا بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے؟ ہم کیا کریں اس سوچ کا۔ مرنے والا کوئی میرا بھائی ، ہم عقیدہ اور برادری والا تھوڑاہی تھا۔ ارے وہ تو ایک کمی کی بچی تھی۔آج ہم چپ ہیں۔ کل ہماری باری پر وہ سارے چپ ہوں گے۔ جدید تحقیق کے استفادے کو بے راہ روی کا نتیجہ قرار دینے والوں کو اتنی سی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ اگر تربیت کا حق ادا ہو جائے تواستفادہ صحیح سمت کی رہنمائی کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ لاؤڈ سپیکر کو شیطانی ڈھول کہا گیا۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ مسجد کی جس سمت سے چندہ کم آتا ہو سپیکروں کا رخ عین اس طرف ہوتا ہے۔ کیوں؟ وجہ خود سمجھ لیجیئے۔ ارے ہاں کبھی علامہ اقبال کی نظم ’شکوہ‘ بھی تو کھلے الحاد کا نمونہ قرار پائی تھی۔ ’جواب شکوہ‘ نے مشرف بہ اسلام ہونے میں مدد دی ورنہ لگ پتہ جاتا ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال کو۔ گفتگو موضوع سے کچھ ہٹ سی گئی ۔ یہ قائدین جنہوں نے ہماری دنیا سنوارنے کے ساتھ آخرت کا ٹھیکہ بھی پول سسٹم کے تحت خود ہی لے لیا ہے ، سسکتی ہوئی انسانیت کا نوحہ کیوں نہیں سنتے؟ آخر کس دن ان کو یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ جن کندھوں پر چڑھے یہ لیڈری فرماتے ہیں یہ بھی ان کے فکری ہم نوا ممالک کے لوگوں کی طرح انسان ہی ہیں۔ مگر کیا کریں صاحب! ساری تاریخ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے اور تڑوانے سے بھری پڑی ہے۔ جہاں بانی کا کام لینا ہے ہم سے قدرت نے۔ جہاں بانی میں ہمارا گھر، محلہ، شہر اور ملک تو آتا ہی نہیں۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ اسلام سرحدوں کا قائل نہیں اس لئے مصر میں ظلم کرنے والے مردہ باد، شام میں ظالم مردہ باد ۔ اور یہ جو ہمارے یہاں نفسا نفسی، استحصال، ظلم اور خرابیاں ہیں، ایسا بھیانک ماحول جس میں ۵ سال کی بچی محفوظ نہ ہو یہاں اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟ آسمان سے فرشتے اتریں گے؟ سوال کیجیئے۔ ایک فتویٰ کی مار ہیں آپ۔ بدعقیدگی کی پھکی تو کبھی بھی کہیں بھی مل سکتی ہے۔اچھا یہ فقط ہمارے عہد کی بات ہر گز نہیں۔ دستیاب تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجیئے ہر دور میں سوال کرنے کا شعور بدعت سمجھا گیا۔ کبھی کبھی تو کفر و الحاد کا جڑواں بھائی بھی۔ مگر لوگ ہیں کہ چپ نہیں رہتے۔ بولتے ہیں، پربولتے وہی ہیں جو عقل کی بالادستی کے قائل ہیں۔ سبق رٹوائے جاتے ہیں کہ عقل گمراہ ہوتی ہے، تقلید بے نیاز۔ بڑے شوق سے ہم نسل در نسل پرکھوں کی بت شکنی کے قصے سناتے ہوئے جھومتے ہیں۔ قصوں پر ہی جھومتے ہیں ورنہ عملی طور پر تو ہر شخص نے اپنا ایک بت سینے سے لگا رکھا ہے۔ صبح و شام اٹھتے بیٹھتے پوجتے ہیں۔ غرض مند دیوانے ہوتے ہیں لیکن کیسی غرض مندی بت پرستی میں۔ کبھی چند ساعتیں نکال کر غور کر لیجیئے سب صاف سمجھ آجائے گا۔ بت پرستی کے جڑواں بھائی کا درجہ رکھنے والی شخصیت پرستی کوپروان چڑھانے والوں کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمیوں کو انسان نہ بننے دیا جائے بلکہ ریوڑ کی صورت میں ہانکا جائے۔ صدیوں سے یہی ہو رہا ہے اور اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ہم میں سے ہر شخص ان زنجیروں کو توڑنے اور کامل آزادی کے حصول کے لئے اٹھ کھڑا نہیں ہوتا۔ تاریخ کے سارے ادوار کی طرح ہمارے عہد کا مسئلہ یہی ہے۔ کشمیریوں کو رعایا کا درجہ دینے کی راہ کھوٹی کی جاتی ہے۔ رعایا کمیوں کی طرح جیتے رہنے سے انکار کی مالا جپتی ہے۔ شعور کے نئے در وا ہوتے ہیں۔ آگہی مکالمے کا دروازہ کھولتی ہے۔ مکالمہ سچ جھوٹ میں تمیز عطا کرتا ہے۔ اسی لئے تو ہر دور میں کوشش یہ ہوتی ہے (آج بھی ہو رہی ہے) اپنا جھوٹ،سچ اور دوسرے کا سچ جھوٹ لگے ہی نا بلکہ اس پر مصر ہوا جائے۔
یہ عرض کیے بنا رہا نہیں جا سکتاکہ بہت ہو گیا۔ اب اس جہالت، خودغرضی، بت پرستی سے عبارت شخصیت پرستی، اندھی تقلید، جبرواستحصال، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی بالادستی کے خلاف نعرہ مستانہ بلند کرنا ہو گا۔چند طبقات اور بالخصوص چند خاندانوں کی اجارہ داری توڑنا ہوگی۔ تعصب برائے نفرت کے دھندے بند کروانے ہوں گے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ اور دین و دنیا کی رہنمائی کے دھندے بازوں سے سوال کیا جائے کہ صاحب و حضرت! آپ اور آپ کا خاندان کوئی منتخب مخلوق ہے؟ ہم کیوں نہیں؟ آسمانی تحریر ہے کیا آپ کے پاس کہ ہم گردنیں نہواڑے نسل در نسل آپ کے پیچھے چلتے رہیں؟ یقین کیجیئے جس دن ہم نے سوال پوچھنے کی ہمت کر لی کامل آزادی کا ابتدائیہ لکھ پائیں گے۔ یہ جنہیں ہم نجات دہندہ سمجھے ہوئے ہیں یہ استحصالی طبقات کے لوگ ہیں۔ ان کے جانوروں کا رہن سہن ہمارے پھول سے بچوں سے اچھا ہے۔ غور تو کیجیئے۔ ’دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں‘ والی صورت کیوں ہے؟ زمین اور مخلوق اللہ کی ہے تو وسائل سانجھے اور حق اقتدار بھی۔ ہم فقط اقتدار کی جنگوں کا ایندھن اور حاکمیت کے لئے اترے ہیں آسمان سے، کس کتاب میں لکھا ہے؟ سب ڈھکوسلے ہیں فاقہ مستوں کو بہلانے کے۔ سو ان ڈھکوسلوں پر مزید پابجولاں رقص سے انکار ہی ہماری آئندہ نسلوں کو آزادی، عزت، وقاراور تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ طالب علم کو احساس ہے کہ موضوع خشک اور باتیں کسیلی ہیں لیکن کرنا تو پڑیں گی۔ آواز اٹھانا پڑے گی، بغاوت لازم ہے۔ لکھ کر رکھ لیجیئے زمین زادوں اور بالادستوں کے مفادات مشترکہ ہرگز نہیں۔ کس خوبصورتی کے ساتھ وہ اپنے ساجھے داروں کے ذریعے بالادستی اور حاکمیت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ وقت نکل گیا تو ان بالادستوں کی گرفت مزید مضبوط ہو جائے گی۔
حرفِ آخر یہ ہے کہ چہرے نہیں سماج اور نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ حبس بڑھ جائے تو لُو کی دعا مانگنے سے بہتر یہ ہوتا ہے کہ ماحول کو تبدیل کرنے کے لئے شعوری طور پر کوشش کی جائے۔ بصورت دیگر یہی ہو گا جو ہو رہا ہے اور ہوتا چلا آرہا ہے۔ فیصلہ کیجئے اور اناالحق کی صدا بلند کیجیئے۔ تاج اچھالئے اور تخت الٹادیجیئے۔

Views All Time
Views All Time
711
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   آپریشن فرات شیلڈ : ترکی آگ سے کھیل رہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: