Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سعودی قطری تنازعہ – چولی کے پیچھے کیا ہے؟ | حیدر جاوید سید

سعودی قطری تنازعہ – چولی کے پیچھے کیا ہے؟ | حیدر جاوید سید

امریکہ بہادر کی قیادت اور سعودی عرب کی سرپرستی میں جمع ہوئے مسلم ممالک کا جو پہلا فیصلہ سامنے آیا وہ سعودی عرب سمیت چھ مسلم ممالک کا قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کرنا ہے۔ سفارتی تعلقات منقطع کرنے والوں میں مالدیپ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے جیسے ’’سارے سوار دلّی جا رہے ہیں‘‘۔ مسلم دنیا میں آزاد منش ملک کتنے ہیں اور کتنے نئی دھڑے بندیوں کا حصہ یہ ایک ارب ڈالر کا سوال ہرگز نہیں۔ البتہ جو چیز حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے قطر کو صلح کے لئے کویت کی معرفت جو شرائط بھجوائی ہیں۔ ان میں ایک شرط فلسطینی تحریک آزادی میں نمایاں مقام رکھنے والی تنظیم حماس سے قطع تعلق بھی شامل ہے۔ کیا نیا مسلم اتحاد تحفظِ اسرائیل کے لئے معرضِ وجود میں آیا ہے؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ بلادِ عرب میں کتنے ممالک ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے بغیر سانس لے سکتے ہیں ؟ کوئی بھی نہیں۔ اچھا جو سانس لے سکتے تھے مثلاََ شام، عراق اور لیبیاء ان کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ مصر میں سعودی نواز کمانڈر انچیف السیسی اقتدار پر قابض ہیں۔ قطر سعودی تنازعہ میں ترکی اور ایران قطر کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ عجیب بات ہے کہ قطر اور ترکی شامی میدان جنگ میں بشار الاسد کے اتحادی ایران کے مخالف ہیں۔ قطر کے شاہی خاندان کا ٹرسٹ بشار مخالف جنگجوؤں کی تنظیم جیشِ النصرہ (اب جیشِ شام) جسے عام طور پر النصرہ فرنٹ بھی کہا جاتا ہے کو دو ارب ڈالر سالانہ امداد دیتا ہے۔ النصرہ فرنٹ کی یہ امداد 2011ء سے جاری ہے۔ امریکی حکام خود یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ بشار مخالف عسکریت پسندوں کی مالی امداد امریکی رضامندی سے ہو رہی ہے۔ ترکی بھی قطر کی طرح النصرہ فرنٹ کے گاڈ فادروں میں شامل ہے۔ 2015ء میں ترکی نے النصرہ کے ساتھ داعش سے بھی مراسم بڑھائے۔ دولتِ اسلامی عراق و شام سے یہ مراسم خلیفہ اردگان کو بہت راس آئے۔ 2015ء اور 2016ء میں خلیفہ کے صاحبزادے اور داماد کی آئل کمپنی نے داعش سے ساڑھے چھ ارب ڈالر کا تیل خریدا۔ چوری کے تیل کا سب سے بڑا خریدار اُمہ کے محبوب خلیفہ اردگان کا خاندان تھا۔ 2017ء کے آغاز پر بلکہ پچھلے سال کی آخری سہ ماہی میں ترکی نے داعش کے معاملے میں یوٹرن لیا اور شام میں اس کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیئے۔ حالانکہ اس سے قبل ترکی نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے والے روسی بمبار طیارے کو مار گرایا تھا۔
داعش کے معاملے میں ترکی کی پالیسی میں تبدیلی اس وقت آئی جب داعش نے ترکی کے اندر کارروائیاں شروع کردیں حالانکہ کہ اس سے قبل ترکی داعش کے مجاہدین کے لئے لانچنگ پیڈ تھا۔ ایران شام میں بشار الاسد کے ساتھ کھڑا ہے۔ لبنانی حزب اللہ بھی بشار کی اتحادی ہے۔ مگر سعودی قطر تنازعہ میں شامی میدان جنگ کے مخالف اتحادیوں کے ساتھ ایران کا کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ممالک کی خارجہ پالیسیاں مذہبی و مسلکی عقیدتوں کے جنون سے نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات پر استوار ہوتی ہیں۔ اس صف بندی میں ہمارے (پاکستان کے) پالیسی سازوں کے لئے بہت سارے اسباق موجود ہیں مگر یہ ضرورت سے زیادہ ’’پڑھے لکھے ہیں‘‘اس لئے اسباق سے زیادہ مفادات اور وہ بھی ملکی نہیں گروہی مفادات پیشِ نظر رکتھے ہیں۔ قطر کے شاہی خاندان نے اپنی سیاسی اور علاقائی اور بین الاقوامی ترجیحات سعودی کیمپ سے جدا رکھیں تو زیرِ عتاب آیا۔ ہمیں اس معاملے کے ایک دوسرے پہلو پر بھی نگاہ رکھنی ہو گی۔ وہ یہ کہ قطر، ترکی اور ایران کی طرح مصری اخوان کا پرجوش حامی ہے ۔ جنرل عبدالفتاح سیسی نے جب اخوان کے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو سعودی عرب ، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات نے راتوں رات مجموعی طور پر سیسی حکومت کو بارہ ارب ڈالر نقد دیئے تھے۔ بلاد عرب کی ریاستوں میں قطر وہ واحد ملک تھا جس نے سعودی عرب کے اعلان کردہ ۱۵ ارب ڈالر میں اپنے حصے کے تین ارب ڈالر دینے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اخوان کے سینکڑوں لوگوں کو پناہ بھی دی۔ سعودی عرب نے داعش کے ظہور پر قطری حکمران خاندان سے کہا تھا کہ وہ النصرہ کو دی جانے والی امداد روک دیں۔ یہ کہ النصرہ داعش میں ضم ہو جائے یا پھر اس کے انکار کی صورت میں داعش کی مدد کی جائے ۔شام میں اپنے سیاسی مفادات کے پیشِ نظر قطر نے اس وقت سعودی احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح عراق میں قطر جن سیاسی اور عسکری گروہوں سے تعاون کرتا ہے سعودیہ کے نزدیک وہ ایران نواز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودیہ کی شرائط میں حماس اور اخوان کی مدد بند کرنے کے ساتھ عراق کے ایران نواز گروپوں کی سرپرستی ترک کرنے اور ایران سے تعلقات ختم کرنے کی شرائط بھی شامل ہیں۔ خطے میں طویل عرصہ سے امریکی فوجی کیمپ کا کردار ادا کرتے قطر کے لئے سعودی شاہی خاندان کی باج گزاری قابلِ قبول نہیں تو یہ اس کے اپنے سیاسی مفادات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلم دنیا میں اس نئی تقسیم سے جو اسرائیل نواز پالیسی سامنے آئی ہے اس پر کوئی اچھنبا ہر گز نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ محض ڈیڑھ گھنٹے میں قطر سے سفارتی تعلقات ختم کر کے سخت فیصلوں کا اعلان کرنے والے سعودی عرب اور اس کے حواری ممالک پچھلے ستر سالوں کے دوران ایک بار بھی اس طرح کے جوش و جذبے کا اسرائیل کے خلاف مظاہرہ نہ کر پائے۔ جملہ مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ و مدینہ کی سعودی عرب میں موجودگی کی وجہ سے شاہی خاندان خود کو مسلمانوں کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھتا ہے۔ اس ملکیت اور ملوکیت کو شرعی جواز فراہم کرنے کے لئے وہابی ازم کے فروغ میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نئی صف بندی سے مسلمانوں کے لئے خیر کا پہلو برآمد نہیں ہو گا اس کے باوجود کچھ لوگ اگر معروضی حالات کو سمجھے بغیر محض مسلکی جنون پر دھمال ڈالنا چاہتے ہیں تو خوشی سے شوق پورا کر لیں۔ سعودیہ کے حامی ’’مقدس‘‘ روایات تلاش کر کے لائیں۔ لیکن یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ مسلم امریکی کیمپ کے فیصلے اسلامی دنیا میں نئے بحرانوں کو جنم دیں گے۔ نئے مسائل سر اٹھائیں گے۔ ہم تہران اور کربلاکے حالیہ واقعات کو اسی تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دوسروں کے گھروں میں آگ لگوانے والوں کے اپنے دامن محفوظ رہے؟ جواب نفی میں ہے۔ مسلم دنیا میں خانہ جنگی کے نئے بیج بوتا امریکہ مسلم اتحاد کاش یہ سوچ پائے کہ آگ کے شعلے بلند ہوئے تو سب کے گھر جلیں گے۔

مرتبہ پڑھا گیا
2351مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: