Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ترقی کی جعلی داستانیں | حیدر جاوید سید

ترقی کی جعلی داستانیں | حیدر جاوید سید

ترقی یافتہ پنجاب کی حالت یہ ہے کہ 5ماہ سے سابق بلدیاتی سکولوں کے پنشنرز کو پنشن نہیں ملیں ۔ مگر لاہور کی ویسٹ منیجمنٹ کمپنی (ٹھیکیدار کمپنی اصل میں ترکی کی ہے ) مالیاتی اداروں سے 30ارب روپے کے قرض لے کر ہڑپ کر گئی ۔ کس قاعدے اور قانون کے تحت ؟ ۔ معاف کیجئے گا سوال کرنا منع ہے ۔ بالخصوص سوشل میڈیا پر کیوں وزیرداخلہ فرماتے ہیں کسی کی پگڑی اچھالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ بجا ہے حضور ماڈل ٹاؤن میں چودہ لاشیں گرانے کے لئے اجازت نہیں لینا پڑتی ۔ کیسی عجیب سیاست کی دنیا ہے ۔ وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کہتے ہیں ۔ کسی قسم کی معلومات کے لئے انہیں تین دن پیشگی بتا یا جائے ۔ یعنی جواب کے لئے تین دن کی مہلت ۔ ارے کیوں ۔ کیا باقی کے ملزمان کو یہ سہولت دی جا سکتی ہے ؟ ۔ اس جملہ معترضہ کو یہیں چھوڑیئے۔ ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں ۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی 3ارب سے کم کے اخراجات والی کمپنی ہے صفائی کا ٹھیکہ ترکی کی کمپنی کے پاس ہے ۔ قرضہ 30ارب روپے ۔ اندھیر نگری اور کسے کہتے ہیں ۔ مگریہاں لطیفے ہوتے ہیں ایک لطیفہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے نے انہیں 86کروڑ روپے تحفے میں دیئے ۔ آگے بڑھیئے ۔ کیا کیجئے ۔ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں معزز محترم اساتذہ کرام سے کبھی پولیو کے قطرے پلوانے کبھی ڈینگی سروے کروانے اور پھر مردم شماری کروانے کے کام لیئے جاتے تھے اور اب پنجاب میں سکولوں کے اساتذہ رمضان بازاروں میں شکایات کے اندراج کا رجسٹر لے کر بیٹھے ہیں ۔ بعض اساتذہ کی ڈیوٹی فلور ملوں کے گیٹوں پر آٹا شماری کے لئے لگائی گئی ہے ۔ کیا شاندار مقام ہے اساتذہ کا ۔ سقراط نے سچ میں کہا تھا ۔ تاجر حکمران ہو جائیں تو اخلاقی قدریں تما شا بن جاتی ہیں ۔ کاش سیاسی جماعتوں کو اینڈ سنز بنا کر پارٹیوں اور اقتدار کوخاندانوں تک محدود کرنے والوں نے ٹھنڈ ے دل سے کبھی سماج سدھاری اور تعمیر نو بارے بھی سوچا ہوتا ۔ بہت ہنسی آتی ہے جب لوٹ مار کے سفید چٹے مقدمے کے حق میں درجنوں سیاسی کمی اچھل اچھل کر دلائل دیتے ہیں ۔ ایک بی بی کل کہہ رہی تھیں حسین نواز نے جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ میں پیش ہو کر تاریخ رقم کر دی ۔ سیاست کاروبار ہو تو پھر منشی گیری رواج پاتی ہے ۔منشی کوہر حال میں مالک اور مالک کے مال کی صفائی دینا پڑتی ہے تنخواہ اس چیز کی لیتے ہیں وہ ۔ کل تک کہا جارہا تھا ہمارے پاس ہر سوال کا جواب اور ہر چیز کے ملکیتی کاغذات ہیں ۔ اب کہتے ہیں جو پوچھنا ہے تین دن قبل لکھ کر دیں ۔ سبحان اللہ کا ورد تو بنتا ہے اس منطق پر ،سادہ ساسوال ہے کوئی دو جمع دو کا فارمولہ نہیں ۔ ایٹم بم دھماکوں کے بعد قرض اتارں ملک سنوارو کے نام پر لی گئی رقوم کہا ں گئیں ۔ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس منجمند کئے گئے وہ ڈالر ۔ پھر پاؤنڈ ز وغیرہ کس کے کھاتے میں پڑے ؟ ۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے اسحٰق ڈار کا ایک بیان حلفی (دفعہ 64کا بیان )بھی موجود ہے پھر بھی دعویٰ ہے پار سائی کا ۔ کیسی دلنواز پارسائی ہے سرکار کے توسط سے رائے ونڈ کی جوجا گیر کوڑیوں کے مول خرید ی گئی اگر فقط کوئی غیر جانبداری سے اس کی تحقیقات کر لے تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔

جناب نواز شریف کہتے رہتے ہیں ، پیپلز پارٹی کے دور میں سکینڈ ل سیلاب کی طرح آتے تھے ہمارا کوئی سکینڈل نہیں ۔ جان کی امان ہو میں تو یہ دریافت کر لوں لاہور شیخوپورہ روڈ پر پاک چائنہ گارمنٹ سٹی کے لئے جو 12سو ایکٹر اراضی ایکوائر کی گئی تھی وہ کہاں گئی ۔ کیونکہ گارمنٹ سٹی کا منصوبہ منسوخ ہوگیا ہے ؟ ۔ ہم سادہ لوگوں کو بس کوئی اتنا بتا دے کہ اس ایکوائر اراضی میں سے بیگم کلثوم نواز اور میاں منشا نے کتنے سو ایکٹر اراضی 10سالہ لیز پر حاصل کی ؟ ۔ ویسے ایک سوال یہ بھی بنتا ہے کہ شریف خاندان کے بنائے گئے منصوبوں میں سے اکثر کے کاغذات کیوں جل جاتے ہیں ؟ لاہور مال خانے کی آگ اور میٹرو منصوبے کا ریکارڈ جلنے کی واردات دو مثالیں ہیں ۔  ایک زمانہ تھا جب نظریات ہوا کرتے تھے ۔ تب پارٹیوں کے اندر اختلاف رائے برداشت کیا جاتا تھا ۔ باہر سے ہوئی تنقید کوتحمل سے برداشت کر کے جواب دیا جاتا تھا۔ اب زمانہ یہ ہے کہ کسی پارٹی مالک کے بارے بات کر کے تو دیکھئے لگ پتہ جائے گا ۔ پانامہ کیس اب جے آئی ٹی کے مر حلہ میں ہے نصف درجن ہتھکنڈے آزمانے کے بعد اگلے روز ایک درباری اور رجعت پسند صحافی کے ذریعے ایک خبر شائع کروائی گئی ۔ یہ وہی حضرت ہیں جنہوں نے چند برس ادھر کسی دوسرے محنت کش صحافی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ اپنے نام سے شائع کروائی تھی۔ محنت کش صحافی نے احتجاج کیا تو بات بات پر شریعت کے حوالے دینے والے بولے تمہیں جا نتا کون ہے ؟ ۔ یہ قصہ درمیان میں یونہی آگیا ۔ نون لیگ اور درباریوں کو اب سپریم کورٹ کی نا مزد جے آئی ٹی کو تنازعہ بنانے کے لئے رپھڑ ڈالیں گے ۔ شریف خاندان کے زیر بار میڈیا ہاؤس کے ایک ملازم کی خبری کارروائی اسی رپھڑی منصوبے کا حصہ ہے ۔ پنجاب ہی نہیں پچھلے چار سالوں میں پاکستان نے ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔ اس ترقی کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ شہری علاقوں میں 10سے 14گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 12سے 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے ایک کول پاور پلانٹ کی تصویر وزیر اعظم کی صاحبزادی نے ساہیوال کول پاورپلانٹ کے نام سے جاری کر دی ۔ پٹواری داد پر داد دیتے ہلکان ہو رہے تھے کہ کسی ستم ظریف نے تصویر میں ہوئی جعلسازی کی نشاندہی کر دی۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ ترقی کے سارے ٹو پی ڈرامے اس جعلی تصویر کی طرح ہیں ۔

 

Views All Time
Views All Time
591
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: