Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

فساد فی الارض کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے | حیدر جاوید سید

فساد فی الارض کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے | حیدر جاوید سید

مختلف مسالک کے 31 سے زیادہ علمائے کرام کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اعلامیے (میثاق مدینہ کی روشنی میں معاشرے کی تشکیل کے موضوع پر منعقد ہونے والی کانفرنس کے میزبان اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اس اعلامیہ کو فتویٰ قرار دیا ہے) میں فرقہ وارانہ منافرت‘ فرقہ پرستی کے نام پر عسکری کارروائیوں اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کو ”فساد فی الارض“ قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں ایسی ہرقسم کی شدت پسندی کے خلاف ریاست کو مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ صد شکر ہے کہ جملہ مسلم مکاتب فکر کے علمائے کرام نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ عسکریت پسندی کو خلافِ شریعت و انسانیت قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس اجتماعی مؤقف کا اعادہ کیاکہ جہاد شروع کرنے کا اختیار ریاست کے پاس ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ فرقہ واریت کی کوکھ سے جنم لینے والی عسکریت پسندی کے خلاف جناب پروفیسر ڈاکٹر طاہرالقادری کے گراں قدر تحریری کام کے علاوہ انفرادی طور پر اول اول دو شخصیات حضرت مولانا حسن جان شہید اور ڈاکٹر سرفراز حسین نعیمی شہید نے آواز بلند کی اور راہ حق میں جان دی۔ مروجہ مسلم مکاتب فکر کے جید علماءکا حالیہ فتویٰ خوش آئند ہے۔ لاریب ایک دستور رکھنے والی ریاست غیرریاستی ایکٹرز کو کبھی یہ حق نہیں دے سکتی کہ وہ اپنے اپنے فہم اسلام کو معاشرے پر مسلط کرنے کے لئے دوسروں کی تکفیر کریں یا طاقت کے بل بوتے پر اپنی فکر کو مسلط۔ پچھلے 70برسوں کے دوران کئی بار شدت پسندی کے خلاف اجماع پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر کچھ اپنے ہی نشیمن پر بجلیاں گراتے ہوئے امن و اخوت اور بھائی چارے کی کوششوں پر چڑھ دوڑے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس کے بعد جاری کیا گیا فتویٰ اپنے مندرجات اور جذبوں کے حوالے سے اہم ہے لیکن ان محترم علمائے کرام نے جس بنیادی نکتے کو نظرانداز کیا وہ ہے خود دینی مدارس کا نصاب ہائے تعلیم۔ کسی ایک مسلک کے مدرسے میں جب دوسرے مسلک کی تکفیر کو ایمان کے حصے کے طور پر پڑھایا رٹایا جائے گا تو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے سکالر نہیں بلکہ مناظرے باز پیدا ہوں گے۔

یہی وہ بنیادی بات ہے جو یہ عرض کرنے کا موجب ہے کہ اگر تشکیل سماج‘ قانون کی بالادستی‘ مساوی حقوق کی فراہمی‘ بلاامتیاز انصاف کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے تو پھر ایک قدم آگے بڑھ کر ریاست کا یہ حق کیوں نہیں مان لیا جاتاکہ ہمہ قسم کے نصاب ہائے تعلیم وضع کرنا بھی ریاست کا کام ہے؟ ہمارے یہاں صورتحال یہ ہے کہ دینی مدارس کی بڑی تعداد ایک خاص قسم کے ماحول سے باہر نہیں نکل پائی۔ 5 سے 7سال تک ان مدارس کے طلباءمدارس کی چاردیواریوں سے باہر کے ماحول سے یکسر لاتعلق مخصوص ماحول‘ فہم اور تربیت میں پروان چڑھتے ہیں۔ اپنی ابتدائی دینی تعلیم مکمل کرچکنے پر وہ اچھے مناظرہ باز تو ہوتے ہیں مگر سماجی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنے کی اہلیت سے یکسر محروم۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان مدارس کے نصاب ہائے تعلیم کی جدید خطوط پر تبدیلیوں کے ساتھ اجماع امت کے مفاد میں تدوین ضروری نہیں؟ آسان جواب یہ ہے کہ ایسا کیا جانا بہت ضروری ہے۔ چند ایک اداروں ان میں منہاج القرآن سرفہرست ہے‘ کے سوا کسی نے بھی بنیادی ضرورت پر توجہ نہیں دی بلکہ جب کبھی اس حوالے سے ناقدین نے دینی فہم کے حاملین کو متوجہ کیا تو جواباً دنیادار کی پھبتی کسی گئی یا پھر ایک عدد فتویٰ۔ فرقہ وارانہ انتہاپسندی اور عسکریت پسندی نے پچھلی ساڑھے تین دہائیوں سے اس سماج کو جو گہرے گھاؤ لگائے ان سے رِسنے والے خون اور گھاؤ کھانے والے خاندانوں کی تکلیف ہردو کو محبوس کیا جانا چاہیے تھا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ مسلکی اختلافات کے بڑھاوے میں گھناؤنا کردار ادا کرنے والے کچھ سماج دشمنوں نے اپنی اپنی انا کی تسکین کے لئے انسانیت کے قاتلوں کو مجاہدین اسلام کے طور پر پیش کیا۔ عرب عجم کے بعض تضادات نے بھی ان اختلافات کا رنگ چوکھا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید ظلم یہ ہواکہ تقریباً ہر مسلک کے لوگوں نے اپنی الگ الگ مذہبی‘ سیاسی جماعت بھی بنالی جس سے مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ اندریں حالات عرض یہ کرنا ہے کہ سماجی اتحاد‘ امن اور برداشت کی قدروں کو پروان چڑھانے کی اشد ضرورت ہے مگر چند کام بہرطور علمائے کرام کو ہی کرنا ہوں گے۔ اوّلاً مدارس کے نصاب میں سے دیگر کی تکفیر پر مبنی کتب کا اخراج‘ نصاب میں جدید موضوعات کو شامل کرنا‘ مناظرے کی تربیت کے بجائے مکالمے کو رواج دینا اور کم ازکم شہری سطح پر نگران کمیٹیوں کا قیام۔ ان کمیٹیوں میں دینی فہم رکھنے والوں کے ساتھ جدید تعلیم سے سرفراز لوگ بھی شامل ہوں اور وہ جمعہ کے اجتماعات کے علاوہ دیگر مذہبی تقاریب کے مقررین کے خطابات کا بغور جائزہ لیں۔ تکفیر اور فتویٰ بازی کے شوقین کافر کافر کھیلنے والے مقررین پر تاحیات پابندی کی سفارشات کریں۔ دینی مدارس اپنے زیرتعلیم طلباءکو ایک دوسرے کے ہاں مطالعاتی دوروں پر بھیجیں ان مواقع پر تبادلہ خیال سے ہی ایک دوسرے کی فہم کو سمجھا جاسکتا ہے۔

مکرر عرض ہے مختلف مسالک کے 31 سے زائد جید علمائے کرام کا تکفیر‘ دہشت گردی اور نجی جہادسازی کے خلاف فتویٰ خوش آئند ہے مگر پھر سوال وہی ہے کہ کیا اس فتویٰ پر دستخط کرنے والے علمائے کرام اپنے اپنے زیراثر حلقوں میں شدت پسندوں کی مذمت کے ساتھ رجحان سازی میں بھی کردار ادا کریں گے یا فتویٰ ہی کافی ہے؟ ”میثاق مدینہ کے تحت معاشرے کی تشکیل“ کی خواہش خوش آئند ہی نہیں بلکہ ایک عام سادہ دل مسلمان کی آرزو بھی ہے۔ میثاق مدینہ تو دیگر مذاہب کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور مذہبی آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے یہاں صورتحال یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی گردنیں ناپنے کو اسلام کی خدمت سمجھتے ہیں۔ اچھا کیا اسلام کے نام پر مسلم طبقات خاندانوں اور بادشاہتوں کی تاریخ کی سائنسی بنیادوں پر ازسرنو تدوین کے بغیر فاصلے کم ہوسکتے ہیں؟ اس سے اہم اور نازک سوال یہ ہے کہ قرآن عظیم الشان کے بعد مقدس ترین سمجھی جانے والی کتابوں میں سے ایسی روایات کو حذف کرنے کے لئے کیا اقدامات ہوں گے جو باعث فساد ہیں؟ معاف کیجئے گا محض ایک فتویٰ بڑی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ فرقہ پرستی اور تکفیری عسکریت پسندی کو ایمان سمجھنے والے بھی انہی کتابوں سے ایمان کی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ یہاں عالم یہ ہے کہ 70سال کی تاریخ پر کُلی اتفاق ممکن نہیں۔ ایسے میں یہ کہہ دیناکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا فیشن کے سوا کچھ نہیں۔ قرآن کی دعوت تو رسالت مآب کی پاکیزہ زبان سے جاری ہوئی۔ جہل و تنگ نظری‘ تکبر و انانیت پر جو ضربِ کاری انقلابِ محمد نے لگائی اس نے انسانیت کو آزادی‘ عزت‘ وقار اور فہم کی روشنی سے مالامال کیا۔ مسلمان اس متاعِ کامل سے محروم کیوں ہوئے اور تفرقہ میں کیسے پڑ گئے اس بارے دعویداروں کے اپنے اپنے مو_¿قف ہیں۔ یہی مو_¿قف آگے چل کر شدت پسندی اور قتل و غارت گری کے فتوؤں کا موجب بنے۔ اصلاح احوال کے میدان میں اترنے والوں کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ یہ چند برسوں یا چند عشروں کے مسائل نہیں۔ لمبی تاریخ ہے خون میں لت پت۔ اس لئے فقط آج کی ضرورتوں کو مقدم سمجھنے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ اسلامی تاریخ کی تدوین کے ساتھ کچھ دوسرے اموربھی تدوین نو کے متقاضی ہیں۔ کیا جس نہج پر مناظرے بازوں نے مسلمانوں کو لاکھڑا کیاہے وہ تدوین نو کے لئے سازگار بھی ہیں؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اگر بنیادی امور کو چھیڑے بغیر متنازعہ معاملات سے نجات حاصل کرنے کی شعوری کوشش کرنا ہے تو تاریخ سمیت بہت سارے علوم کی سائنسی بنیادوں پر پرکھ اور تدوین بہت ضروری ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام جن سنگین مسائل سے دوچار ہے اور بندوق بردار جس طرح دندناتے پھررہے ہیں یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات نہیں۔ ”فساد فی الارض“ کا علاج محض ایک فتوے سے ممکن نہیں طویل سرجری کی ضرورت ہے پر اس کے لئے پہلے تو ماہرین (علمائ) اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اسلام کے نام پر خواہشات کا سودا بیچنے والوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں۔ جب تک جنت دوزخ کی تقسیم کے لائسنسداروں کا احتساب نہیں ہوتا اصلاح احوال کے لئے شروعات ممکن ہی نہیں۔ اور یہ بھی کہ علماءکو ان لوگوں کی بھی گرفت کرنا ہوگی جو سادہ مسلمانوں کو تارک الدنیا بناکر معاشرے کو ویران کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
661
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: