Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سامراجی اشرافیہ کا دودھاری تلوار بجٹ | حیدر جاوید سید

سامراجی اشرافیہ کا دودھاری تلوار بجٹ | حیدر جاوید سید

رمضان المبارک کا امدادی پیکج سات روپے فی کس ہے ایک ماہ کےلئے حکومت کی اس تاریخ ساز سخاوت پر وہ سب مل جل کر دھمال ڈالیں جو سمجھتے ہیں کہ نوازشریف ناگزیر ہے تعمیروترقی کے لئے۔ تعلیم اور صحت کے لئے وفاقی حکومت کی ترجیحات آئندہ سال کے مالی بجٹ سے عیاں ہیں۔ سرائیکی وسیب کو کیا ملا اور فقط لاہور کو کیا اس حساب میں جان کھپانے کی ضرورت نہیں۔ ”لہور لہور اے‘۔ ترقی ہونی چاہیے مگر توازن اعتدال اور مساوات کے ساتھ۔ بندربانٹ کو ترقی نہیں کہتے۔ 14کھرب سے زیادہ کا خسارہ ہے (بقول اسحاق ڈار) مگر یہ عرض کردوں کہ مجموعی خسارہ 25کھرب سے تجاوز کرچکا ہے۔ محنت کشوں کی تنخواہوں میں ایک ہزار روپے اور نمائشی صدرمملکت کی تنخواہ میں 6لاکھ روپے کا اضافہ چیخ چیخ کر ”جمہوری نظام“ (ذاتی طور پر مقامی سامراجی اشرافیہ کے محافظ اس نظام کو جمہوریت نہیں سمجھتا ) کی برکات کا اعلان کررہا ہے۔ سریا‘ سیمنٹ اور کپڑے مہنگے ہوئے۔ تینوں چیزوں کے بڑے پیداواری گروپ شریف فیملی اور منشا گروپ کے ہیں۔ حاتم طائی کی قبر پر دولتی مارتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ حالانکہ پچھلے مالی سال میں 350فیصد مجموعی مہنگائی بڑھی تھی۔ سمارٹ فون سستے کردیئے ہیں۔ کھانے کی جگہ یہی خرید لیا کریں۔ دفاعی پیداوار اور دفاع کے لئے 925ارب 30لاکھ روپے رکھے گئے۔ شترمرغ پالنے کی ترغیب دینے والے سیاسی شترمرغ پالنے کے نتائج بھی تو سامنے رکھیں۔ کسانوں کو 9.9فیصد کی شرح پر قرضے دینے والوں کو ساڑھے سات سو توپوں کی سلامی پیش کی جانی چاہیے۔ اس بات کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں کہ جب اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں ملکی تاریخ کا ”عوام“ دوست  تاریخی بجٹ پیش کررہے تھے تو ایوان کے باہر کی سڑکوں پر کسان پولیس کی لاٹھیاں کھا اور آنسوگیس پھانک رہے تھے۔ آبی ذخائر کے لئے 38ارب اور لوڈشیڈنگ سے چھٹکارے کے لئے 401ارب روپے رکھے گئے۔ 6ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی دعویدار ٹیم نے زندگی اجیرن کردی صارفین کی۔( ان سموں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو پچھلے 7گھنٹوں سے بجلی غائب ہے۔ ) ٹیکس کی وصولی کا ہدف 4000ارب روپے اس میں صوبائی حکومتوں کا حصہ 2384ارب روپے بنتا ہے۔ بغور دیکھا جائے تو یہ سامراجی اشرافیہ کا بجٹ ہے۔ سفیدپوش یا خط غربت سے نیچے کی آبادی کے طبقات کے لئے اس میں کچھ نہیں۔ پولٹری مصنوعات پر نوازشات کی بھرمار کا مقصد والی_¿ پنجاب شہبازشریف کے لخت جگر حمزہ شہباز کی غربت دور کرنا ہے۔ کھاد کتنی سستی ہوگی اور زرعی ادویات کتنی مگر کیا وزیرخزانہ نہیں جانتے کہ چھوٹے کاشتکاروں کے لئے آمدن اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا دوبھر ہوگیا ہے۔ گندم کی خریداری کے دوران جو فراڈ ہوئے ”وچولوں“ نے جس طرح چھوٹے کاشتکاروں کو لوٹا وہ خود المناک داستان ہے۔ آبی ذخائر کہاں کئے جارہے ہیں؟ کوئی نئے منصوبے؟ قائداعظم سولر انرجی منصوبہ تو حلوائی کی دکان پر ناناجی کے فاتحہ کے مصداق نجی شعبہ کو دے دیا گیا۔ جعلسازی کا حال یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے ایک کول پاورپلانٹ کی تصویر مریم نوازشریف نے ساہیوال کول پاورپلانٹ کی تصویر کے طور پر اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر جاری کردی۔ آئندہ سال کا مالی بجٹ اعدادوشمار کی بھول بھلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ قومی و عالمی سٹورز کی چینز پرچون فروشوں کے زمرے میں آئیں گی؟ سبحان اللہ تو بنتا ہے اس دریادلی پر۔

47کھرب 52ارب 90کروڑ روپے کے وفاقی بجٹ میں معاشرے کے بے نوا طبقات کے لئے وعدے ہیں اور اشرافیہ کے لئے عیدی کا سامان۔ یہ میڈ اِن پاکستان حکومت ہے۔ اسحاق ڈار کہتے ہیں 1480ارب روپے کا بجٹ خسارہ اندرونی و بیرونی فنانسنگ سے پورا کیا جائے گا۔ کیا حکومت نہیں جانتی کہ رمضان المبارک سے دو دن قبل ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 40 سے 50روپے اور کمرشل سلنڈر 190روپے مہنگا کردیا گیا۔ ایل پی جی کے سوداگروں کی فہرست تو لائیے نہ کسی دن قومی اسمبلی میں۔ آئندہ سال کے وفاقی بجٹ پر نرم سے نرم الفاظ میں فقط سورة فاتحہ کی تلاوت کی جاسکتی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ بجٹ تیار کرنے والوں کا آبادی کے عام طبقات سے کوئی تعلق نہیں۔ میل جول بھی ضرورت کے ماتحت ہے۔ آسمان کو چھوتی مہنگائی‘ غربت‘ بیروزگاری‘ تینوں مل کر کیسے کیسے بھیانک مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ اس پر بحث اٹھانے کا فائدہ۔ محنت کشوں کی تنخواہ میں ایک ہزار روپے ماہوار اضافہ کرنے والی حکومت کے ذمہ داران کسی وقت 15ہزار روپے میں ایک ماہ گزارہ کرکے تو دکھائیں۔ 99فیصد نے پہلے ہی روز خودکشی نہ کرلی تو سزاوار ٹھہروں گا۔ عام سے دو کمروں کے مکان کا شہری علاقوں میں کم سے کم 8ہزار روپے کرایہ ہے۔ بجلی‘ سوئی گیس اور گھریلو ضروریات کے اخراجات کے لئے باقی سات ہزار روپے بچتے ہیں۔ جن گھرانوں میں میاں بیوی دونوں محنت مشقت کرتے ہیں ان کے ہاں بھی آسودگی نہیں ہے۔ پچھلے مالی سال کے دوران جس شرح سے ارکان پارلیمان‘ وزیروں مشیروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا کیا اسی تناسب سے اضافہ ملازمین اور محنت کشوں کا حق نہیں بنتا؟ کتنے وفاقی وزراءاور مشیر دوپہر کا کھانا حضرت بری امامؒ کے لنگر سے کھاتے ہیں؟ پنجاب کی کابینہ تو غالباً دونوں وقت کا کھانا سید علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کے لنگر سے کھاتی ہے۔

بدترین مذاق ہے وفاقی بجٹ۔ مہنگائی کا نیا سیلاب جلد کمزور طبقات کی زندگی جہنم بنادے گا۔ تجربہ کار لیگی ٹیم اقتدار میں آئی تھی تو خط غربت سے نیچے آباد طبقات کی شرح 50.3فیصد تھی۔چارسال میں یہ بڑھ کر 61فیصد ہوگئی۔ سالانہ دوفیصد سے کچھ اوپر۔ لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئی کہاں۔ بی فاختہ کی قسمت میں دُکھ جھیلنے اور کوے انڈے کھاتے ہیں۔ دوسروں کی بات چھوڑیں ان چار برسوں میں حاکم اشرافیہ کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا۔ جناب نوازشریف کوتو لندن میں مقیم بیٹا 86کروڑ کے تحفے دے دیتا ہے کیا گاموں کمہار‘ مودے کوچوان‘ الطاف رنگ ساز اور شیدے موچی کے بیٹے بھی لندن سے تحفے بھیجتے ہیں؟ تلخ ہیں بندہ مزدور کے دن رات مگر اشرافیہ کو کیا۔ ان کے کتے بھی بسکٹ کھائیں‘ ائیرکنڈیشنروں میں آرام کریں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ووٹر اپنے اجتماعی مفادات اور بچوں کے مستقبل کو مدنظر نہیں رکھتے۔ غلامی اور تعصبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں ان میں۔ ایک دو ارکان کے سوا قومی اسمبلی میں کسی کو اس دو دھاری تلوار بجٹ پر احتجاج کی توفیق نہیں ہوئی۔ ایک ہی تھیلی کا مال ہیں سب۔ کاش آبادی کے بڑے طبقات نے حقِ نمائندگی دیتے وقت اپنے طبقات کے مفادات کو مقدم سمجھا ہوتا۔ وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نکل نہیں گیا۔ سال بھر بعد قومی انتخابات ہونا ہیں رائے دہندگان اگر فقط اک بار بالادست اشرافیہ کو شکست کی ذلت کا ذائقہ چکھوا دیں تو ممکن ہے کچھ بہتری کی صورت پیدا ہوسکے۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ رمضان المبارک کے ان ایام میں اپنی زکوٰة و صدقات اور عطیات کے لئے اپنے قریبی مستحقین کو بطور خاص یاد رکھئے اور اس کے ساتھ ساتھ شوکت خانم میموریل ہسپتال‘ کالج آف شریعہ مظفرگڑھ اور دارالعلوم جامعہ نعیمیہ سمیت ان تعلیمی اداروں کو ترجیح دیجئے جو قدیم و جدید تعلیم کے مراکز کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ ان اداروں کے علاوہ بھی آپ کے قریب خدمتِ خلق کے ادارے ہوں گے ان سے تعاون کیجئے۔ رمضان المبارک خیروبرکت کا مہینہ ہے آپ بھی اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے خیروبرکت کا سامان کیجئے۔

بشکریہ خبریں ملتان

مرتبہ پڑھا گیا
428مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza mehdi baqari

    A HEART-TOUCHING NARRATIVE PENNED BY A GREAT REVOLUTIONARY ,NATIONALIST AND PATRIOT JOURNALIST…..SYED SAHAB
    ALL POWERFUL QUARTERS HAVE BEEN SHAKEN BRAVELY. RED SALUTE,SYEDEE!!!!

Leave a Reply

%d bloggers like this: