Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تین عشرے پرانی ایک ملاقات کی یادیں | حیدر جاوید سید

تین عشرے پرانی ایک ملاقات کی یادیں | حیدر جاوید سید

تین عشروں سے ایک آدھ برس کم کی بات ہے جب ایک ہفت روزہ جریدے کے لئے انٹرویو کی خواہش لے کر لمبی مسافت جھیلی اور ضلع دادو کے گاؤں ”سن” پہنچا۔ یہی گاؤں منزل تھا اور اس گاؤں میں مقیم ‘ سیاست دان اور سندھی قوم پرستی کے باوا آدم مرشد سید غلام مرتضیٰ شاہ کاظمی کے حضور حاضری مقصود تھی۔ سید غلام مرتضیٰ شاہ کاظمی ہند سندھ میں جی ایم سید کے نام سے مشہور تھے۔ ڈھلتی شام کے سایوں کے درمیان سن گاؤں پہنچنے والے مسافر کو پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب معلوم پڑا کہ طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے مرشد آج دوپہر کراچی چلے گئے ہیں۔ مسافر کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر امداد شاہ جی (مرشد کے صاحبزادے) بولے’ بابا پریشان کیوں ہوتے ہو صبح میں نے بھی کراچی جانا ہے میرے ساتھ چلنا وہیں مرشد سے تمہاری ملاقات کروادوں گا۔ تمہیں انٹرویو دینے کے لئے انہوں نے خود وقت دیا ہے’ کچھ دیر آرام کرو۔ کھانے کے بعد گپ شپ ہوگی۔ اگلی صبح مسافر امداد شاہ جی کے ہمراہ سن گاؤں سے کراچی رورانہ ہوا گیارہ بجے کے لگ بھگ ہماری گاڑی حیدر منزل کراچی میں جا ٹھہری۔ پہر کے آرام کے بعد مرشد نے یاد کیا’ ان کے بیڈ روم میں داخل ہوا تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے’ میرے بچے تمہیں زحمت اٹھانا پڑی مگر میں اب عمر کے اس حصے میں ہوں جس میں بیماری دستک دئیے بنا مہمان بن جاتی ہے۔ پھر دریافت کیا رات اور سفر میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔ جی نہیں میں نے عرض کیا۔ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو دریافت کیا۔ سندھ اسمبلی میں قیام پاکستان کی قرار داد پیش اور منظور کروانے والے جی ایم سید نے مسلم لیگ سے ناطہ توڑ لینا کیوں ضروری خیال کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ آل انڈیا مسلم لیگ میں جمہوری بنیادوں پر نہیں فیصلے شخصی بنیادوں پر ہوتے تھے۔ یہی اختلافات کی وجہ بنی۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ آپ کانگریس اور گاندھی کے کہنے پر مسلم لیگ سے الگ ہوئے؟ جو کہتے تھے اور ہیں ان کے الزام پر تبصرہ کرکے وقت ضائع کیوں کروں۔ لیکن اگر ایسا تھا تو پھر میں کانگریس میں کیوں نہ گیا۔ یہ مسلم لیگ والے اپنے علاوہ کسی کو محب وطن نہیں سمجھتے حالانکہ انگریزوں کے سارے وفادار اسی جماعت میں شامل ہوئے۔ پھر کہنے لگے’ مجھے قیام پاکستان سے قبل ہی شعوری طور پر یہ احساس ہوگیا تھا کہ ہم سندھی مسلمان غلط فیصلہ کرچکے۔ کیا ویسا ہی غلط فیصلہ جیسا آپ نے مسجد منزل گاہ تحریک میں شامل ہو کر کیا تھا؟ بلکل’ مجھے ہندوؤں کے خلاف مولویوں کی اس تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا۔ انسان تجربوں سے سیکھتا ہے اسی لئے میں تقسیم کے وقت سے یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم صرف سندھی بن کر رہیں۔ یہی ایک طریقہ ہے اپنی تاریخ’ تشخص اور ثقافت کو محفوظ رکھنے کا۔ میں نے بھٹو( ذوالفقار علی بھٹو) سے بھی کہا تھا کہ پنجاب کی سول و ملٹری اشرافیہ تمہیں اپنے مقاصد کے لئے راستہ دے گی مگر جیسے ہی انہیں خود سے سانس لینے کا موقع ملا یہ تمہارے سانس کاٹ دے گی۔ وقت نے میری رائے پر مہر ثبت کی۔ بھٹو کو سمجھنا چاہئے تھا کہ یہ اقوام کاملک ہے قوم کا نہیں مصنوعی طریقے سے قوم سازی کے خواہش مند اصل میں تقسیم کی نفرتوں کوزندگی بھر کا کاروبار بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ اچھا اپنے اختلافات کے باوجود یہ تو بتائیں کہ جناح صاحب اور بھٹو کیسے انسان تھے؟ مسکراتے ہوئے کہنے لگے’ تو تم شرارت سے باز نہیں آؤ گے۔ پھر بولے جناح کسی کو سنتے نہیں تھے اور بھٹو مانتے نہیں تھے۔ ذاتی حیثیت میں دونوں نفیس اور صاحب مطالعہ تھے۔ بھٹو پر اس امت مسلمہ کا بلا شرکت غیرے لیڈر بننے کا بھوت سوار تھا جس کی تاریخ کا ایک ورق بھی محسن کشی سے خالی نہیں۔ وہ ( بھٹو) اگر چاہتا تو فیڈریشن میں آباد پا نچو ں قوموں کو مساوی آئینی حقوق دے کر ماضی کی غلطیوں کا کفارہ ادا کرسکتا تھا بد قسمتی سے اس نے بھارت دشمنی کی سیاست کو کامیابی کا زینہ سمجھا۔ ارے بابا’ ہم مقامی اقوام میں سے صرف پنجاب کے کچھ اضلاع کی بھارت سے دشمنی بنتی اور سمجھ میں آتی ہے باقی اس آگ میں کیوں جلیں۔ تقسیم ہوگئی’ قتل و غارت گری میں پہل کس نے کی دونوں ملک اپنا اپنا رونا روتے ہیں مگر تاریخ کا سچ یہ ہے کہ تقسیم کے خون خرابہ کی ذمہ داری لاہور اور راولپنڈی کے پنجابی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے’ پہل انہوں نے کی۔ پرانی باتیں دہرانے کا فائدہ مرشد بولے۔ دو تین لمحوں کے وقفے کے بعد بولے’ سندھیوں کا مستقبل سندھو دیش میں ہے۔ عرض کیا مگر اب تو سندھ دو لسانی صوبہ ہے؟ جو اب دیا۔ میں نے الطاف حسین سے کہا تھا سندھی بن جاؤ’ سندھیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرو مگر اس کے سر پر قائداعظم ثانی بننے کا جنون سوار ہے۔ میں اب سندھیوں کے لئے سوچتا ہوں صرف سندھیوں کے لئے۔ مگر صوفی شاہ عنایت شہید کی فکر کا وارث انسانیت کی بات کیوں نہیں کرتا؟ سندھی بھی انسان ہی ہیں پہلے ان کو تو حقوق ملیں پھر ہم دوسروں کی حمایت کریں گے۔ صوفی خاندان سے تعلق رکھنے والے جی ایم سید نے جیسا میں نے دیکھا جیسی کتاب کیوں لکھی؟ وہ میرے مطالعہ کے نوٹس ہیں۔ اب بھی یہی کہتا ہوں کہ مذہب کا ریاستی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ میں لا دین یا مذہب بے زار نہیں ہوں البتہ مذہبی تجارت سے ضرور بے زار ہوں۔ سیکولر نظام حکومت میں آبادی کے تمام طبقات کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے سکتا ہے۔ لگ بھگ تین عشرے قبل کی ملاقات کی کچھ یادیں قارئین کے استفادے کے لئے لکھ دی ہیں۔ کیا لوگ تھے اپنا موقف دلیل و شواہد کے ساتھ بیا ن کرنے والے۔

بشکریہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
741
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: