Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اس سے بڑھ کر بھی کوئی قیامت کی گھڑی ہوگی؟ | حیدر جاوید سید

اس سے بڑھ کر بھی کوئی قیامت کی گھڑی ہوگی؟ | حیدر جاوید سید

زمانہ کروٹ نہیں بلکہ کروٹیں بدلتا منہ زور گھوڑے کی طرح بھاگ رہا ہے۔ عقل والوں کےلئے نشانیاں بہت ہیں پر سوال یہ ہے کہ آدمیوں کے گھنے جنگل میں انسان تلاش کرنے کا سفر رائیگاں کیوں ہورہا ہے؟ امریکی صدر ٹرمپ اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران عرب اسلامی + امریکہ کانفرنس میں شریک 50 مسلمان سربراہان کو اسلام پر ”درس“ دیں گے مگر اس سے زیادہ دلچسپ خبر یہ ہے کہ چین کے ”ایگزم بینک“ کے صدر نے کہاہے کہ ”جس کام میں شہبازشریف ہوتے ہیں ہمیں ہر لحاظ سے اطمینان و اعتماد ہوتا ہے“۔ آپ دونوں بالائی خبروں پر سر دُھنتے ہوئے ہاؤ ہو فرمائیں یا افریقی رمبا رقص، کامل آزادی ہے۔ جمہوریت اسی کو کہتے ہیں۔ ٹی وی ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں ہو چینل پسند نہیں تو بٹن دبائیں اگلے چینل کی طرف چل دیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ خود آپ کا ٹی وی سیٹ جمہوریت کے 80 چینل دامن میں رکھتا ہے 120 یا 200؟ اچھا کیا ہم واقعتاً جمہوریت پسند ہیں؟ اس چھوٹے سے سوال کا سادہ جواب سوشل میڈیا پر تلاش کرلیجئے جہاں 24 میں سے 50گھنٹے جمہوریت پر لٹھ بازی کا شوق پورا کرنے والے پہلے شکریہ راحیل شریف الاپتے تھے آج کل کچھ اور الاپتے ہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر آج جناح صاحب ہوتے تو اس ملک بارے ان کی رائے کیا ہوتی جہاں محبی ڈاکٹر صفدر محمود اور ڈاکٹر مبارک علی اپنے اپنے فہم کو تاریخ کے طور پر گھوٹ کر پلانے میں مصروف ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نوکرشاہی کے سابق اعلیٰ کُل پرزے اور اب داعش وادی میں اسلام کی نشاط ثانیہ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے اوریا مقبول جان فرما گئے کہ 71سال بعد قیامت آجائے گی۔ دنیا بھر کے مفلوک الحال لوگوں کے لئے تو ہر لمحہ قیامت ہے۔ بابل کی دہلیز پر جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھی اس لاڈورانی کے لئے کون سا لمحہ قیامت سے کم ہے؟ اوریا کے اس دعوے نے نصف صدی پیچھے لے جا کھڑا کیا۔ خونی برج چوک سے وہاڑی اڈے کی طرف جانے والی سڑک کی نکر پر ایک مسجد ہے بچپن میں ہم اسے گھڑی والی مسجد کہتے تھے۔ انور شاہ گیلانی اس مسجد کے خطیب تھے۔ وہ اپنے خطبہ جمعہ میں دو باتیں تکرار سے کرتے اوّلاً یہ کہ ”مسلمانوں خبردار رہو چودہ صدیاں ختم ہوتے ہی قیامت برپا ہوجائے گی۔ ثانیاً یہ کہ اﷲ کا وعدہ ہے یہودی قیامت تک راندہ درگاہ رہیں گے“۔ بہت برسوں بعد ایک دن ان سے ملاقات ہوئی تو عرض کیا قبلہ چچاجان! آپ کی دونوں باتیں غلط ثابت ہوچکیں۔ 15ویں صدی ہجری شروع ہوئے دو تین سال بیت گئے قیامت نہیں آئی اور جن یہودیوں کو آپ راندہ درگاہ تاقیامت کہتے تھے انہوں نے پوری دنیا کو آگے لگا رکھا ہے اور مسلمانوں کی چھترول میں جُتے ہوئے ہیں۔ گیلانی صاحب نے مجھے تو کچھ نہ کہا البتہ اس شام ان کی اہلیہ محترمہ میری والدہ کے پاس تشریف لائیں اور بولیں” بی بی جی میکوں لگدے جاوید میاں تے کہیں کافر جن دا سایہ تھی گئے” (بی بی جی مجھے لگتا ہے جاوید پر کسی کافر جن کا سایہ ہوگیا ہے)۔ امی حضور نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا اور اس ارشاد کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے گیلانی چچا سے میری گفتگو کچھ ترامیم کے ساتھ ان کے گوش گزار کی۔ پھر کچھ مشورے دیئے اور گھڑی والی مسجد سے دو گلی آگے ایک جن نکالنے والے ماہر مختار سے رجوع کرنے کو کہا۔ امی جان نے مسکراتے ہوئے کہا آپ فکر نہ کریں جاوید کا علاج میں خود کرلوں گی۔ اگلے دن ناشتہ پر والدہ حضور نے میری کلاس لی۔ چچا گیلانی سے ہوئی گفتگو پر کان کھینچے تو میں نے عرض کیا امی جان 14صدیاں بیتے دوسال گزر گئے قیامت نہیں آئی۔ آخر چچا گیلانی منبررسول پر بیٹھ کر جھوٹ کیوں بولتے رہے۔ وہ کہتے تھے اﷲ کا فیصلہ ہے یہودی قیامت تک دربدر رہیں گے۔ یہودیوں نے نہ صرف اپنا وطن واپس لیا بلکہ حکومت قائم کی۔ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان، ماہر معاشیات اور دوسرے صاحبانِ علم و کلام یہودی ہیں۔ ان کی یہ بات بھی جھوٹ نکلی۔ تحمل سے ساری بات سننے کے بعد امی جان نے فرمایا ”بزرگوں کو یہ نہیں کہتے کہ آپ جھوٹ بولتے تھے۔ ان سے عرض کرتے ہیں آپ کی رائے درست ثابت نہیں ہوئی دوبارہ سے غوروفکر کرلیجئے“۔

معاف کیجئے گا نصف صدی پرانی بات نے پورے قصے کو یاد کروا دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا سماج نصف صدی قبل جہاں کھڑا تھا شعوری طور پر وہاں سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ پایا۔ وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے ایک طالب علم کی حیثیت سے فقط یہی سمجھ میں آیا ہے کہ جماندرو (پیدائشی) غلاموں نے اَت اٹھا رکھی ہے۔ تکرار پر معذرت چاہتا ہوں۔ پھر سے عرض کئے دیتا ہوں کہ جدید تعلیمی ادارے ہوں یا مدارس ان کی تعلیم کا آخری سال مکمل کرکے ڈگری لئے عملی زندگی کے میدان میں اترنے والوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جو کچھ بطور تعلیم ان کے پاس ہے یہ علم کی طرف رہنمائی کا ذریعہ ہے علم ہرگز نہیں۔ اب آپ اس مرحلہ میں پہنچے ہیں جہاں طالب علم فیصلہ کرتا ہے کہ علم و تحقیق کی کس شاخ سے منسلک ہونا ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ اوّلاً تو ہر دو طرح کے اداروں کے (یونیورسٹیوں اور مدارس کے) سابقین خود کو توپ قسم کی چیز سمجھنے لگتے ہیں ثانیاً ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ نہیں۔ سیاپا یہ ہے کہ ان نیم حکیموں کی وجہ سے پورا سماج بحرانوں سے دوچار ہے۔ جب ایسی صورتحال ہوتو کیا صفدر محمود، کیا مبارک علی اور کیا اوریا مقبول جان سب کا مال بکتا ہے۔ یہاں تو مولوی خادم حسین اور پیر افضل قادری بھی اپنا سودا بیچ لیتے ہیں۔ وجہ یہی ہے اوّلاً خواندگی کی کمی، ثانیاً اندھی تقلید، ثالثاً میرا سچ آپ کا جھوٹ اور آپ کا سچ میرا جھوٹ۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ خون رلانے والی بات یہ ہے کہ جو چند صاحبانِ علم موجود ہیں وہ بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ڈر تو لگتا ہے صاحب کہ دستار کے ساتھ سر بھی جاتا ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی لیکن چار اَور سے لاتعلق رہ کر بھی تو نہیں جیا جاسکتا۔ یہ تلخ حقیقت بھی ہم سب کے سامنے ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی تحمل کے ساتھ دوسرے کی بات سننے کا روادار نہیں۔ یہ ضد ناچ رہی ہے کہ فقط ہمارا کہا مانو۔ ارے بھائی کیوں آپ کی بات پر سر تسلیم خم کردیا جائے۔ آپ دلیل کے ساتھ مؤقف پیش کیجئے۔ مجھ طالب علم کو تو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ علم، سچائی اور محبت کو ہمیشہ رہنا ہے۔ جہل، جھوٹ اور عدم برداشت کو قدم بہ قدم زمانہ بہ زمانہ شکست ہوگی۔ تاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھ لیجئے بہت دور نہ جائیں یہ سیدی و مرشدی حضرت بلھے شاہؒ کے خلاف کفر کا فتویٰ دینے والے مولوی غلام مرتضیٰ کی آخری آرام گاہ کے مقابلہ میں بلھے شاہؒ کی خانقاہ پر محبوں کا ہجوم اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی، علم اور محبت زندہ رہتے ہیں۔ ہم ملتانیوں کو اس خطے میں تو خیر پرستوں کا پہلا مرکز قائم کرنے والا راجہ پرہلاد نہیں بھولتا اور یہ دکھ بھی کہ اپنے اصل سے کٹے ہوئے ایک ہجوم نے بابری مسجد کا حساب پرہلاد کی دانش گاہ (جسے عرف عام میں مندر کہا جاتا تھا) کو زمین بوس کردیا۔

پیارے قارئین! بالائی سطور میں درآئی تلخی پر معذرت خواہ ہوں۔ بے سمت بھاگتے اور ایک دوسرے کو روندتے چلے جانے کے جنون کا شکار آدمیوں کے درمیان رہتے بستے اتنی تلخی کی اجازت تو ہونی چاہیے۔ بدھ کو سرائیکی قومی مسئلہ پر لکھے گئے کالم کی اشاعت کے بعد احباب اور قارئین میں سے بہت سارے لوگوں نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا ایک صائب بات کی ہے۔ مکرر عرض کرتا ہوں۔ مجھے اپنی حدود اور صحافتی ذمہ داریوں کی اقدار کا احساس ہے البتہ ہم سب کو تنقید اور تضحیک کو سمجھنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں پر تنقید یا ان کی پالیسیوں پر اٹھائے جانے والے سوالات جمہوریت دشمنی سے عبارت نہیں ہوتے۔ ہنسی آتی ہے ان دوستوں پر جن کی جماعتیں اپنی پیدائش کے وقت سے نامزدگیوں پر چل رہی ہیں وہ ہمیں جمہوریت کا ”پکا“ قاعدہ پڑھانے پر بضد ہیں۔ شخصیت پرستی، اندھی تقلید اور سیاسی مزارعت سے کوئی رغبت نہیں البتہ یہ حقیقت ہے کہ قومی تحریک یک طبقاتی تحریک نہیں ہوتی معاشرے کے سارے طبقات کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے پر یہ آرزو ضرور ہے کہ سرائیکی قومی تحریک بالادست طبقات کے جی بہلانے کا سامان نہ بنے بلکہ وسیب کے مظلوم لوگوں کے حقوق کی بحالی اور فیڈریشن میں جائز حصہ حاصل کرنے کی عوامی تحریک ہو۔ پیپلزپارٹی سمیت کسی سیاسی جماعت سے ذاتی بیر ہے نہ شخصیت سے نفرت۔ طالب علم کے طور پر تاریخ کے اوراق اُلٹتا ہوں اور سوال اٹھاتا ہوں آپ کو اختلاف کا حق ہے مگر دلوں کے بھید جاننے کا دعویٰ نہ کیجئے کہ آپ خدا نہیں ہیں۔

بشکریہ خبریں ملتان

مرتبہ پڑھا گیا
1413مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: