Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نیابیانیہ، سی پیک، اورداعش کی بیوہ بہو | حیدر جاوید سید

نیابیانیہ، سی پیک، اورداعش کی بیوہ بہو | حیدر جاوید سید
نیا بیانیہ کیاہے؟ ٹویٹ کی واپسی، احسان اللہ احسان کی میزبانی، داعش پُتری بلکہ بیوہ بہو نورین لغاری کا انٹرویو، چار میں سے تین پڑوسی ملکوں کی ناراضگی؟ جی نہیں۔ نیا بیانیہ یہ ہے کہ 80ہزار کے لگ بھگ معصوم مرد و زن اور بچوں کے سفاکانہ قتل پر اور درمیان میں ڈرون حملوں ہردو پر تاویلات گھڑتے اور دہشت گردوں کا دفاع کرتے عظیم محب وطنوں کی باسی کڑی میں ایرانی جرنیل کے بیان سے اُبال آگیا ہے۔ لاریب ایرانی جرنیل (بلکہ ان سطور کے لکھے جانے تک دو جرنیلوں) کا بیان سفارتی آداب کے منافی تھا مگر اس سوال کا جواب کسی کے پاس ہے کہ جیش العدل نامی دہشت گرد تنظیم (جیش العدل نے جنداللہ کی کوکھ سے جنم لیا اور جنداللہ وہی تنظیم ہے جس کے آپریشنل کمانڈر حمادشاہ مہران نیول ائیربیس پر حملے کے بعد بیس کی دیوار کے دوسری طرف قائم ایک مدرسہ کے ہاسٹل سے گرفتار ہوئے) کے عسکریوں نے پاکستانی حدود سے ایرانی فوجیوں پر حملہ کیسے کیا؟ تین دن ہوتے ہیں بھاڑے کی حب الوطنی کے خوانچہ فروش اودھم مچائے ہوئے ہیں۔ افغانستان نے سرحدی آداب کی پچھلے دو برسوں میں 11 بار خلاف ورزی کی۔ تازہ خلاف ورزی بلوچستان سے ملحقہ افغان بارڈر پر ہوئی۔ گیارہ میں سے یہ دوسری سنگین ترین خلاف ورزی تھی۔ درجن بھر سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ عظیم و کبیر محب وطن شدید گرمی میں کمبل اوڑھ کے سوتے رہے۔ہڑبڑا کر اٹھے ایرانی جرنیل کے بیان پر۔ جان کی امان ہوتو ایرانی اخبارات کے لنکس کھولئے۔ بیان کے اصل متن کا کسی اچھے فارسی خواندہ سے ترجمہ کروا لیجئے سر پیٹیں گے آپ کہ پاکستان کے اردو اخبارات نے ترجمہ کیا کیا۔ معاف کیجئے گا اس سے زیادہ نہیں لکھنا چاہتا وجہ فقط یہ ہے کہ ان دنوں حب الوطنی کے محافظ سب سے زیادہ وہ ہیں جو ہمارے بچوں کے قاتلوں کے سہولت کار تھے۔ داعش کی بیوہ بہو کا تفصیلی انٹرویو نشر کیا جاسکتا ہے مگر چندماہ پہلے اسلام آباد سے اغواءہوئے کراچی سے تعلق رکھنے والے ثمرعباس کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اغواءہونے والے بلوچوں اور سندھیوں بارے میں بات کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ بات کرنے والا پکا غدار ہے۔
بہت سارے دوست ناراض ہوتے ہیں میرے ایک محبِ مکرم کو بھی ڈھیروں شکوے ہیں مجھ سے لیکن اس عمر میں سدھرنے اور بناوٹی بیانیے پر ایمان لانے کے بجائے زیادہ اہم یہ ہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں شہید ہوئے معصوم طلباءکے والدین کی آواز سے آواز ملاؤں جو یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ تحریک طالبان اور تحریک طالبان جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی نازبرداری کے بجائے اس پر مقدمہ چلایا جائے۔ ان شہید بچوں کے والدین کا سوال درست ہے کہ ریاست ان کے بچوں کے قاتلوں کے ساتھی کو پناہ میں کیوں لئے ہوئے ہے؟ نورین لغاری کے ٹی وی انٹرویو کا اہتمام آئی ایس پی آر نے کس قانون کے تحت کیا؟ عجیب بات ہے وہ داعش کی تبلیغ سے متاثر ہوئی، گھر سے نکلی شام پہنچی، داعش کے ایک کارکن سے شادی کی۔ میاں بیوی دو ساتھیوں سمیت شام سے واپس تشریف لائے۔ ایسٹر کے موقع پر لاہور میں مسیحی برادری کو خون میں نہلاکر پاکستان کو دنیا میں بدنام و رسوا کرنا چاہتے تھے۔ ٹھوس انٹیلی جنس اور شواہد کی بناپر کارروائی ہوئی۔ نورین لغاری کا شوہر اور ایک ساتھی مارا گیا ایک فرار ہونے میں کامیاب۔ نورین گرفتار ہوئی۔ اس کے دہلا دینے والے اعترافات پر اس ملک کے ہرزندہ ضمیر شہری نے سکھ کا سانس لیا کہ شکر ہے حساس اداروں کی بروقت کارروائی سے ایک المیہ جنم نہ لے پایا مگر اب داعش کی اس بیوہ بہو کو ایک مظلوم و مجبور کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ احسان اللہ احسان کو بھی 9سال تک پتہ ہی نہ چلاکہ طالبان کے پیچھے بھارت ہے۔ مطلب بھارت نہ ہوتا تو اس کا ضمیر سویا رہتا؟ خدا کےلے ہمارے حال پر رحم کیجئے۔ نسیم حجازی کے ناولوں کے ٹوٹے چلانے سے اجتناب کیجئے۔ کیا کسی کو اس بات کا احساس نہیں کہ اندرونی طور پر حالات کس قدر خراب ہیں۔ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔ سابق آرمی چیف راحیل شریف کی اتحادی ملازمت نے معاشرے میں تقسیم کی خلیج مزید گہری کردی ہے۔ سونے پر سہاگہ پچھلے چند دنوں کے حالات ہیں۔ ایسے میں بہت لازم ہے کہ منتخب پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ بدقسمتی سے سب کی ترجیحات مختلف ہیں۔ مخالفوں پر آوازے کسنے، ان کی کردارکشی کےلئے حکومت کے پاس پورا جتھہ ہے۔ نہیں ہے تو اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کا وقت۔ اندھادھند ہر شخص اور ادارہ بھاگے چلا جارہا ہے۔ نتیجہ کیا ہوگا۔ اچھا کیا افغانوں کو احسان فراموش کہنے سے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آسکتی ہے؟ ایرانیوں پر مجوسیوں کی پھبتی کسنے سے دلوں کا غبار دھل سکتا ہے؟ مسلمانی کے زعم کا شکار بھاڑے کے محب وطنوں کو تاریخ سے کوئی شُدبُد ہے؟ امام اعظم حضرت نعمان بن ثابت، امام ابوحنیفہ رضوان اللہ تعالیٰ، امام اسماعیل بخاریؒ، تصوف کی آبرو حضرت حسین بن منصور حلاجؒ، عاشقانِ حقیقی کا چاند شہید سرمدؒ اور درجنوں کیا سینکڑوں محبوبان علم و اسلام کا آبائی وطن ایران ہی ہے۔ سعدی و شیرازی بھی ایرانی ہی تھے۔ یہ سارے بزرگ مسلمانوں کی تاریخ کے آبرومندانہ کردار ہیں۔ محض تعصب اور پھکڑپن کے سوا کچھ نہیں کسی مسلمان کو مجوسی کہنا۔ تاریخ کے اوراق اُلٹ کر غور کیجئے ہندی مسلمان پہلے کیا تھے۔ خود بلاد عرب کے لوگ ظہور اسلام سے قبل کیا تھے ان چند خاندانوں کے سوا جو دینِ ابراہیمؑ پر استقامت سے ڈٹے رہے۔ عصری سیاسی مسائل اور اختلافات ایسی چیز ہرگز نہیں کہ قبول اسلام سے قبل کے کھاتے کھول کر بیٹھ رہا جائے۔ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ اس مادرپدر بدزبانی کے نتائج کیا نکلیں گے۔ ہم صوفی سنی ہیں یا شیعہ، دیوبندی ہیں یا اہلحدیث، چکڑالوی ہیں یا عثمانی، سندھی، سرائیکی، بلوچ، پشتون، پنجابی یا اردو بولنے والے یہی ہمارا ہم سب کا ملک ہے ہمارا وطن۔ ہم اپنے ملک کا چہرہ ہیں۔ کلام کیجئے تحمل کے ساتھ، نیتوں کی زیر زبر ماسوائے اﷲ کے کوئی نہیں جانتا سو خدا بننے کی کوشش نہ کیجئے۔
دوسروں پر انگلیاں اٹھانے اور ان کے اعتراضات پر سیخ پا ہونے کے بجائے آرام کے ساتھ اس سوال کا جواب تلاش کیجئے کہ پچھلے چند برسوں سے دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے اس کے ڈانڈے اس خطے تک کیوں بھاگتے آئے؟ ہم سے طالب علم عشروں سے کہتے لکھتے چلے آرہے ہیں کہ دنیا کو تسخیر کرنے کا جو جنون جنرل ضیاءالحق کے دور میں کاشت ہوا تھا اب لازم ہے کہ اس کھیتی میں امن، علم، تحقیق، شرفِ آدمیت اور انسان سازی کے بیج بوئے جائیں مگر نیا بیج بونے سے پہلے کھیتی کو ایک عام کسان کی طرح تیار کیجئے۔ خودرو جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کی ضرورت ہے، کھمبیوں کی طرح اُگ آنے والے توسیع پسندانہ عزائم کے مراکز بند کرنے کی۔ عجیب و غریب شوق پالنے کی ضرورت نہیں قبل اس کے کہ المیوں کا المیہ ظہور پذیر ہو اصلاح احوال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کی لڑائی گھر میں لانے کے نتائج بہت بھگت لئے ہم نے رزق خاک میرے اور آپ کے پیارے ہوئے۔ مالدار چند درجن جرنیل، مولوی اور جہادی۔ ہماری آئندہ نسلوں کی ضرورت امن، انصاف، علم، تحقیق، تحفظ، قانون کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی ہے۔ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔ چلیں ایک بات موضوع سے ہٹ کر کرلیتے ہیں۔ ذرا قوم کو یہ تو بتائیں کہ سی پیک کے روٹ پر بننے والے صنعتی زونوں میں لگنے والی فیکٹریوں میں سرمایہ کاری کا تناسب کیا ہوگا اور ان صنعتوں میں کام کرنے والے محنت کشوں میں کتنے فیصد مقامی اور کتنے چین سے آئیں گے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار سی پیک کے صنعتی زونوں میں سرمایہ کاری کے لئے 70فیصد کا چینی حصہ دار لائے؟ حضور! اگر واقعتاً ایسا ہے تو پھر ہم اپنی ہی زمین پر کفیل کے بغیر کاروبار نہیں کرسکتے تو یہ ظلم نہیں ہوگا؟ ان سطور میں پہلے بھی عرض کرچکا مکرر بات کو دہرائے دیتا ہوں سی پیک کے منصوبے کو اس کی تمام جزئیات کے ساتھ پارلیمان میں لائیے۔ بالا بالا ہوئے معاہدوں اور فیصلوں سے شبہات بڑھ رہے ہیں۔ یہ بائیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے کسی شاہی خاندان کی جاگیر ہرگز نہیں کہ عوام یہ جاننے کا حق ہی نہیں رکھتے کہ ہو کیا رہا ہے اور ہوگا کیا۔ کم لکھے کو زیادہ سمجھیے، اس سے قبل کہ کوئی نئی ایسٹ انڈیا کمپنی ہمارے گلے دبوچ لے لوگوں کو اعتماد میں میں لیجئے، کہانیاں مت سنائیے کہ کہانیاں سن سن کر کان پک چکے ہیں۔
 
مرتبہ پڑھا گیا
2060مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: