Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

یہ بائیس کروڑ لوگ گھامڑ نہیں ہیں صاحب! – حیدر جاوید سید

یہ بائیس کروڑ لوگ گھامڑ نہیں ہیں صاحب! – حیدر جاوید سید

سادہ سی بات ہے ریاست کو دو ٹوک انداز میں واضع کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔ ہمیں کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا نے کی بجائے اداروں کو اپنی پالیسیوں اور ان کے نتائج پر بھی ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا ۔ بہت تماشے ہوگئے اور بہت جنازے اُٹھا لیئے گئے ۔طفل تسلیاں بیرونی ہاتھ کی باتیں ۔ کیا 20کروڑ سے زیادہ آبادی والے ملک میں سارے گھامڑ بستے ہیں کہ آپ کی ”زبان دانی ” کو آسمانی حکم سمجھ کر سر جھکالیں ۔ خود قرآن عظیم الشان نے انسان کو دعوت غور و فکر دی ہے ۔ خسارے میں وہی رہتے ہیں جو غور و فکر کی بجائے ریوڑ کی طرح جیتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ بھارت اور اس کے اداروں پر ملبہ ڈال کر یا افغانستان کے خلاف ہوا میں تلواریں چلا کر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ چلیں مان لیا کہ بھارت اور افغانستان یا ایران ہمارے دوست نہیں ۔ کیا لمحہ بھر کے لئے اس بات پر غور کیا جا سکتا ہے کہ چار مارشل لاؤں کے زمانوں سے پالیسی سازی پر ”گاڈ فادر ” کی طرح قابض ہوئے ذہن اس ملک اور عوام کے سجن ہیں ؟ کہاں لکھاہے نیشنل ایکشن پلان میں قاتلوں کو اسپیس دی جائے گی ۔ مذاق بن گئی ہے بدقسمت قوم اپنے پالیسی سازوں کے اعمال و افعال کی وجہ سے ۔ کیوں تنقید نہیں ہو سکتی پالیسی سازوں پر ۔ کیا وہ خلائی مخلوق ہیں ۔ منتخب پارلیمان سے بالا بالا فیصلے کرنے ہیں تو تالے لگا دیجئے پارلیمان کے ایوانوں کو جمہوریت کو کالا کافر قرار دے دیجئے ۔ لایئے ایک نیا نظریہ ضرورت ۔ بہت ادب کے ساتھ عرض کروں گا حضور ! ایسے نہیں چلے گا شدت پسندی محض بندوق اُٹھا نے بندے مارتے چلے جانے کا نام نہیں ۔ بلکہ بندوق برداروں سے ذہنی ہم آہنگی ان کے لئے سہولت کاری بھی شدت پسندی ہے ۔ یہ سادہ سے معاملات نہیں ۔ بہت دیکھ لیا ۔ کبھی مجاہد اور کبھی دہشت گرد ۔ کبھی قاتل اور کبھی بھٹکے ہوئے بچے ۔ افغان جہاد سے حساب شروع کرنا ہوگا اس جہاد میں 25ہزار کے قریب پاکستانی کھیت ہوئے تھے ۔ منافع کس نے کمایا ۔ کبھی ان جرنیلوں ، مولویوں اور جہادی سوداگروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایئے جو افغان جہاد کے برسوں میں اربوں پتی ہوئے ۔ اخلاقیات اور اقدار کی پامالی کے ہجوم اس مک میں مردحق مرد مومن کہلا تے پھرے ۔ میرے بہت سارے دوست جو شام ہوتے ہی ٹی وی چینلوں پر عدالتیں لگائے سیاستدانوں کو غدار ، چور اور نجانے کیا کیا کہتے ہیں جھوٹ کے بیانیئے میں رنگ بھرنے کے لئے کبھی کسی کے تہہ خانے سے چارارب برآمد کرتے ہیں کبھی کسی سمندری لانچ سے تین ارب ڈالر اور دس من سونا کسی دن یہ سوال بھی تو پوچھیں وہ رقمیں اور سونا کہاں گیا ؟ لاریب سیاستدان گنگا نہائے ہوئے ہر گز نہیں خامیاں ہیں اور بھی کچھ لیکن کیا دوسرے اداروں میں معصوم فرشتے ہیں ۔ ہم اہل صحافت کو احتساب کا بہت شوق ہے تو چلیں گھر سے آغاز کریں ۔ 1980ء کی دہائی کے کنگلے کیسے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کے مالک بن گئے ۔ ساری دنیا کی پگڑیاں اُچھالتے پھرے۔ سابق چیف جسٹس افتخار احمد چودھری اور ان کے بیٹے کے مقدمے میں انصاف کی باری آئی تو بیٹے کی اہلیہ کے رشتے میں خالو کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ بنا دیا ۔ صحافتی آداب کا کچھ پاس ہے ورنہ درجن بھر کیا سینکڑوں لوگوں کے نام لکھے جا سکتے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں کی ملازمت کے دوران یوں مال جمع کیا کہ آئندہ نسلوں کی قسمتیں سنور گئیں ۔احتساب بہت ضروری ہے ہونا چاہیئے کیا یہ سچ نہیں کہ چار فوجی آمروں نے سیاست دانوں کے احتساب کے نام پر اپنی نرسریوں سے جو مخلوق تخلیق کر کے سیاست کے میدان میں اُتاری اس مخلوق نے کیا نہیں کیا ۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق معاملات نہیں چلیں گے ۔ مکررعرض ہے ریاست کو واضع کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتی ہے ۔ یہ جو اسلام آباد میں بنگلہ دیش فارمولہ یا اس سے ملتے جلتے فارمولوں پر عدلیہ اور عسکری اداروں کے سابقین سے طاقتوروں کے صلاح مشورے جاری ہیں یہ بذات خود نظام ہائے حکومت سے انحراف ہے ۔ کیا کسی 20 یا 21ویں گریڈ کے سرکاری ملازم کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ شام کو اپنے دولت کدے پر سابقین کی منڈلی سجائے اور اصلاح احوال کے لئے تجاویز مانگے ؟ ۔ ثانیاًیہ کہ کسی کو یہ حق بھی نہیں کہ وہ احسان اللہ احسان کو محفوظ راستہ دے ۔ قانون موجود ہے اور قانون کو راستہ بنا دیجئے ۔ کیا وقت آگیا ہے عمر بھر ملازمت کے دوران ہر غیر قانونی حکم پر پورے ایمان کے ساتھ عمل کرنے والے اب دانش کا اعلیٰ نمونہ بنے ٹی وی چینلوں پر ہمیں اخلاقیات ، جمہوریت ، قانون اور آئین پر درس دیتے ہیں ۔ اپنے اپنے عہد کے فوجی آمر وں کا ساتھ نہ دیتے تو پتہ چلتا کتنے بہادر اور قانون دوست ہیں آپ ۔ بند کیجئے یہ بیرونی مداخلت کا منجن بیچنا ۔ یہاں دودھ کا دھلا کوئی نہیں ۔ اپنے اند ر موجود خرابیوں اور دیگر مسائل کے حل پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ پڑوسی تب تبدیل ہوتے ہیں جب مکان کرائے کا ہو ۔ جغرافیائی پڑوسیوں کے ساتھ اعتماد سازی کی ضرورت ہے ۔ لاریب برابری کی سطح پر کسی کا باج گزار بننے کی کوئی ضرورت نہیں امریکہ کا مخلص بن کر دیکھ لیا ۔ خدا کیلئے اپنے ملک اور لوگوں کے لئے اخلاص سے عبارت پالیسیاں وضع کیجئے یہی ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کی ضرورت ہے ۔ 

بشکریہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
827
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza mehdi baqari

    دبنگ بے لاگ بہادرانہ حسینی بیانیہ ۔۔۔۔سلامتی ھو٫سیدی

جواب دیجئے

%d bloggers like this: