جہانگیر بدر،سیاسی کلچر کا روشن چہرہ – حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

haiderجہانگیر بدر حیاتِ ابدی کے سفر پر روانہ ہوگئے۔ 1944 میں اس دنیا میں سفرِ حیات کا آغاز ہوا جو 2016 کے گیارہویں مہینے کے تیرہویں دن تمام ہوا۔ فصیل کے اندر (اندرون لاہور) آباد شہر کے ایک سفید پوش خاندان سے تعلق رکھنے والے بدر سفر حیات کے اختتام پر چار درجہ ترقی کر کے درمیانے طبقے میں شمار ہونے لگے تھے لیکن خالص لاہوریوں والی عادتوں، لہجے سے اور یار باشی (دوست نوازی) وہی تھی جسے قدیم لاہوری زندگی سمجھتے ہیں۔ رخصت ہوتی اس نسل کی چند باقی نشانیوں میں شمار ہوتے تھے جس نے سیاسی تعلق اور نظریات کو ہمیشہ مقدم سمجھا۔ آج کی نسل کا برگر برانڈ حصہ یا سوشل میڈیا کے فیس بکی مجاہدین جب جمہوریت کو گالیاں دیتے ہوئے آمروں کے قصیدے گاتے اور ملک مستقبل آمروں کی چوبداری میں دیکھتے ہیں تو تاریخ و سیاست اور صحافت کے اس طالب علم کو سید محمد قسور گردیزی، قمر راجپڑ، عارف محمود قریشی سے شہید اقبال ہسبانی، میاں افتخار حسین سے راؤ مہر روز اختر مرحوم، اعجاز احمد مڈو سے جہانگیر بدر تک کے پرعزم سیاسی کارکن یاد آجاتے ہیں جنہوں نے زمین زادوں کے حقِ حکمرانی کے لئے فکری استقامت کے ساتھ میدانِ سیاست میں اپنے حصے کا فرض ادا کیا۔ پاکستان کی 70 سالہ سیاسی  تاریخ لکھنے والا مؤرخ زمین زادوں کی ان تین نسلوں کو کبھی نظر انداز نہیں کر پائے گا جنہوں نے قومی جمہوریت ور سماجی مساوات کے لئے اپنے اپنے حصے کا فرض شان سے ادا کیا۔ اس فرض کی بجا آوری میں ہی کامریڈ حسن ناصر لاہور کے شاہی قلعہ میں ایومی آمریت کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء ہمارے محبوب دوست اور سندھی قوم پرست رہنما نذر عباس کو نگل گیا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دانش و لیاقت کے پکھڑے اڑاتے "مجاہدین” کو کیا معلوم کہ طلوع صبح جمہور کے لئے متحدہ پاکستان اور پھر موجودہ پاکستان کے سیاسی کارکنوں، ادیبوں، شاعروں، اہلِ دانش، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے شب تاریک سے لڑتے بھرتے سفر کیسے طے کیا۔

جہانگیر بدر اس نسل کے فرد تھے جس نے ایوبی آمریت کے زمانہ میں شعوری مسافت کا آغاز کیا۔ زمانہ طالب علمی میں وہ این ایس ایف کے سرگرم کارکن تھے۔ پہلے کالج اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں ترقی پسند طلباء کے سرخیلوں میں شمار ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے 1960 کی دہائی کے آخری برسوں نئی سیاسی جماعت بنائی تو دوسرے بہت سے نوجوان ترقی پسندوں کی طرح وہ بھی بھٹو کی محبت کے اسیر ہوئے اور آخری سانس تک پیپلز پارٹی کے جیالے ہی رہے۔ سیاسی شہرت انہیں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران اس وقت ملی جب ملٹری کورٹ سے دی گئی 10 کوڑوں کی سزا پر عملدر آمد کے لئے کوٹ لکھپت جیل لاہور کے حکام نے کرنل قریشی کے حکم پر انہیں کوڑے لگوانے کے لئے "ٹکٹکی” (جس پر باندھ کر کوڑے مارے جاتے تھے) جیل کے اس احاطہ دیور کے قریب لگوائی جس میں اس وقت سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو شہید قید تھے۔ ضیاء رجیم کا خیال تھا کہ اپنے کارکن کو کوڑے پڑنے سے اذیت بھری چیخیں سن کر بھٹو کا حوصلہ ٹوٹے گا۔ بدر بھی جیل حکام کے مقصد کو بھانپ گئے۔ پھر نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ہر کوڑے کے جواب میں جئے بھٹو کا نعرہ بلند کیا۔ پانچویں کوڑے کے بعد ان کے منہ کے سامنے باندھا گیا مائیک اتروا دیاگیا کیونکہ ہر کوڑے کے بعد بدر چیخیں مارنے اور منتیں کرنے کی بجائے جئے بھٹو کا نعرہ لگاتا تھا جواباََ جو لاؤڈ سپیکر کے ذریعے ساری جیل میں گونجتا اور جواب جیل میں بند پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکن مستانہ وار نعرے لگاے۔ جہانگیر بدر نے پہلی جیل یاترا 1968ء کے ایوبی آمریت کے زمانہ میں کی جب ملک بھر کے طلباء شملہ معاہدے سمیت چند دوسرے امور پر سراپا احتجاج تھے۔ اندرون لاہور کے اس باسی کو بیرون لاہور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کے حق میں منعقدہ انتخابی جلوسوں میں تقاریر سے بھی کافی شہرت ملی مگر بھٹو کا جیالا ہونا ان کی شہرت اور زندگی بھر کی پہچان بن گیا۔ جنرل ضیاء کے عہد ستم کی قیدوبند اور کوڑوں کی سزا نے بدر کو آمریت کے خلاف دو دھاری تلوار بنا دیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب پر بھی فائز رہے۔ 1988ء میں لاہور میں اپنے آبائی حلقے (اندرون شہر) سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہیں سائنس و ٹیکنالوجی، پٹرولیم، ہاؤسنگ اور مذہبی امور کے وفاقی وزیر کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا۔

بدر سیاسی کارکنوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جن کے لئے نظریات تبدیل کرنا اور پارٹی بدل لینا جرمِ عظیم تھا۔ ضیائی مارشل لاء کے دور میں پرعزم جدوجہد اور بے مثال قربانیوں نے انہیں جہاں سیاسی کارکنوں کا محبوب بنادیا وہیں خود بھٹو خاندان بھی ان کی قربانیوں کا معترف ہوا۔ بیگم نصرت بھٹو انہیں اپنے بڑے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو کی طرح سمجھتی تھیں۔ پارٹی سے وفاداری اور قربانیوں نے لاہور کے ایک عام مگر باہمت سیاسی کارکن کو پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب پر بھی لا بٹھایا۔جنرل ضیاء کے دور اور پھر بعد کے کئی ادوار میں بدر کو چن لینے کی صورت منفعت بخش پیشکش ہوئیں۔ 1990ء کے عام انتخابات سے قبل میں نواز شریف کی ایماء پر ان کے بھائی عباس شریف اور چند بااعتماد لوگوں نے ان سے ملاقات میں پیشکش کی کہ اگر وہ پیپلز پارٹی چھوڑ دیں تو ان کے مدمقابل آئی جے آئی کے امیدوار سمیت دیگر امیدواروں کو دستبردار کروایا جا سکتا ہے۔ بدر کا جواب تھا "سیاسی کارکن کے پاس نظریہ اور وفاداری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ میں دونوں چیزیں فروخت نہیں کر سکتا”۔ ایک عام سیاسی کارکن کی حیثیت سے عملی سیاست کے میدان میں اترنے والے جہانگیر بدر نے اپنے سیاسی سفر میں بہت سارے اتار چڑھاؤ دیکھے، ہر مشکل وقت میں وہ جس طرح اپنی پارٹی کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہے یہ اعزاز بہت کم لوگوں کے حصے میں آیا۔ ایک سفید پوش اور محنت کش باپ کے فرزند کو 1966ء میں پہلی گرفتاری اور اپنے والد کی نصیحت کبھی نہیں بھولی۔ بدر کے بقول ان کے والد تھانہ لوہاری کی حوالات میں ان سے ملنے آئے تو اپنے مخصوص انداز میں بولے "باؤ پتر (وہ بدر کو اسی نام سے پکارتے تھے) ویکھیں یار سادی کنڈنہ لوا دیئیں (باؤ دیکھنا یار ہمیں شرمندہ نہ کروا دینا)۔ بدر سیاسی کاکنوں کی جس مستقل مزاج نسل سے تعلق رکھتے تھے اس نسل نے سیاسی جدوجہد میں پسپائی کو ہمیشہ گالی سمجھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ بھٹو کے اولین جیالوں میں سے تھے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ بدر اور ان جیسے ثابت قدم کارکنوں نے بھٹو کا جیالہ ہونے کو ایک اعزاز بنا دیا۔ 2008ء میں برسرِ اقتدار آنے والی پیپلز پارٹی (یہ اقتدار محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد منعقدہ انتخابی نتائج کی بدولت ملا تھا) انہیں 2009ء میں پنجاب سے سینیٹر منتخب کروایا۔ پچھلے سال انہیں پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کا سیاسی مشیر مقرر کیا گیا تھا۔

جہانگیر بدر پارٹی، سیاست اور اقتدار کے عروج زوال میں ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ ان کے سیاسی نظریات اور معاملاتِ زندگی پر لوگوں کو دو آراء رکھنے کا حق ہے لیکن سچ یہ ہے کہ وہ نظریاتی سیاسی کارکنوں کا سرمایہ افتخارتھے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران ان سے دو تین بار ملاقات رہی۔ ان ملاقاتوں میں وہ اس بات پر دل گرفتہ دکھائی دیئے کہ تعلیمی اداروں میں طلباء یونینوں کی بحالی کے لئے کوئی بھی حکومت سنجیدہ اقدامات نہیں کر پائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل تربیت یافتہ نئی نسل کا داخلہ بند کرنے کے ہم سب مجرم ہیں۔ ان کی بات سو فیصد درست اور دکھ بجا تھا۔ چند خرابیوں کے باوجود تعلیمی اداروں کی طلباء یونینوں نے مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کو تربیت یافتہ نوجوان سیاسی کارکنوں کاتازہ خون فراہم کیا۔ جب سے سیاسی کارکنوں کی جگہ نالی موری کے ٹھیکیداروں  نے  سیاسی جماعتوں کی نچلی سطح کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہے اس کا خمیازہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی عمل دونوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جہانگیر بدر کی وفات سے پاکستان کے سیاسی کارکنوں کی پرعزم جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب بند ہو گیا۔ اب وہ اپنے رب کے حضورحاضری کے لئے روانہ ہو چکے۔ حق تعالیٰ ان کی لغزشوں پر مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔ آمین۔

Views All Time
Views All Time
757
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   بھٹو کے عدالتی قتل کے39 سال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: