Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آگہی کا قرینہ – حیدر جاوید سید

آگہی کا قرینہ – حیدر جاوید سید

بہت ادب کے ساتھ یہ دریافت کرنے کو جی چاہتا ہے ”حضور! اگر کوئی بندہ صادق و امین نہ رہے تو اسے کیا کہا جائے؟” لیکن معاف کیجیئے گا یہ پوچھنے سے قاصر ہوں۔ کئی وجوہات ہیں اور یقیناََ ہیں مگر وجوہات کیا ہیں ۔ ہم پسند و ناپسند کی شدت پسندی میں گردن تک دھنسے انبوہ کی باقیات ہیں ۔ اپنی ذات کے سچ پر رقصاں کیونکہ دوسرے کا سچ مسترد کرکے جیتے ہیں۔ زندگی یہی ہے چند کلیاں نشاط کی چن کر زندگی کو محسوس کیا جائے۔ احساس زندہ ہے کیا ہمارے سماج میں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر دو چار دن کی مسافت کے بعد منہ پھلائے آن کھڑا ہوتا ہے۔ مجھے اب سوالوں سے ڈر لگنے لگا ہے۔ پتہ نہیں کیوں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ زیاں کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ اقدار اور نظرئیے کی بکل مارے زندگی کے 58سنگ میل طے کرچکنے والے شخص کو ماضی کی یادوں بھری زنبیل کھولتے ہوئے ندامت تو نہیں ہوتی پر منہ چڑاتے سوال تنگ کرتے ہیں۔ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کا پیرا شوٹروں نے بیڑا غرق کردیا ہے۔ بزرگوں اور بالخصوص مرحوم و مغفور بزرگوں بارے کلام کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ خلط ملط ہوا۔ مسخرے پن پر اترے لوگوں کو کون سمجھائے۔ زمانہ چال چلتا ہے۔ اس کی چالوں کو سمجھنا ضروری ہے نا کہ جوابی چالوں سے جی بہلانا۔ بہت سال ہوئے ہیں جب آندرے ماجھو کو پڑھا تھا۔ ہند کے عظیم دانش مند اشوک اعظم کے عہد کے دانا نے کیا خوب بات کہی تھی۔ ” مورکھ کلام کرنے میں احتیاط برت تاکہ اگلے وقتوں میں تیرا ذکر فہمیدہ لوگ کریں نا کہ بھانڈ” اگلے دن استاد مکرم آل سرور نقوی کی خدمت میں اپنا سوال رکھا۔ مسکراتے ہوئے انہوں نے شفقت بھرے انداز میں کہا۔ ” ارے میاں’ نفرت میں برداشت کا دامن نہ چھوڑنے والے کلام کے حسن کو قائم رکھتے ہیں”۔ دو ساعتوں کے لئے انہوں نے نیوز روم کے ماحول پر نگاہ ڈالی اور پھر گویا ہوئے۔ ”مطالعہ آگہی دیتا ہے اور آ گہی قرینہ۔ انسان خواہشوں کے پیچھے ہلکان ہوتا ہے نہ ہلاک”۔ ہائے کس سمت سرپٹ بھاگ رہا ہے سارا انبوہ۔ سچ یہ ہے کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس ملک کے انقلابیوں کے ”بڑوں” نے امریکہ اور یورپ کی امدادوں پر چلنے والے اداروں میں ملازمتیں کرلیں۔ رجعت پسند امریکیوں کے سپاہی بنے’ دنیا کو عدم توازن کی جنگ میں دھکیلنے کے ذمہ دار ہیں اب وہ امریکہ کو مشکلات کا ذمہ دار قرار د یتے ہیں تو ہنسی آتی ہے۔ امریکہ نہیں اپنے مسائل کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ ایٹمی طاقت کا چار سال سے وزیر خارجہ ہی نہیں ہے سرتاج عزیز بھلے آدمی ہیں بزرگ بھی مگر وہ اقتصادیات کی دنیا کے شخص ہیں۔ خود جناب نواز شریف کو خارجہ امور کی کتنی سوجھ بوجھ ہے اس پر مغز کھپانے کی ضرورت نہیں۔ تین پڑوسی ناخوش ہیں اور ہم چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہیں۔ خیر جانے دیجئے یہ ہمارا موضوع ہے ہی نہیں۔ بالائی سطور میں عرض کیا تھا۔ انسان اور کتابیں پسند ہیں۔ انسانوں کی طرح اب کتابیں بھی خال خال ہی دستیاب ہیں۔ ادب کے نام پر جو تخلیق ہو رہا ہے اسے ادب کا گلو بٹ کہہ لیجئے۔ نقالچی بہت زیادہ ہیں۔ وہی پیرا شوٹروں جیسی آنیاں جانیاں’ اپنے اصل سے جوڑنے والے نجانے کہاں گئے۔ عجیب بات ہے کہ عربیوں نے آج تک امرائو القیس کو اپنی تاریخ اور ادب سے تین طلاقیں دے کر باہر نہیں کیا۔ عربی ادب کا چندے مہتاب آج بھی امرؤ القیس ہی ہے۔ ہمارے یہاں کے نصابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ لیجئے۔ کیا مجال کہ اس میں آپ کو خوشحال خان خٹک’ رحمٰن بابا’ مست توکلی’ بلھے شاہ’ شاہ حسین’ خواجہ غلام فرید’ سچل سرمست’ مولوی لطف علی مل جائیں۔ تلسی داس اور بھگت کبیر۔ ارے توبہ توبہ کیوں ایمان کے تالاب کو گدلا کرنے کا ارادہ ہے۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے اور اپنے فیصلے خود نہ کرنے کی سزا بڑی کڑی ہے۔مکررعرض ہے ہم اگر ایک فہمیدہ سماج تعمیر کرنے کے آرزو مند ہیں تو علم و مکالمے کو رواج دینے کے ساتھ اپنے اصل کی طرف شعوری طور پر پلٹنا ہوگا۔ ہمارے بچے اشوک اعظم’ راجہ پرہلاد’ رضیہ سلطانہ اور داراشکوہ کو کیوں نہیں پڑھ سکتے۔ تلسی اور بھگت کبیر میں کیا خرابی ہے۔ کیا بٹواروں سے تاریخ تبدیل ہو جاتی ہے؟ تاریخ بٹواروں کا ذکر کرتی ہے تاریخ کا بٹوارہ نہیں ہوتا۔ اندھیرا بھی بڑھ رہا ہے اورحبس بھی جان لیوا ہوتا جا رہا ہے۔ چراغ جلانے اور مکالمے کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔ بھائیوں کا گوشت شوق سے کھانے والے انبوہ کو سماج میں بدلنے کے لئے جس فہمیدہ قیادت اور دانش کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آئے گی۔ حاضر مال سے امیدیں باندھ کر بربادیاں بوئی جاسکتی ہیں۔ بالآخر زمین زادوں کو عصری شعور کے ساتھ ثابت قدمی سے اگلی نسلوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ تحریر کے اس موڑ پر حریت فکر کے پیشوا امام حسین ؑ کا ارشاد یاد آگیا۔ فرماتے ہیں ”ظلم کے خلاف جدوجہد میں جتنی تاخیر کرو گے اتنی ہی زیادہ قربانیاں دینا پڑیں گی”۔ کیا ظلم محض انصاف اور مساوات کی عدم فراہمی ہے؟ یہ تو ہے مگر تاریخ کے سچ کو چھپانا’ اصول سے کاٹ کر رکھنا’ مکالمے کو زیاں قرار دینا اور سوال کرنے کو بدتمیزی سے تعبیر کرنا بھی ظلم ہی ہے۔سوچنے والی بات مکرر عرض کئے دیتا ہوں بہت ادب کے ساتھ یہ دریافت کرنے کو جی چاہتا ہے کہ حضور! اگر کوئی صادق و امین نہ رہے تو اسے کیا کہا جائے؟ سادہ سے سوال کو عصری سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے آئیے اس کا جواب تلاش کرتے ہیں تاکہ اندھیرے اور گھٹن میں کچھ کمی آسکے۔

Views All Time
Views All Time
597
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: