Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے ظلم پر نہیں | حیدر جاوید سید

معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے ظلم پر نہیں | حیدر جاوید سید

فقیر راحموں اور میں یہی سمجھ پائے ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ”اب تک جو بھی ہوا اونوں جاندا کرو“۔ آپ وزیراعظم کے اپنے الفاظ پڑھ لیجئے وہ فرماتے ہیں ”نظام اور محکموں کو کیا ہوگیا ہے دو‘ دو سال میں مکمل ہونے والے منصوبوں پر 20‘ 21سال لگ جاتے ہیں۔ تحقیقات کریں گے تو ترقیاتی کام رُک جائیں گے۔ ماضی کے منصوبوں میں غیرضروری تاخیر ہوئی۔ ایک وقت آئے گا کرپشن کرنے والے انجام کو پہنچیں گے“۔ ان ارشاداتِ نواز پر سردُھن رہا ہوں۔ سادہ سا سوال پوچھنے کی اجازت ہوتو عرض کروں 10سالہ معاہدہ جلاوطنی کرکے جدہ سدھارنے اور قیام کے برسوں کو نکال لیجئے اور پھر حساب کیجئے کہ 1984ءمیں جب آپ گورنر جیلانی کی کابینہ میں پنجاب کے وزیرخزانہ بنے تھے تب سے اب تک اقتدار کے ایوانوں اور وسائل پر کتنے برس دسترس رہی؟ حضور! اس ملک میں بڑھکیں مارنے اور الزامات کی دھول اڑانے کا رواج بہت ہے۔ اپنی ناقص کارکردگی اور کرپٹ نظام کی سرپرستی کے قصوں سے صرفِ نظر کرکے پچھلی حکومتوں پر ملبہ ڈالنے کا فیشن عام مگر کوئی بھی دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے گھٹالے قبول نہیں کرتا۔ فقیرراحموں کہتے ہیں ”جب دل پر ہاتھ رکھو تو جیب دل کے اوپر ہوتی ہے سو ہاتھ دل پر نہیں جیب پر ہوتا ہے“۔ کیوں نہ جیلوں کے دروازے کھول دیئے جائیں جس سے حوالاتیوں اور قیدیوں‘ ان کی دیکھ بھال اور جیلوں کے عملے پر اٹھنے والے سالانہ اربوں روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ عدالتوں کو تالے لگوا دیجئے بہت مال بچے گا۔ 20‘ 20سال تک اپیلوں کی سماعت نہیں ہوتی‘ کبھی کبھی تو ملزم انتقالِ پُرملال کے بعد بری ہوتے ہیں۔

مکرر عرض ہے ہم یہی سمجھ پائے ہیں کہ وزیراعظم چاہتے ہیں گزشتہ راہ صلوٰة۔ دیہاتی زبان میں جو ہوگیا اسے دفع کرو۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے قوانین اور ان قوانین کے اطلاق کےلئے قائم اداروں کی کارکردگی کیاہے؟ وزیراعظم ہمیں یہ بتائیں کہ کرپشن ختم نہیں ہوئی تو بتدریج کمی کے لئے اقدامات نہ کرنے کی ذمہ داری کس پر ہے؟ یقین کیجئے یہ سوال پوچھنے کا کوئی ارادہ نہیں کہ صادق و امین کس کو کہتے ہیں؟ کیا وزیراعظم اس امر سے ناواقف ہیں کہ ان کا میٹروبس منصوبہ خسارے کا سودا ہے۔ یقیناً وہ یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ چند روز قبل شیخوپورہ میں وہ جس بھکی پاورپلانٹ کا افتتاح فرمانے گئے تھے اس کی دو ٹربائنیں افتتاح سے قبل خراب ہوچکی تھیں۔ نیلم پاور پراجیکٹ کتنا پرانا منصوبہ ہے اور اب تک اس قوم سے اس ضمن میں واپڈا کتنے کھرب روپے غنڈہ ٹیکس وصول کرچکا۔ وہ کہتے ہیں کہ سڑکیں تعمیر کرنے پر تنقید کرنے والوں کو اﷲ ہدایت دے۔ تو کیا خسارے کے منصوبے بنانے اور کمیشن جیب میں ڈال لینے والے ہدایت یافتہ ہیں یا انہیں ہدایت کی ضرورت نہیں۔ کم ازکم ہمیں تو ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کرپشن کو قانونی تحفظ دے دیا جائے۔ چند برس ہوتے ہیں جب دفاعی پیداوار کے وفاقی وزیر عبدالقیوم جتوئی نے کہا تھا ”سب کرپشن کرتے ہیں سیاستدانوں کو بھی اجازت ہونی چاہیے“۔ پیپلزپارٹی کا دور تھا تب جناب نوازشریف آستینیں اُلٹ کر کوسنے دیتے دکھائی دیئے اب وہ کہتے ہیں کرپشن کی تحقیقات کریں تو ترقیاتی کام رُک جائیں گے۔ کسی تعصب کے بغیر سوال ہے پچھلے چار سال میں کیا ترقی ہوئی؟ مہنگائی میں مجموعی طور پر 380فیصد اضافہ ہوا۔ حکومت آج تک صنعتی ملازمین کے مالکان کو حکومت کی مقررکردہ کم ازکم تنخواہ دینے اور 5فیصد سالانہ اضافہ ادا کرنے پر مجبور نہیں کرسکی۔ قوت خرید میں کمی کی وجہ سے تعمیراتی کاموں میں پچھلی دہائی کے مقابلہ میں رواں دہائی کے دوسرے نصف کے دو برسوں کے دوران 60فیصد کمی ہوئی اس سے فوری طور پر دیہاڑی دار مزدور متاثر ہوا۔ پہلے ہفتے میں اوسطاً 5دن کام ملتا تھا اب 3دن اوسطاً ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران ارکان پارلیمنٹ کی مراعات اور تنخواہوں‘ صوبائی اور وفاقی وزراءو مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات میں 500فیصد اضافہ ہوا۔ مقابلتاً عام آدمی کو کیا ملا؟ لاہور میں میٹروبس سے منسلک جو فیڈربسیں چلائی گئیں ان کی روزانہ آمدنی اخراجات سے 60فیصد کم ہے۔ ان منصوبوں کا مجموعی فائدہ کیاہے جن کا مستقل مالیاتی بوجھ شہریوں کی گردن پر رہنا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ آپ ترقیاتی کاموں سے نہیں بلکہ کمیشن سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔ ہرکرپٹ شخص احتساب سے خوفزدہ ہوکر جمہوریت خطرے میں ہے کا راگ الاپنے لگتا ہے۔ وہ جمہوریت ہے کہاں جسے خطرہ ہے۔ جمہور تو اس کو دیکھنے کے لئے ترس گئے۔ لاریب اس ملک کا سب سے اہم مسئلہ کرپشن ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ صرف سیاستدان کرپٹ نہیں اس گنگا میں سب غوطے لگاتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر نظام میں خرابیاں ہیں۔ انتخابی نظام سے نظام عدل تک سب کی اصلاح کی ضرورت ہے مگر خاندانی بالادستی کو جمہوریت قرار دے کر ایوان اقتدار پر قابض رہنے والے طبقات اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے نان ایشوز کو ایشو بناتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے کن بیمار منصوبوں کو پاﺅں پر کھڑا کیا۔ واپڈا‘ سٹیل مل‘ پی آئی اے اور ریلوے چار بڑے اداروں کی دگرگوں حالت سب کے سامنے ہے۔ اطلاعات کی وفاقی وزیرمملکت مریم اورنگزیب کہتی ہیں وزیراعظم فلم انڈسٹری کی بحالی چاہتے ہیں۔ خوب مگر وہ پی آئی اے کی بحالی کے بلندبانگ دعوے کیا ہوئے۔ ساڑھے تین ارب روپے مزید بھاڑ میں جھونکے گئے۔ مان لیجئے کہ گڈگورننس کا فقدان ہے۔ پنجاب میں جو صاحب (فواد حسن فواد) مہنگی ادویات خریدنے اور دونمبر ادویہ ساز اداروں کو نوازنے میں مشہور تھے اور ایک شہرت ان کی حمزہ شہباز کا فرنٹ مین ہونا تھا اسے ”عزت“ کے ساتھ ایوان وزیراعظم میں بٹھا دیا گیا۔ جی ہاں ترقی ہوئی اور بالکل ہوئی۔ حمزہ شہبازشریف کے مرغیوں‘ ائیرکنڈیشنروں اور دودھ کے کاروبار میں۔ اتفاق مل کا سریا اور منشا کا سیمنٹ بیچنے میں یا پھر پنجاب پولیس کی نئی وردی کے کپڑے کا ٹھیکہ منشا گروپ کو دینے میں۔ حساب تو کیجئے کہ صرف فیصل آباد میں کتنے صنعتی ادارے بند ہوئے اور کتنوں نے تین کے بجائے کام کی ایک شفٹ کردی۔ شالیمار ایکسپریس کا نیا ٹھیکیدار خواجہ سعد رفیق کا رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔

ان تلخ نوائیوں پر معذرت خواہ ہوں مگر چار اَور کا سچ یہی ہے۔ اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مرکزی کردار سید توقیر شاہ کو ڈبلیو ٹی ایچ او سے واپسی پر ایوان وزیراعظم میں محفوظ کرنے کا پروگرام ہے۔ ایفی ڈرین مارکہ حنیف عباسی کے لئے ترقی کی راہ کھولنے پر حکومت اور وزیراعظم دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کرپشن کرنے والے انجام کو کب پہنچیں گے۔ خاک ہوجائیں گے ہم انصاف ہونے تک‘ والا معاملہ ہے۔ بہت ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ ”سب اچھا نہیں ہے“۔ صرف لاہور میں سٹریٹ کرائم کی شرح میں 27فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال کے مقابلہ میں میٹروبس روٹ جیب تراشوں کی جنت بن چکا پر ہم بھی عجیب قسم کی مخلوق ہیں پانچ سات ہزار کی جیب تراشی کرنے والا اگر ہتھے چڑھ جائے تو اس کی درگت بنادیتے ہیں۔ اربوں ڈکار جانے والوں کو قیادت سونپ دیتے ہیں۔ کچھ ہمیں انفرادی طور پر بھی اپنی غفلتوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ وزیراعظم کے خیالات پر باتیں کرتے‘ لکھتے کالم طویل ہوگیا۔ جن لمحوں یہ سطور لکھ رہا ہوں یہ سات مئی کی دوپہر ہے۔ سات مئی ہمارے دوست اور پاکستان میں انسانی حقوق کے علمبردار سید خرم ذکی کی شہادت کا دن ہے۔ ان کی والدہ کا کہناہے کہ ”اگر سب معاف بھی کردیں گے تو وہ اپنے لخت جگر کے قاتلوں کو معاف نہیں کریں گی“۔ افسوس کہ خرم ذکی کا خون رائیگاں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ نامزد ملزم سکیورٹی کے حصار میں دندناتے پھرتے ہیں۔ اس ملک میں خاک انصاف ہوگا جہاں خرم ذکی کی زندگی میں اسلام آباد کی ایک عدالت ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردے کہ ”کراچی سے منہ اٹھاکر چلے آتے ہیں درخواست دائر کرنے“۔ مان لیجئے کہ بس سب اﷲ توکل چل رہا ہے۔ ان سموں امام علیؑ بہت یاد آرہے ہیں۔ فرمایا تھا ”معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں“۔

بشکریہ خبریں ملتان

مرتبہ پڑھا گیا
748مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza mehdi baqari

    بہت بہت پر مغز بیانیی۔۔۔۔۔۔ظالماں دے ظلم دی اخیر ھونڑی۔۔۔۔ٹھاہ

Leave a Reply

%d bloggers like this: