Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک تھانیدار کے دربار میں گزرا نصف گھنٹہ | حیدر جاوید سید

by May 7, 2017 بلاگ
ایک تھانیدار کے دربار میں گزرا نصف گھنٹہ | حیدر جاوید سید

تھانیدار: جی صوفی صاحب کیسے آنا ہوا ؟
جیب کترے نے موبائل نکال لیا ہے رپورٹ درج کروانی ہے
کہاں کٹی جیب؟
شاہدرہ بس سٹاپ پر
وہاں تو پانچ چھ بس سٹاپ ہیں۔ کون سے والے پر ؟
شیخوپورہ والے بس سٹاپ پر
تھانیدار نے جواب سن کر پہلے سے موجود مہمان سے گفتگو شروع کر دی۔ “یار چوہدری بڑا مشکل ہو وے گزارا۔ اتوں افسراں دی فٹیک۔ لوگ تے سمجھ دے نے اسیں رشوت دے بغیر ساہ وی نئیں لیندے۔ افسراں نوں کوئی کجھ نئیں کہندا”۔ چوہدری نامی مہمان نے جواب میں افسروں کی شان میں ایک نستعلیق قسم کا قصیدہ پڑھا۔ پھر دونوں نے مشترکہ قہقہہ لگایا۔ تھانیدار ایک بار پھر میری طرف متوجہ ہوا۔ “اچھا تو آپ کی جیب کٹ گئی ہے”۔” جی مجھ بدقسمت کی ہی جیب کٹی ہے”۔ “صوفی جی یہاں بندے مر جاتے ہیں حکم ربی سے آپ ایک جیب کٹ جانے پر پریشان ہو کر تھانے چلے آئے”؟ “سفید پوش مزدور آدمی ہوں جی نقصان ہوا ہے میرا اس پر دکھ بھی ہو گا”۔”کتنی رقم تھی جیب میں”؟ “رقم تو بارہ پندرہ سو روپے ہے اور وہ موجود بھی ہےی۔ موبائیل نکالا ہے جیب تراش نے”۔ “پر موبائیل تے توں ہتھ وچ پھڑیا ہویا اے صوفی” تھانیدار کے چوہدری نامی مہمان نے کہا۔ “جی دوسرا موبائیل جو سائڈ والی جیب میں تھا”۔ “اچھا دو دو موبائیل” اس نے سر سے پاؤں تک غور سے میرا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
تھانیدار: ناں کی اے صوفی؟
حیدر جاوید سید فقیر راحموں
شاہ جی اے فقیر راحموں کون اے؟
جی میرا ای ناں اے
فیر حیدر جاوید سید کون اے؟
ناں میرا حیدر جاوید سید ای اے۔ پر کجھ درویشی دا شوق سی تے یاراں نے فقیر راحموں ناں رکھ دتا
راتی یارہ (گیارہ) وجے شاہدرہ کی کرن ڈئے سو؟
شیخوپورہ جان والی ویگن لبھ ریاں ساں۔
ویگن لبھی شاہ جی؟
آہو مینو ویگن لبھی تے میں جیب کترے نوں لبھ پیا
کدوں پتہ لگا کہ موبائل کڈھ لیا اے؟
ویگن وچ بہندیاں ای
کسے تے شک وغیرہ؟
تہاڈے سوا پورے تھانے تے شک کر سگداں واں اس ویلے تے۔
کی مطلب؟ تھانہ چوراں دا گھر اے؟ صوفی جی شاہ نہ ہوندے تسیں تے گل دا مُل پیناں سی۔ کردے کی او؟
محنت مزدوری
کپڑے لتے توں مزدور تے نئیں لگدے۔ کی مزدوری کردے او؟
لاہور اچ اک اخبار دا ایڈیٹر آں ، روزنامہ خبریں ملتان تے روزنامہ مشرق پشاور واسطے کالم لکھناں واں۔
مرشد کرسی تے بیٹھو کھڑوتے کیوں او؟ عبداللہ نس کے پیر ہوراں لئی ٹھنڈی بوتل لے کے آ۔ (دس سے پندرہ منٹ تک خود ایک مشتبہ ملزم کی طرح تھانیدار کے دربار میں کھڑا رہا۔ جونہی تعارف ہوا صوفی سے سیدھا پیر اور مرشد قرار پایا۔ )عبداللہ واقعی ٹھنڈی بوتل ہی لایا تھا۔ تھانیدار کا چوہدری مہمان بولا “شاہ جی! آپ واقعی کسی اخبار کے ایڈیٹر اور کالم نگار ہیں”؟ “جی مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے”؟ “میرا مطلب آپ کو جھوٹا کہنا نہیں تھا۔ بلکہ یہ تھا کہ یہاں تو چھوٹے موٹے نمائندے بھی گاڑیاں لیے پھرتے ہیں آپ ایڈیٹر ہو کر رات گیارہ بجے شیخوپورہ والی ویگن میں سوار ہوتے وقت جیب کٹوا بیٹھے”۔ “اپنی اپنی قسمت ہے جی” میں نے کہا۔ “ہاں شاہ جی گل قسمت دی اے۔ میرا بھرا دو مربعے زمین دا مالک اے تے میں تھانیداری اچ رلدا پھردا واں” تھانیدار نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ “شاہ جی کدوں دے صحافی او”؟ “ہوگئے نیں 45 سال” میں نے کہا۔ تھانیدار اور اس کے مہمان نے حیرانی سے میری طرف دیکھا جیسے کسی اور سیارے سے اتر کر آیا تھا میں۔ پھر اس نے سوال کیا
“شاہ جی کون سا موبائل تھا”؟
“اوپو”
“اے کی ناں ہویا”؟
“موبائیل کمپنی کا نام ہے”
“کتنے کا تھا”؟
“27 ہزار پانچ سو کا۔ تین ماہ پہلے لیا تھا” میں نے جواب دیا
“ہن تسیں ساڈے توں چاہندے کی او”؟تھانیدار نے پوچھا
“رپٹ درج کروانی ہے”
“چھڈو پیر جی۔ حکم کرو اسیں کی خدمت کریئے”؟
“خدمت کوئی نئیں بس رپٹ درج کرا دیو”
رپٹ نال موبائیل ملدے نیں کدے؟ ایڈیٹر اور اخبار دے۔ صبح ایس ایچ او نوں فون کرو۔ دو تن دوستاں دے فون وڈے افسراں نوں کراؤ۔ نواں موبائیل تہاڈے فتر اپڑ جانا اے”
حیرانی سے میں نے تھانیدار کی طرف دیکھا۔ اس کے مہمان نے مجھے متوجہ کرتے ہوئے کہا ” شاہ جی رپٹاں لکھ ہزار لکھواؤ پر موبائیل انج ای ملنا جے جیویں تھانیدار ہوراں نے آکھیا جے۔ اس حرام دے جیب کترے نے سماں (موبائیل سم) کڈھ کے سٹ دینیاں جے تے موبائیل ویچ دینا اے۔
“مگر آپ میری رپورٹ تو درج کریں”
“پیر جی سر صدقہ سمجھو۔ سم نئی نکلوا لیں۔ کس چکر میں پڑنا چاہتے ہیں؟ شریف آدمی لگتے ہیں”۔
“لگتے ہیں کیا بھائی صاحب شریف آدمی ہی ہوں۔ زمانے سے کچھ سیکھا ہوتا تو یہاں آپ کے ترلے نہ کر رہا ہوتا بلکہ آپ لوگ موبائیل سمیت میرے دفتر کے باہر کھڑے ہوتے”
“غصہ نئیں کری دا شاہ جی! چلو لکھواؤ” تھانیدار نے سادہ کاغذ سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
پھر موبائیل کا پورہ شجرہ دریافت کیا۔ اس قدر تفصیل سے پوچھا کہاں سے آئے، کہاں جارہے تھے؟ موبائیل سائڈ والی جیب میں کیوں رکھا؟ کس کلر کا تھا؟ دو اڑھائی درجن سوال تھے۔ مجھے یوں لگا میری جیب نہیں کٹی بلکہ میں جیب کاٹنے کے جرم میں تھانے لایا گیا ہوں اور اب تفتیش ہو رہی ہے۔ زچ ہو کر میں نے اجازت چاہی۔ البتہ چلتے وقت یہ ضرور کہہ آیا “پولیس کے بارے میں میرے مثبت خیالات کبھی بھی نہیں رہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج ایک بار پھر تصدیق ہو گئی کہ اگر دو نمبری کی جائے تو عزت بہت ورنہ بیٹھنے کو بھی کوئی مشکل سے کہتا ہے”۔
نوٹ: یہ داستان لکھنے کا فقط ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ ہم کیسے بدقسمت لوگ ہیں رزق حلال کماتے ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ مگر معاشرہ دو نمبروں کا ہے۔ نقصان تو جو ہوا سو ہوا البتہ تھانیدار کا رویہ، گفتگو اور مشوروں نے بہت دکھی کیا مجھے۔ کاش ہمارے اساتذہ نے ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا سکھایا ہوتا یا پھر ہم اخباری دنیا کے مروجہ مقامی نمائندے بن گئے ہوتے۔ لیکن اب اس عمر میں روائیتی اسباق پڑھے جا سکتے ہیں بھلا کیا ؟

مرتبہ پڑھا گیا
1248مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: