Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آزادیٔ صحافت، کل اور آج | حیدر جاوید سید

آزادیٔ صحافت، کل اور آج | حیدر جاوید سید

تاخیر سے سہی چلیں آزادی صحافت اور ڈان لیکس کے عبوری نتائج کے حوالے سے بات کرلیتے ہیں۔ طالب علم نے صحافت کے کوچہ میں 1973ء میں کراچی کے ایک اخبار کے بچوں کے صفحہ کے ذریعے قدم رکھا تھا۔ یہی ملازمت میرے لئے روز گار بھی تھی اور تعلیم کو جاری رکھنے کا ذریعہ بھی۔ محنت مزدوری پانچویں جماعت سے شروع کردی تھی سو اپنے حصے کا رزق چنتے چنتے نصف صدی ہوگئی اور صحافت کے کوچہ میں چوالیس برس۔ اساتذہ کرام کہتے تھے ایک عملیت پسند صحافی کو تین باتوں کا بطور خاص خیال رکھنا چاہئے۔ اولاً تقابلی مطالعہ، ثانیاً خبر اور تجزیہ میں تصویر کے دونوں رخ سامنے رکھ کر اپنی بات سلیقے سے کہنا۔ ثالثاً ہاتھ اور دامن صاف رکھنا۔ عجیب قسم کے ابتدائی اساتذہ تھے نئی نسل کے شاگردوں کی تربیت کے لئے ہمہ وقت تیار۔ فضل ادیب صاحب تو کتاب پڑھنے کا مشورہ دینے کے بعد کبھی کبھی کتاب کی نصف یا پوری قیمت بھی تھما دیتے تھے۔ رفیق جدون، آل سرور نقوی، احمد عباس ہوشو، حمید اختر، عباس اندوہی، سید حمید اختر، سید عالی رضوی اور جناب اکرم شیخ۔ چوالیس برس پر پھیلے صحافتی طالب علمی کے مختلف دور کے اساتذہ کرام ہیں۔ بہت کچھ سیکھا ان سے ڈھیروں فیض پایا۔ گھنٹوں سیکھنے کے لئے مکالمہ کیا۔ 

کیا مجال کہ کبھی پیشانی پر شکن نمودار ہوئی ہو۔ چوالیس برسوں کی صحافتی زندگی میں لگ بھگ پانچ برس قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اور جناب نواز شریف اپنے پہلے دور میں بہت زیادہ مہربان ہوئے تھے ان مہربانیوں کی چند نشانیاں جسم پر اب بھی موجود ہیں۔ دہلوی سرکار جنرل پرویز مشرف کے دور میں جو بیتی الگ کہانی ہے۔ اللہ کا شکر ہے ان قربانیوں کی کسی سے قیمت وصول نہیں کی کیونکہ قربانی برائے فروخت نہیں بلکہ ایک نظرئیے کے لئے تھی۔ آج جو اس ملک میں تھوڑی بہت آزادی صحافت ہے اس کے لئے ہم سے پچھلی اور ہماری نسل کے لوگوں نے جو قربانیاں دیں ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے وہ پیرا شوٹر جو ان دنوں آزادیٔ صحافت کے مامے چاچے اور خالو بنے سیاپا فروشی میں مصروف ہیں۔ پچھلی ساڑھے چار دہائیوں کے دوران کئی بار جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا از حد مشکل ہوا مگر کریم آقاﷺ اور مہربان دوستوں کی نوازشات نے ثابت قدم رکھا۔
نئی نسل کے صحافی ساتھی جب بھی رہنمائی طلب کرتے ہیں تو ان کی خدمت میں عرض کئے دیتا ہوں غیر جانبداری تو بہت مشکل ہے البتہ کوشش کیجیئے کہ پورا سچ لکھئے اور پھر اپنے لکھے پر ڈٹ جائیے۔ ایک بات اساتذہ کرام والی ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں ” صحافت دوسرے شعبوں جیسی ملازمت نہیں یہ شعور و آگہی کو پروان چڑھانے کا مشن ہے اور اپنا اپنا حصہ ہم تبھی ڈال سکتے ہیں جب خود شعور کی دولت سے مالا مال ہوں۔ اس کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے ”۔ بد قسمتی سے جب سے صحافت میں کمرشل ازم کی ملاوٹ ہوئی ہے تب سے صحافت تو کہیں بہت پیچھے رہ گئی کاروباری ترقی اور بڑا آدمی بننے کا جنون نمایاں ہوگیا۔ لاریب ترقی اور بڑا آدمی بننا سب کا حق ہے لیکن انسان اگر اپنے علم، آگہی کی دولت اور ایثار سے بڑا بنے تو ہمیشہ زندہ رہتا ہے لوگوں کے دلوں میں بھی اور تاریخ میں بھی۔ آزادی صحافت چیخنے اور چڑھ دوڑنے کا نام نہیں پورے سچ کو سامنے لانے کا نام ہے۔ آج جتنی بھی آزادی صحافت ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔ اپنے کردار و عمل اور صحافتی اقدار کی پاسداری سے۔
اب کچھ باتیں ڈان لیکس کے حوالے سے جس رپورٹ پر کچھ اقدامات وزیر اعظم نے اٹھائے اور جواباً فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ نے ایک ٹویٹ کرکے دنیا کو یہ تاثر دیا کہ فوج اور حکومت کے درمیان آگ کا دریا بہہ رہا ہے۔ ہمیں دو سوال سامنے رکھنا ہوں گے۔ اولاً یہ کہ اگر عسکری شعبہ کے کسی بڑے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے درمیان کسی میٹنگ میں تلخی نہیں ہوئی اور یہ سب کہانیاں ہیں تو پھر شور کیسا۔ تلخی ہوئی ہے اور خبر حقیقت یا حقیقت کے قریب ہے تو کیا اصلاح احوال ضروری تھی یا آپریشن ردالخبر؟ ثانیاً یہ کہ ٹی وی چینلوں پر بیٹھے عسکری دانش کے خود ساختہ ترجمانوں کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ سول قیادت کو غدار کہتے پھریں۔ یہاں ایک ضمنی سوال بھی ہے وہ یہ کہ کئی بار ایسا ہوا کہ ریاست کے ذمہ داروں نے اہتمام کے ساتھ یہ خبر شائع کروانے کے لئے رابطے کئے۔ آج ایپکس کمیٹی پنجاب کے اجلاس میں فلاں وزیر کو نہیں بیٹھنے دیا گیا۔ اس طرح کی خبر کی تردید ہوئی کبھی نہ کسی نے یہ سوچا کہ اس سے سول حکومت کی کتنی تذلیل ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دعویٰ تو کیا گیا تھا کہ ڈان لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم کی صاحبزادی اور ڈان کی مالکہ امبر سہگل کے درمیان ہوئی گفتگو کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ پھر کہاں گئی یہ ریکارڈنگ۔ نہیں تھی تو فوج کے خود ساختہ ترجمانوں، ان میں ایک خلیفہ بھی شامل ہے کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خبر کے حوالے سے اب تک جنہیں قربانی کا بکرا بنا یا گیا ان بیچاروں کا تو کوئی تعلق نہیں تھا۔ جس کے تعلق کے حوالے سے (مریم نواز شریف) آسمان جتنے بلند دعوے تھے اس کا رپورٹ میں ویسے ہی ذکر نہیں جیسے پانامہ کیس کے ابتدائی فیصلے میں نہیں ہے۔ مگر اب سوال یہی ہے کہ سوال کس سے کیا جائے۔ باون گزوں میں کوئی انچاس گز کا بھی ہو تو؟

مرتبہ پڑھا گیا
556مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: