Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندقبا دیکھ – حیدر جاوید سید

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندقبا دیکھ – حیدر جاوید سید

جناب نوازشریف تیسری بار اس ملک کے وزیراعظم ہیں۔ خوش قسمتی کس کی ہے اور بدقسمتی کس کی؟ اس پر کیا بات کی جائے۔ وہ اس کے باوجود تیسری بار وزیراعظم ہیں کہ آج بھی ڈھنگ کے سنجیدہ موضوع پر ”پرچیوں“ کے بغیر گفتگو نہیں کرسکتے۔ 1985ءمیں انہیں نومین لینڈ کا مطلب نہیں معلوم تھا۔ 2017ءمیں وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ شیر کیا ہوتا ہے اور گیدڑ کس کو کہتے ہیں۔ پٹواریوں‘ کونسلروں‘ ناظمین‘ صحت و تعلیم اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین پر مشتمل لیہ کے ”عظیم الشان“ جلسہ عام میں ان کے خطابی ”ریلے“ نے بہت کچھ یاد دلادیا۔ سترہ برس پیچھے اٹک قلعہ میں ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے موقع پر آئی ایس پی آر پشاور کے توسط سے ایک بار پشاور کے دوسرے تین صحافی دوستوں کے ہمراہ مجھے بھی ان کی زیارت کا شرف حاصل ہوا (میں ان دنوں روزنامہ میدان پشاور کا ایڈیٹر تھا)۔ کمرہ عدالت میں شیرِ پاکستان کا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا‘ آنکھیں بھیگی بھیگی۔ اس دن کی سماعت کے دوران انہوں نے لگ بھگ تین بار عدالت کی توجہ اس امر کی طرف دلائی کہ ان کی کوٹھڑی میں مچھر بہت ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھاکہ ”سیل کے باہر پہرہ دینے والے سپاہی انہیں تنگ کرنے کے لئے زور زور سے پاﺅں زمین پر مارتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے سر میں درد رہتا ہے“۔ دسمبر 2000ءمیں وہ امریکی دباﺅ‘ سعودی عرب‘ قطر اور لبنان کے رفیق الحریری کی کوششوں سے جنرل پرویزمشرف سے 10سالہ معاہدہ جلاوطنی کرکے اپنے اہلخانہ‘ سوٹ کیسوں اور باورچیوں کے ساتھ سعودی عرب سے آئے ہوئے خصوصی طیارے میں بیٹھے اور اُڑن چھو ہوگئے۔ بچی کھچی مسلم لیگ (ن) کہتی تھی واہ جی کیا قسمت ہے اﷲ نے نوازشریف کو اپنے گھر بلالیا۔ جنوری 2001ءمیں راجہ ظفرالحق (راجہ صاحب جنرل ضیاءالحق کے سامان کے ساتھ نوازشریف کے حصے میں آئے تھے) پشاور آئے تو ان سے پیر سید صابرشاہ (سابق وزیراعلیٰ صوبہ سرحد اب کے پی کے) کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ وہ فضائلِ نوازشریف پڑھ چکے تو عرض کیا ”کیا یہ درست ہے کہ رابطہ عالم اسلامی نامی تنظیم کا بھی نوازشریف خاندان کی جلاوطنی میں کردار تھا؟“ راجہ صاحب بولے! تو کیا ہم اپنا لیڈر مروا دیتے۔ عرض کیا اچھا ہوا آپ کا لیڈر مشرف کے ہاتھوں مرا نہیں ورنہ مچھروں کی بہتات اور جلے ہوئے توسوں کی بھیگی آنکھوں سے شکایت کرنے والا شخص بلاوجہ بھگت سنگھ کے درجہ پر فائز ہوجاتا۔ راجہ صاحب خفا ہوگئے۔ بولے آئی ایس پی آر کا حقِ نمک ادا کررہے ہو۔ عرض کیا اﷲ کی شان ہے۔ ضیاءالحق کے تراشے ہوئے لوگ بھی یہ طعنہ دیں گے کہ آئی ایس پی آر کا حقِ نمک ادا کررہے ہو۔ تلخی بڑھنے کو تھی کہ بڑے بھائیوں کی طرح قابلِ احترام پیر سید صابرشاہ نے مداخلت کی اور گفتگو کا رُخ موڑ دیا۔

راجہ ظفرالحق اور چودھری نثار علی خان ان لوگوں میں سے تھے جو شریف خاندان کی جلاوطنی تک (یعنی حکومت کی برطرفی سے جلاوطنی تک) جنرل پرویزمشرف سے براہ راست رابطے میں رہے۔ چودھری نثار تو اپنے سیکرٹری دفاع بھائی جنرل (ر) افتخار علی خان مرحوم کی وجہ سے ظاہری طور پر گھر میں نظربند بھی ہوئے۔ سترہ سال پیچھے کے دنوں کی باتیں یوں یاد آئیں کہ ”شیرِپاکستان“ کا تازہ ارشاد ہے کہ ”گیدڑ شیر کا کیا مقابلہ کرے گا“۔ چار عشروں کی صحافتی زندگی میں اس دبنگ انداز میں جھوٹ بولتے ہوئے لوگ بہت کم دیکھے اور پہلا شیر ہے جو معافی نامہ لکھ کر پتلی گلی سے چل دیا تھا۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہزار جھوٹ تو بولے ہی ہوں گے۔معافی نامے اور جلاوطنی کے معاہدے کی دستاویزات کے قصے کو ہی لے لیجئے۔ میاںصاحب اس وقت تک انکاری رہے جب ایک سعودی شہزادے نے لہرا کر ان دستاویزات کی نمائش کی۔ پھر فرمایا معاہدہ 5سال کا تھا پتہ نہیں 10سال کی مدت کس نے لکھ دی۔ 1980ءکی دہائی کے چوتھے سال میں جب وہ بریگیڈئیر قیوم قریشی کی مہربانی اور گورنر جیلانی خان کی کرم فرمائی کی وجہ سے پنجاب کے وزیرخزانہ بنے تب سے اب تک کے سیاسی سفر میں وہ یہ تاثر دیتے چلے آرہے ہیں کہ ”ان سا ہوتو سامنے آئے“۔ خود کو ناقابل تسخیر اور سکندر اعظم سمجھنے والے نوازشریف سیاسی مخالفین بارے ہمیشہ سے اعلیٰ درجہ کی زبان دانی کا مظاہرہ کرتے چلے آئے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ اور مخالفین کی کردارکشی کو انہوں نے نئی جہت دی۔ خوش خوراک اور محفل پسند وہ غضب کے ہیں۔ جتنا اچھا لطیفہ سناﺅ اتنا اچھا منصب پاﺅ کے اصول کو انہوں نے دوام عطا کیا۔ لطیفے بازوں کو انہوں نے بلاشبہ رنگ دیا۔ ان کا رنگا ہوا ایک شخص ہوتو نام لکھوں ایک پورا لشکر ہے اور اس میں دوطرح کے ”سپاہی“ ہیں اوّلاً لطےفے سنانے والے‘ ثانیاً مخالفین کے خلاف بدزبانی کے نت نئے ریکارڈ بنانے والے۔ 2007ءمیں وہ سعودی مداخلت پر وطن واپس لوٹے تو کہتے تھے 12اکتوبر 1999ءکے غداروں کو پارٹی میں واپس نہیں لیں گے۔ اب ہمیں ان کے لشکر کی پہلی صف میں وہی ”غدار“ کھڑے بلکہ مخالفوں پر تلواریں سونتے دکھائی دیتے ہیں۔ قطعاً حیرانی نہیں ہوئی کہ وزیراعظم نے خود کو شیر اور مخالفوں کو گیدڑ کہا۔ ابھی مزید کھلیں گے وہ کیونکہ سیاسی اٹھان کے ابتدائی برسوں میں بھی وہ یہی زبان استعمال کرتے تھے۔ ایک وہ ہی کیا مارشل لاﺅں کی نرسریوں کی ساری فصلیں ایسی ہیں۔

کبھی کبھی ماجھو پہلوان یاد آجاتا ہے جو اکھاڑے کے خلیفوں (پرانے استاد پہلوانوں) کو ساتھ ملاکر دنگل لڑنے کا عادی تھا اور اسی برتے پر رستم کہلاتا تھا۔ پنجاب بیس جونیئر بیوروکریسی کے بل بوتے پر حکمرانی کے جھنڈے گاڑنے والی لیگی قیادت سیاست کے تلخ حقائق اور زندگی کی صداقتوں سے ناآشنا ہے۔ بریگیڈئیر قیوم قریشی سے جنرل اشفاق پرویز کیانی تک ان کا سفر دلچسپ داستان ہے۔ کبھی وہ گورنر جیلانی کے سامنے ہاتھ باندھ کرکھڑے رہتے تھے پھر وہ دن بھی اس نیلے آسمان کے نیچے آیاکہ انہوں نے سابق گورنر اور اپنے مرّبی و محسن جنرل جیلانی کا ٹیلیفون سننے کے بجائے سعید مہدی سے کہہ دیا ”کہہ دیو میں میٹنگ وچ ہاں“۔ کیسی کیسی باکمال باتیں ان کے حوالے سے قطار در قطار چلی آتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ پانامہ کیس کے ابتدائی حکم نے ان کی اخلاقی ساکھ ختم کردی ہے۔ اب جو لب و لہجہ انہوں نے اپنا رکھا ہے وہ مصنوعی ہے‘ کھوکھلا پن ہے اور کچھ نہیں۔ ریاستیں اور نظام کیا ہوتے ہیں اس کی تازہ مثال جمہوریہ چیک ہے جہاں وزیرخزانہ پر ٹیکس چوری کرنے کا الزام عائد ہوا پوری حکومت مستعفی ہوگئی۔ کاش انہوں نے دو‘ چار دن ہمارے محبوب وزیراعظم کی شاگردی کی ہوتی یوں اقتدار نہ چھوڑتے۔ قانون کی سربلندی زندہ معاشروں میں ہوتی ہے۔ بہت ادب کے ساتھ کہوں حضور! ہمارا معاشرہ تو زیرتعمیر بھی نہیں ہجوم ہے بے سمت دوڑتا بھاگتا۔ یہی کاروباری سیاستدانوں کے مفاد میں ہے کیونکہ معاشرہ ہوتو آگہی سے مالامال لوگ اس کی سمت کا تعین کرتے ہیں یہاں تو 70برسوں سے خردافروزی کو گالی بناکر پیش کیا گیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے قیادت کے نام پر کیسے کیسے ”دانابینا“ دستیاب ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ دنیا کے حکمرانوں میں کرپشن میں دوسرے نمبر پر آنے والے ہمارے وزیراعظم اپنی دیانت‘ شرافت اور خدمت کے قصے سناتے نہیں تھکتے۔ گاہے ہنسی آتی ہے اور کبھی رونا بھی۔ کیا لوگ ہیں دوسروں کی آنکھوں میں جوتوں سمیت گھسنے کی عادت کا شکار۔ معاف کیجئے گا جناب وزیراعظم سیاست کے میدان میں شیر اور گیدڑ نہیں ہوتے بلکہ اس میدان میں فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یقیناً آپ کی کارکردگی بے مثال ہے مگر خاندانی کاروبار کے بڑھاوے کے لئے۔ ایسے منصوبوں کے لئے جو زیادہ کمیشن عطا کریں۔ رہی ترقی کی بات تو کسی دن اپنے ہی شہر لاہور کے شمالی حصے میں قدم رنجہ فرماکر دیکھ لیجئے۔ لیہ میں ”عظیم الشان“ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے جو کچھ ارشاد فرمایا اس پر اس سے زیادہ کیا کہا جاسکتا ہے کہ ”دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ“۔

بشکریہ روزنامہ خبریں ملتان

مرتبہ پڑھا گیا
1266مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza mehdi baqari

    جھوٹے ٹولے پر تابڑ توڑ حملوں سے بھرپور شاندار کالم۔۔۔۔۔زندہ باد سیدی زندہ باد

Leave a Reply

%d bloggers like this: