Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

وعدوں کی دنیا سے آگے کی حقیقت – حیدر جاوید سید

وعدوں کی دنیا سے آگے کی حقیقت – حیدر جاوید سید

بد زبانیوں کا موسم بھی وبا کے موسم کی طرح ہے ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہا ۔ ہماری کاروباری سیاسی اشرافیہ آخر سمجھتی کیوں نہیں کہ عدم برداشت نے اس بد قسمت قوم کو بڑے دُکھ دیئے ہیں ، مختصراً یہ کہ جناب نواز شریف نے تحریک انصاف کے جلسوں میں شرکت کرنے والی خواتین بارے جو باتیں کہیں وہ انہیں روا نہیں ۔ وزیر اعظم کا منصب جس حسن کلام اور برداشت کا متقاضی ہے وہ اگر تیسری بار اس منصب پر لائے گئے شخص کو بھی معلوم نہیں تو پھر دوسروں سے شکوہ کیسا ۔ وزیر اعظم کے زریں ارشاد کے جواب میں سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ٹائیگرز نے ”جواب دعویٰ” پیش کیا وہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے ۔ ستم یہ ہے کہ نون لیگ کے وزراء اور میڈیا مینوں کی ایک پوری کھیپ حالات کا ادراک کئے بنا بڑھ چڑھ کر زبان دانی کے مظاہرے میں مصروف ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پچھلے چار سال کے دوران زبان دانیوں کے مظاہروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ مسلم لیگ جس ترقی کے دعوے کر رہی ہے وہ خسارے کے سودے کے سوا کچھ نہیں ۔ میٹرو بس کے تینوں منصوبے زبردست خسارے میں چل رہے ہیں ۔ مجموعی طور پر ساڑھے سات ارب روپے سالانہ کا بوجھ اس قوم کے گلے کا طوق بنے گا ۔ گھاٹے کے ان منصوبوں کی تشہیر پر اربوں روپے اُڑائے گئے ۔ نتیجہ ۔”صاحب نے کھا یا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا سوا روپے کا ”۔ والی صورتحال ہے ۔ کیا یہ بد قسمت قوم بد زبانیوں اور جھوٹی ترقی کے بہلا وں سے محفوظ ہو پائے گی کبھی ؟ ۔ ہمیں بلکہ ہم سب کو اس سوال پر کامل سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیئے ۔ مگر اس سے پہلے اینڈ سنز کے نام پر چلائی جانے والی سیاسی جماعتوں کے مالکان کو ٹھنڈے دل سے اصلاح احوال کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیمتیں اور گمبھیر مسائل جن پر چار سال قبل اقتدار میں آتے ہی توجہ دی جانی چاہیئے تھی کسی بھی لمحے حکومت وقت کی ترجیح نہیں رہے ۔ حیرانی ہوتی ہے جب ناکامیوں کا ملبہ تحریک انصاف کے 2014ء والے دھرنے پر ڈالا جاتا ہے۔ فقیر را حمو ں کے بقول نون لیگ کا بس نہیں چلتا کہ وہ طوفان نوح کی ذمہ داری بھی تحریک انصاف کے دھرنے پر ڈال دے ۔ ویسے کچھ بعید بھی نہیں ۔ بری الذمہ ہونے کے شوق میں کچھ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری طرف ایسا لگتا ہے کہ اداروں کے درمیان بد اعتمادیاں بڑھ رہی ہیں ۔ واقعتاََ ایسا ہے یا پھر اندر کھاتے کوئی کھچڑی پک رہی ہے ؟ ۔ بہت ادب سے عرض کروں ۔ لوگوں کا مزاج بھی عجیب ہے مارشل لاء میں جمہوریت اور جمہوریت میں مارشل لاء کے انتظار سے بندھے جی رہے ہیں ۔ ایک طرح سے تو یہ غیر یقینی حالات کا نتیجہ ہے ۔ مگر وہ لوگ جو جمہوریت کو منہ بھر بھر کے کوستے ہیں اس سچائی کو تسلیم کیو ں نہیں کرتے کہ بھٹو کے مختصر دور حکومت میں قدرے جمہوریت تھی ۔ 1988ء کے بعد تو سمجھوتوں بھری بارات ہے ۔ اسے کچھ بھی نام دے لیجئے مگر سرائیکی زبان کی قدیم کہاوت ضرور ذہن میں رکھیئے کہ کراڑی کانام غلام فاطمہ رکھ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ ایک ایسا نظام جو بالا دست طبقات کے استحصالی ہتھکنڈوں اور لوٹ مار کو تحفظ دیتا ہو ۔ جمہوریت قرار نہیں دیا جا سکتا مگر اس نظام سے چھٹکارا کس لشکر کی تشریف آوری کے خواب بیچ کر ممکن نہیں اس کے لئے لوگوں کو بھی ذاتی پسند و ناپسند اور دیگر تعصبات کی سطح سے اوپر اٹھنا ہوگا ۔ ہم ایسے طالب علم جو مقررہ وقت پر انتخابات کو بیماریوں کا علاج سمجھتے تھے انتخابی نظام میں موجود خرابیوں اور ان سے بندھے معاملات کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ انتخابی نظام کی اصلاح کے لئے پارلیمان نے جوکمیٹی بنائی وہ عوامی مفاد میں اصلاحات نہیں کر سکی ۔ اب اگر کوئی یہ سوال کرتا ہے کہ تبدیلی کیسے آئے گی ؟تو سوال پریشان کن ہر گز نہیں بلکہ اس میں چھپی مایوسی پریشانی کا باعث ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں لیڈروں کی جو کھیپ دستیاب ہے اسے لوگوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی سے کوئی غرض نہیں۔
کیا موجودہ حالات اور مایوسی کی فضا میں جیتی قوم کبھی تبدیلی کے ثمرات محسوس کر پائے گی؟ معاف کیجئے گا ہمیں انگنت مسائل کا سامنا ہے۔ گمبھیر ہوتے یہ مسائل گو اہل اقتدار کی ترجیح نہیں پر موجودہ حزب اختلاف کو بھی چہروں کی تبدیلی سے زیادہ کسی بات سے دلچسپی نہیں۔ طبقاتی بالادستی پر مبنی نظام ہائے حکومت میں عوام تو اچھوت ہوتے ہیں۔ یہ محض موجودہ حکومت میں پیدا کردہ سوچ نہیں بلکہ ہر دور کی حقیقت ہے۔ صاحبان اقتدار اور ان کے پیاروں کی حیثیت تو دن بہ دن مستحکم ہوتی ہے مگر عام آدمی کے لئے حصول رزق کے ذرائع تنگ سے تنگ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ حکومتی سیاست کا بڑا فیشن سارے مسائل کا ملبہ پچھلی حکومتوں پر ڈال کر دلپشوری کرنا ہے۔ پچھلے چار برسوں سے یہی ہو رہا ہے ۔ مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ مصنوعی ترقیوں کی تشہیر پر قومی خزانہ جس بے دردی سے اڑایاگیا وہ رقم اگر غربت کے خاتمے کے ٹھوس منصوبوں پر صرف کی جاتی تو زیادہ بہتر تھا۔ لیکن یہاں تو فقیر سازی کا سرکاری پروگرام زور و شور سے چل رہاہے۔ سادہ سا سوال ہے’ ہزار پندرہ سو یا دو ہزار روپے کی امداد نامی خیرات بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے دینے کی بجائے اگر پچھلے 9 سالوں کے دوران اس کے سالانہ فنڈز سے صنعتیں لگائی گئی ہوتیں تو اب تک ملک میں 100کے قریب چھوٹی بڑی صنعتیں لگ چکی ہوتیں اور ہزاروں مرد و زن کو با عزت روزگار مل رہا ہوتا۔ صد افسوس کہ ہم خیرات دے کر نفس کی تسکین کرتے ہیں باوقار انداز میں مدد کرکے کسی کو مستقل طور پر اس کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی شعوری کوشش نہیں کرتے۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

مرتبہ پڑھا گیا
547مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: