Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عوام کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع تو دیجئے – حیدر جاوید سید

عوام کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع تو دیجئے – حیدر جاوید سید

نصف صدی سے اقتدار والی مسلم لیگ میں خاندانی طور پر شامل رہنے کا اعزاز رکھنے والے میرے ایک بہت ہی محترم لیگی (ن لیگ کے) دوست نے ڈان لیکس کی رپورٹ اور پھر حکومتی اقدام کے بعد آئی ایس پی آر کے سربراہ کی طرف سے ٹویٹ کئے جانے سے پیداشدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ”شاہ جی جمہوریت کو شدید خطرہ ہے۔ یہ موقع ہے کہ ملک کے جمہوریت پسند نوازشریف کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ جرنیل شاہی کو عوامی مزاج کا احساس دلایا جاسکے“۔ ان کی خدمت میں عرض کیا ”کل آپ ظہورالٰہی ہاﺅس میں پرویزالٰہی سے ملنے گئے تھے خیریت تو تھی؟ “ سوال پر کچھ بدکے مگر پھر سنبھلتے ہوئے بولے یہ موقع ان باتوں کا نہیں۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں کہ جمہوریت پسندوں کو نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے؟ عرض کیا 12اکتوبر 1999ءکے بعد پرویزمشرف کی جرنیلی جمہوریت کے خلاف جمہوریت پسندوں میں سے اکثر اے آر ڈی نامی اتحاد میں نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی تحریک پر شامل ہوئے تھے۔ نتیجہ جانتے ہیں کیا ہوا‘ کچھ بولنے لگے تو میں نے کہا ابھی رُکئے‘ پچھلی بار کیا ہوا تھا۔ جمہوریت پرست یہیں جوتیاں چٹخاتے مارے کھاتے رہے اور میاںصاحب اہلخانہ اور باورچیوں سمیت سعودی طیارے پر بیٹھ کر نکل گئے۔ چند دن بعد آپ (ق)لیگ کو پیارے ہوگئے تھے۔ بولے شاہ جی! بڑا جبر تھا نیب اور ایجنسیوں کا آپ سے زیادہ بہتر کون جانتا ہے۔ میں تو اب بھی جانتا ہوں کہ (ق)لیگ سے آپ کی بات چیت چل رہی ہے۔ ادھر نوازشریف گیا اُدھر آپ (ق)لیگ میں ہوں گے یا تحریک انصاف میں۔ اچھا چلیں آپ کی مان لیتے ہیں کم ازکم میں جرنیل شاہی کے خلاف شریف برادران کا ساتھ دینے کو تیار ہوں مگر اس کی کیا ضمانت ہے کہ شریفین پھر بھاگ نہیں جائیں گے؟ خاموشی طویل ہوئی تو مکرر عرض کیا میاںجی یہ تاجر ہیں منافع کا مارجن دیکھ کر خریدنے والے‘ انہیں زندگی بہت پیاری ہے۔ یہی حال ان کے بھونپوﺅں کا ہے۔ غفورچاچا کے ٹویٹ پر سانس روک کر بیڈروموں میں پڑے ہیں۔ یہی بات عمران یا زرداری نے کہی ہوتی تو آٹھ کا ٹولہ آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ آپ ایمانداری سے بتائیں دوسال میں وزیراعظم کو ملنے کے لئے پانچ بار دی گئی درخواستوں کے جواب میں کیا ہوا۔ وزیراعظم نے بلایا؟ جی نہیں البتہ پرسوں ان کے پرنسپل سیکرٹری کا فون آیا تھا پوچھ رہا تھا چودھری شجاعت اور پرویزالٰہی سے میری ملاقات بارے۔ میں نے کہا وہ ایک گھریلو ملاقات تھی۔ گھریلو ملاقات میں نے حیرانی سے دریافت کیا۔ کہنے لگے میرے والد اور چودھری ظہورالٰہی بڑے گہرے دوست تھے۔ وہ تعلق اب ہمارے درمیان قائم ہے۔ لیگی دوست سے اجازت لے کر نکلا تو واپسی کے سفر میں سوچتا رہا۔ یہ جس طرح گھریلو تعلقات لیڈروں اور ارکان پارلیمان کے درمیان ”جذبوں کی توانائی“ کے ساتھ قائم رہتے ہیں اس سے ہزارہا گنا کم تعلقات گلی محلوں کے کارکن کیوں آپس میں قائم نہیں کرپاتے؟ پھر خود ہی کہا اگر ایسا ہوتو لیڈروں کی دکانیں کیسے چلیں۔

تمہید طویل ہوگئی دلی طور پر معذرت خواہ ہوں۔ یہ نون لیگی سیاستدانوں اور ارکان پارلیمان عقل سے کورے ہیں یا لوگوں کو عقل و شعور سے فارغ سمجھتے ہیں؟ بڑے میاں صاحب برابری پر معاملات طے کرانے کے لئے گھوڑے دوڑا رہے ہیں اور یہ کہتے ہیں جمہوریت بچاﺅ پروگرام شروع کیا جائے۔ چلیں ہوگا جمہوریت بچاؤ پروگرام مگر چار برسوں کے دوران جمہوریت اور جمہور کو دیا کیا۔ بہت ترقی کروائی ہے ملک اور خصوصاً پنجاب کی۔ خسارے والے پروگرام واقعتاً ترقی کہلاتے ہوں گے۔ صفائی کا ایک ادارہ نہیں بن سکا تو ترکی کی کمپنی کو ٹھیکہ دیا ہوا ہے۔ چند دن قبل اسی کالم میں پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کی حالت زار پر کچھ عرض کیا تھا اب تفصیل سے عرض کرتا ہوں۔ پنجاب کے نئے بلدیاتی ادارے یکم جنوری 2017ءسے اپنے سابق ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن دینے سے انکاری ہیں۔ وزیراعظم کا اس ضمن میں ٹوپی ڈرامے بھرا خط بھی کسی کام نہیں آیا۔ بعض بلدیاتی اداروں نے 2010ءکے بعد ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو ان کے واجبات ادا نہیں کئے۔ شیخوپورہ بلدیہ اور ضلع کونسل کا معاملہ عدالت عالیہ تک گیا۔ متعلقہ حکام نے بھری عدالت میں کہہ دیاکہ فنڈز نہیں ہیں۔ چند بلدیاتی اداروں کے نئے حاکموں کا مو_¿قف ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات اور پنشن حکومت دے۔ چند جگہ 2010ءکے بعد ریٹائرڈ ہونے والوں میں سے ہرماہ ایک یا دو افراد کو ادائیگی والی لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔ لاہور‘ قصور‘ شیخوپورہ کے بلدیاتی اداروں کے ملازمین کی پنشن دینے کے لئے جو رقم مختلف مالیاتی اداروں میں محفوظ تھی وہ نکلواکر ترقی منصوبوں کے نام پر خرچ کرلی گئی۔ خرچ کی اجازت کس نے دی تحقیق کیجئے کھرا پنجاب کے سی ایم ہاﺅس تک جائے گا۔ یہ ایک مثال ہے پنجاب میں ہونے والی ترقی کی۔ میٹروبس کے تینوں منصوبے خسارے میں چل رہے ہیں۔ لاہور میں میٹرو کے ساتھ شروع کی گئی فیڈربس سروس کے روٹس پر دوسری پبلک ٹرانسپورٹ اور ایل ٹی سی کی بسیں بند کرنے کے باوجود حالت یہ ہے کہ ان 200 فیڈر بسوں پر روزانہ خرچ 3لاکھ روپے آتا ہے اور انکم ایک لاکھ تیس سے ایک لاکھ پنتالیس ہزار روپے روزانہ ہے یعنی نصف خسارہ۔ یہ سارے خسارے محکوم عوام کی گردنوں کا طوق ہیں۔ عیاشی‘ لاکھوں روپے تنخواہوں والے عہدے‘ خوشامدی اشتہارات پر اربوں کے اخراجات کوئی ایک ڈرامہ ہوتو بات بھی کی جائے۔

مجھے احساس ہے کہ یہ باتیں کالم کے اصل موضوع سے یکسر مختلف ہیں۔ ایک کارکن صحافی کی حیثیت سے پورا دن عام لوگوں کے درمیان بسوں‘ ویگنوں میں دھکے کھاتے ملازمت کے مقام اور پھر گھر واپسی میں گزرتا ہے۔ جو دیکھتے‘ سنتے اور بھگتے ہیں اس سے صرف نظر ممکن نہیں۔ اس کے باوجود کسی بنگلہ دیش پروگرام‘ دوبارہ مشرقی برانڈ تجربے یا نئی بوتل میں پرانی شراب کسی کی ضرورت نہیں۔ لاریب اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے۔ کرپشن کے خلاف بنی فضا سے عوام دوست حلقوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں پتلی تماشے ہورہے ہیں۔ عوام اب بھی بے یارومددگار اور بدحال ہیں۔ ہمارے دوست عمران خان چلے تھے عوام کو انصاف دلانے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ان کی تحریک کو بھی انجمن محبان جرنیل شاہی کے نسلی غلاموں نے ہائی جیک کرلیا ہے۔ چلیں اس موضوع پر الگ سے کسی کالم میں بات کریں گے فی الوقت یہ کہ اس سوال کا جواب کسی کے پاس ہے کہ چند دن قبل پشاور میں افغان طالبان کا ایک کمانڈر داعش کی کارروائی میں مارا گیا۔ سکیورٹی ادارے کہاں تھے اور اس حوالے سے سوال کا جواب دینے کے بجائے ذمہ دار حلقوں کے ترجمان غصہ کیوں کرنے لگے۔ ہمارے وہ دوست جو چند طالع آزما جرنیلوں یا سکیورٹی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات پر ناراض ہوکر اسے فوج پر تنقید قرار دیتے نہیں تھکتے خود وہ چند سیاستدانوں کی آڑ میں اس جمہوریت کو بدنام کرتے پھررہے ہیں جو اس ملک کے عوام کو کبھی نصیب ہی نہیں ہوئی۔ آئین و قانون کی پاسداری انہیں اگر بہت عزیز ہے تو ایک مشترکہ مطالبہ کریں۔ 2013ءکے انتخابات میں ہوئے فراڈ کے تین بڑے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہو۔ مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اگر کسی کو یہ خوش فہمی ہے کہ پرویزمشرف کی قیادت میں درباری لیگوں‘ ایم کیو ایم پاکستان اور چند دوسری جماعتوں کو جمع کرکے وہ انقلاب برپا کرسکتے ہیں تو پہلے چار مارشل لاﺅں کے ماہ و سال کی کہی اَن کہی کو آنکھیں کھول کر پڑھ لیں۔ نوازشریف جمہوریت کی نہیں خاندانی کاروبار کی علامت ہے مگر عوام سرمایہ دارانہ جمہوریت کا طوق گلے سے اتارکر اجنبی نظام کی اطاعت پر رضامند کیوں ہوں۔ سال بھر باقی ہے اگر عوام کو آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے دیا گیا تو نتیجہ سب کے سامنے ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ خبریں

Views All Time
Views All Time
292
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: