Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حمزہ شہباز بنام دادا جی مرحوم – حیدر جاوید سید

حمزہ شہباز بنام دادا جی مرحوم – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

haider!پیارے دادا جان
بعد از سلام یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ یہاں پاکستان میں سب خیریت نہیں ہے۔ ابا جی پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور تایا جی پاکستان کے وزیراعظم اور میں بھی قومی اسمبلی کا رکن ہیں۔ مگر ایک تو ابا جی سے شادیوں اور چھٹکاروں کا مقابلہ چل رہا ہے اور دوسرا ڈبے والے دودھ اور فارمی مرغیوں کا پھلتا پھولتا کاروبار چین نہیں لینے دیتا۔ ابا جی صبح ماڈل ٹاؤن سے دفتر بذریعہ ڈیفنس و گلبرگ جاتے ہیں جبکہ مجھے گارڈن ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، شاہو دی گڑی کے راستے ہو کر دفتر جانا ہوتا ہے۔ کیوں؟ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔ کچھ مہینوں سے ابا جی واپڈا ٹاؤن کا چکر بھی لگا رہے ہیں۔میں بھی آپ کا پوتا ہوں اس لئے دوپہر کو اکثر بحریہ ٹاؤن سے ذرا پہلے نہر پرہی ایک گھر میں سستا لیتا ہوں۔ پیارے دادا جی! میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا۔ خط لکھنے کا مقصد تو یہ تھا کہ جب سے اس حرام خور قطری شہزادے (بیڑا غرق ہو اس کا) محمد بن جاسم بن جبرالثانی نے لندن والے فلیٹوں کی ملکیت بارے تایا جی کے منڈے ببلو پھا کے حق میں خط لکھا ہے۔ دن کی نیند اور رات کی کمائی دونوں روٹھ گئے ہیں۔ میں حیران پریشان اور بہت زیادہ بے حال ہوں کیونکہ آپ ہمیشہ کہا کرتے تھے اتفاق میں برکت ہے۔ مگر قطری شہزادے کے ببلو پھا کے حق میں سامنے آنے والے خط سے تو یہ ثابت ہوا کہ جو باتیں کرنے کی تھیں وہ آپ نے نہیں کہیں اور جو کہیں وہ کہیں نہیں۔ پانامہ پیپر والے مسئلہ پر تایا جی نے قومی اسمبلی میں جو تقریر کی اس کے بعد پاکستان میں لوگوں نے ہمارا (مطلب شہباز شریف اور اس کی اولاد کا) مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا۔ ہوایہ تھا کہ تایا جی کی قومی اسمبلی والی تقریر سے چند دن قبل ابا جی نے کہیں جوشِ خطابت میں کہہ دیاکہ میرے ابا جی مزدور آدمی اس لئے میں مزدوروں کا دکھ سمجھتا ہوں۔ تایا جی نے قومی اسمبلی میں کہا کہ اباجی پاکستان بننے سے پہلے امیرآدمی تھے۔ تحریک انصاف کے منڈوں نے یہ گل پھڑ لئی۔ ہر طرف شور مچ گیا نواز شریف کا ابا امیر تھا جبکہ شہباز شریف کا ابا غریب۔
دادا جی قطری شہزادے کے خط نے ہم باپ بیٹوں کا جو توا لگوایا ہےاس سے دل برداشتہ ہوا ہوں۔ اللہ دی قسمے دل کرتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، شاہو دی گڑھی اور نہر کنارے پر لعنت بھیج کر اسلام آباد کے ایف 10میں ہی رہا کروں۔ ہیں جی۔ مجھے آپ سے توقع نہیں تھی کہ آپ اس طرح روندھی ماریں گے۔ ببلوپھا اور میری تو ان فلیٹوں کی وجہ سے دو سال سے بول چال ہی بند ہے۔ مگر قطری شہزادے کے خط نے تو قیامت برپا کر دی ہے۔ دادا جی! پہلے لوگوں کی باتیں مذاق لگتی تھیں لیکن اب ایسا لگتا ہے واقعتاََ درست بات ہے کہ تایا جی کا ابا امیر تھا اور ابا جی کا غریب۔ مجھے تو تایا جی کی امی بھی امیر اور ابا جی کی غریب لگتی ہے۔ اس لئے تو تایا جی اور ان کی بیٹی مریم صفدر جاتی امرا میں رہتے ہیں جبکہ ابا جی اور ہم لوگ ماڈل ٹاؤن کے پرانے کوٹھوں میں۔ آپ سے اس ناانصافی کی مجھے امید نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جلاوطنی کے زمانے میں آپ ہی کہتے تھے شہباز تیرا منڈا حمزہ میری امید ہے ۔مجھے اس میں نوجوان محمد شریف نظر آتا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ کو اپنی جوانی تو مجھ میں دیکھائی دیتی تھی مگر لندن والی جائیداد (وہی کمینے فلیٹ) آپ کے قطری شہزادے بیٹے نے ببلو پھا کے نام کردیئے۔ انصاف اور اتحاد کا تقاضہ تو یہ تھا ایک فلیٹ ببلو کو ایک ہمیں اور ایک چاچا جی مرحوم عباس شریف کے منڈے کو دیا جاتا۔ دادا جی! اس ناانصافی کو کیا کہوں؟ آپ اگر زندہ ہوتے تو میں عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو کر بدلہ لے سکتا تھا۔ اب اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ ہور کجھ نئیں تے دعا کرو لاہور کے تین چار محلوں میں میری مزید گل بات چل پڑے تاکہ ببلو پھا کی امارت ول میرا دھیان ای نہ جاوے۔ ٹھیک اے دادا جی! میں بھی دودھ اور مرغیوں کے کاروبار میں ببلو پھا اور اس کے بہن بھائیوں کو حصہ نہیں دوں گا۔ اب ہماری اور ببلو اینڈ کمپنی کی کھلی جنگ ہوئی۔ وقت پڑنے پر میں ان سے وہی سلوک کروں گا جو آپ نے تایا جی اور ابا جی کے تعاون سے چھوٹے دادوں کے ساتھ کیا تھا۔ ویسے دادا جی! اس دن بڑا مزا آئے گا جب قطری شہزادے کے خط کو عدالت ردی کی ٹوکری میں ڈال دے گی۔ میں داتا صاحب تے کٹھیاں 12 دیگاں پیش کروں گا۔ بہرحال تسیں ساڈے نال چنگی نئیں کیتی۔ اس لئے جتھے وی رہی خوش رہو۔ چاچا جی عباس شریف نال کوئی ملاقات ہو تو سلام دے چھڈیا جے۔ اس سے زیادہ لکھنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ مجھے آج الفیصل ٹاؤن دا گیڑا وی لانا ہے۔ تسیں تے جانے ہی ہو کہ کیوں۔
والسلام
آپ کا غریب ابے والے شہباز شریف کا بیٹا
حمزہ شہباز شریف / لہور

Views All Time
Views All Time
1227
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   قصوروار کون ؟ - کرن ناز
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: