Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اب ٹرک کی بجائے ٹرالر کی بتی کے پیچھے بھاگو – حیدر جاوید سید

by اپریل 28, 2017 کالم
اب ٹرک کی بجائے ٹرالر کی بتی کے پیچھے بھاگو – حیدر جاوید سید

پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بیرونی قوتوں کی دلچسپی اور ان کی طرف سے امن اور عوام دشمن قوتوں کی سرپرستی سے یکسر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ سارا ملبہ بیرونی قوتوں پر ڈال کر "شربتِ بادام” سے جی بہلانا بھی دانشمندی نہیں۔ جس بنیادی سوال کو زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کیا 80 ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کے قاتلوں کے مقامی سہولت کاروں والی بات محض کمپنی کی مشہوری کے لئے تھی؟ دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے الزام میں پچھلے بیس سال کے دوران جن اداروں کے حوالے سے (ان میں کچھ مدارس، تنظیمیں اور ٹرسٹ وغیرہ شامل ہیں) حقائق نامے سامنے لائے جاتے رہے وہ سب کیا تھا؟ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ ایک صحافی کی حیثیت سے مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ 2008ء میں سب سے پہلے چند ٹھوس شواہد کے ساتھ اپنے کالموں میں یہ عرض کیا تھا کہ پاکستان بیس سےچند دہشت گرد گروپوں کو بھارت اور اسرائیل ساختہ اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔ 2009ء میں سواتی طالبان کے خلاف لکھی گئی اسٹوری کے بعد جو مشکلات پیدا ہوئیں ان سے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور چند دوستوں کے تعاون سے عہدہ برآ ہو پایا۔ پچھلے 30 برسوں سے دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی مختلف اقسام کےبارے میں ان سطور میں معروضات پیش کرتے ہوئے ہمیشہ پڑھنے والوں کے سامنے تصویر کے دونوں رخ رکھے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو کالعدم تحریک طالبان اور تحریک طالبان جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے ہتھیار ڈالنے اور پھر اگلے روز جاری کئے جانے والے اس کے اعترافی بیان کے مندرجات پر سو فیصد اعتبار بہت مشکل ہو رہا ہے۔ مکرر عرض ہے کہ پاکستان میں بھارت اور افغانستان کی پراکسی سے انکار نہیں مگر اندرونی مسائل، حالات، سہولت کاروں اور دیگر معاملات کو تج کر ایک خاص بیانیئے میں حصہ ڈالنا ممکن نہیں۔ لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان کب اپنے ساتھیوں سے الگ ہوئے، اس کے ساتھی پچھلے دو ماہ سے ان کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے، اسے محفوظ ہاتھوں تک پہنچانے والے "حضرت مولانا” کون ہیں کچھ شد بد اس صحافی کو بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر دستیاب معلومات خبروں، تجزئیوں یا کالموں میں سجا کر پیش کر دی جائیں۔
سوال یہ ہے کہ تواتر کے ساتھ پچھلے دس سالوں سے جن نجی اداروں کے بارے میں یہ رپورٹس آتی رہیں کہ وہ مختلف الخیال دہشت گردوں کے لئے مالی امداد جمع کرنے کے ساتھ افرادی قوت فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف اب تک کیا کارروائی ہوئی؟ کیا ہمارےیہاں سرگرم چند خاص فہم کی مسلکی جماعتیں دہشت گردوں کا سیاسی چہرہ نہیں (مولانا سمیع الحق تو فخر سے خود کو طالبان کا والد کہلواتے ہیں) زیادہ مغز کھپانے کی بجائے صرف لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ اور گوجرانوالہ کے پانچ اضلاع کی ہفتہ وار پولیس ڈائری نکلوا کر دیکھ لیجیئے کہ کتنی مساجد میں نماز جمعہ کے دوران ان نام نہاد مجاہدین اسلام کی فتح و سربلندی کے لئے دعائیں ہوتی ہیں۔ یہ ایک مثال ہے اور دوسری یہ کہ 2013ء میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق جھنگ اور فیصل آباد کالعدم دہشت گرد دتنظیموں کے لئے چندے جمع کرنے کے سب سے بڑے مرکز ہیں۔ 9/11 کے بعد شروع ہوئی دہشت گردی کی نئی لہر نے اس ملک کے کتنے چراغ بجھائے، کتنی ماؤں کی گودیں ویران کیں، آدمی حساب کرنے لگے تو دل خون روتا ہے۔ دہشت گردی کی تمام اقسام کے سوتے بہر طور افغانستان میں لڑی گئی سوویت امریکہ جنگ سے پھوٹے۔ خود وہ جنگ (جسے ہمارے کچھ لوگ جہاد کہتے ہیں) 25 ہزار پاکستانی کھا گئی تھی۔ یوں اگر ہم 1980ء سے آج تک کے 37 سالوں کا حساب کریں تو مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پاکستانی پرائی جنگ اور دہشت گردی میں کھیت ہوئے اور معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ وہ جنگ اور محفوظ اثاثے جن کا کاروبار تھا وہ اربوں پتی ہو گئے۔ ایک دو نہیں درجن بھر ارب پتی لوگوں کے نام لکھے جا سکتے ہیں مگر فی الوقت اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ احسان اللہ احسان کا ہتھیار ڈالنا اور اعترافی بیان۔ کیا دونوں باتیں اس شخص کے گھناؤنے جرائم کی شدت کو کم کرنے کا مؤجب بن سکتی ہیں؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ جی بالکل نہیں۔ کیا ہم یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ مقتولین کے وارثوں اور اس ملک کے عوام کو نئے ٹرالے کی بتی کے پیچھے دوڑانے کا مقصد کیا ہے؟بڑے عجیب معاملات ہورہے ہیں۔ "سرکار” کے پسندیدہ لبرلز کا ایک حلقہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لئے اسپیس مانگ رہا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ فساد اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور مراکز کو نظر انداز کر کے بیرونی مداخلت کا سودا فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا۔ خدا کے بندو! کیا اندرونی تعاون اور خودسپردگی کے بغیر بیرونی مداخلت ممکن ہے؟ کیا محض ہتھیار ڈال دینے اور ایک اعترافی بیان سے قاتل معصوم بن جاتا ہے؟ مجھے ان خلیفوں پر حیرانی ہے جو کرنل امام اور خالد خواجہ کے لئے حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں لگی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل کرنے والے درندے کو محفوظ راستہ دینے کے لئے دلائل کی عمارت اٹھارہے ہیں۔
ٹھنڈے دل سے غور کیجیئے کہ پہلے جب پنجابی طالبان کے امیر عصمت اللہ معاویہ کو معافی دے کر "تبلیغی مہم” میں مصروف ہونے کی اجازت دی گئی تھی تو دہشت گردوی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے خیبر پختونخواہ میں کیا عوامی ردعمل تھا۔ اب جبکہ تین دن قبل پارا چنار میں دہشت گردی کی ایک المناک واردات کا اعتراف جماعت الاحرار کر رہی ہے تو اس کے سابق کمانڈر کے ہتھیار ڈالنے اور ضمیر جاگنے کی کہانی سنوائی جا رہی ہے۔ ذرا ایک کان خیبر پختونخواہ کی جانب لگا کر سن لیجیئے کہ بدھ کے دن سے وہاں اہلِ صحافت و سیاست اس پر کیا کہہ رہے ہیں۔ معاف کیجیئے گا معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں۔ اپنے اداروں پر حرف گیری کا شوق نہیں مگر سوال کرنا ایک شہری کے طور پر حق ہے۔ کیا اگلے چند دنوں میں اگر افغانستان نے جوابی طور پر احسان اللہ احسان جیسا کوئی کردار اپنی ٹی وی سکرین پر لا بٹھایا تو پھر ہم اسے بھی سچ تسلیم کر لیں ؟ الزامات کی دھول اڑا کر حقائق کو چھپانے کی ضرورت نہیں۔ بالخصوص ایسے میں تو بالکل نہیں جب دہشت گردوں کے ہم خیالوں کی نرسریاں پوری آب و تاب کے ساتھ پنیریاں تیار کرنے میں مصروف ہوں۔ ذرا بتلائیے تو اس قوم کو سندھ حکومت نے وفاقی وزیر داخلہ کو صوبہ سندھ کے 85 مدارس کے تحریک طالبان ،جماعت الاحرار، جند اللہ، لشکر جھنگوی اور دوسری تنظیموں کے ساتھ مضبوط روابط کے بارے میں جو رپورٹ سال بھر قبل بھجوائی تھی اس کا کیا ہوا؟ مہران نیول بیس میں چند سال قبل ہوئی دہشت گردی کی واردات کا آپریشنل کمانڈر حماد شاہ جند اللہ سندھ کا امیر تھا۔ اسکی گرفتاری نیول بیس کے قریب کے جس مدرسے کے ہاسٹل سے عمل میں لائی گئی اس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہتھیار ڈالنے اور اعترافی بیانات سے جرائم کی سنگینی کم نہیں ہو جاتی۔ احسان اللہ احسان ایک قومی مجرم ہے بالکل ویسا ہی جیسا کلبھوشن یادو ہے۔ قومی مجرم کسی رعایت کے حقدار نہیں بلکہ سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ یہاں کل تک ملالہ یوسفزئی کو ڈرامہ قرار دے رہے تو وہ اب احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کو لے کر یہود و ہنود والا چورن پھر فروخت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اصل مسئلہ بہرطور یہ ہے کہ اگر واقعتاََ دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہے تو پھر ہر قسم کی شدت پسندی اور سہولت کاری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ حرف آخر یہ ہے کہ قوم کو ایک مجرم کے اعترافی بیان سے بہلانے کی بجائے یہ بتایا جائے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوا؟ کیوں فورتھ شیڈول میں شامل افراد الیکشن لڑنے،جلسے کرنے اور نفرت کا کاروبار کرنے میں آزاد ہیں؟ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ اصل مجرموں اور مجرموں کے ٹھکانوں سے توجہ ہٹانے کے لئے جذباتی ماحول بنایا جارہا ہے؟ اس صحافی کے لئے یہ بات بھی اہم ہے کہ پہلے پانامہ اور اب احسان اللہ احسان ہر دو معاملات کے شور میں لوگ یہ نہیں جان پائے کہ کیسے حکومت نے پارلیمان کی اجازت کے بغیر 5 ہزار فوجی سعودی عرب بھیج دیئے۔ اور سات ہزار ریٹائرڈ افسروں اور فوجیوں کی سعودی عرب کے لئے بھرتی کی اجازت دے دی؟ سو اے مالکان ریاست مہربانی کیجیئے ہمارے بچوں کے قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کا فرض ادا کیجئے۔ کہانیاں مت سنوائیں۔
بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
724
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: