Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کچھ یادیں کچھ باتیں – حیدر جاوید سید

by اپریل 26, 2017 کالم
کچھ یادیں کچھ باتیں – حیدر جاوید سید

دو دن ادھر ماں جائیوں کی طرح قابلِ احترام بہن نے ٹیلیفون پر سمجھاتے ہوئے کہا، "دیکھو راجی! جھوٹ کے موسم میں ضرورت سے زیادہ سچ بولنے سے پرہیز کرو۔ اپنے اور ہمارے لئے نہیں تو فاطمہ (میری بیٹی) کے لئے سوچا کرو۔ ویسے کبھی ٹھنڈے دل سے غور کرنا اس سچائی کے جہاد نے تمہیں دیا کیا”؟ بہن بہن ہی ہوتی ہے ماں جائی ہو یا منہ بولی۔ بھائیوں کے لئے اس کے جذبات و احساسات اور دعائیں کبھی ماند نہیں پڑتیں۔ میرن بہن جب ساری بات کہہ چکی تو عرض کیا”اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ جھوٹ کے موسم میں دوغلے پن کے ساتھ جینے والوں کو پاک بتول ؑ کےبلند مرتبہ بابا جان کی شفاعت نصیب ہو گی”؟ سچی بات یہ ہے کہ میں ولایت کا دعویٰ دار نہیں۔ جو کی نہیں گندم کے میدہ نکلے آٹے کی روٹی کھاتا ہوں۔ انسان ہوں۔ کچھ کج ہوں گے۔ جو سمجھ میں آ جاتے ہیں ان کی اصلاح کی کوشش کرتا ہوں۔ نصف صدی سے نو برس اوپر کے سفر میں ہمیشہ خوش قسمتی رہی کہ چند اچھے دوست مالِ غنیمت کی طرح میسر آئے۔ ان دوستوں نے ہر کڑے وقت میں ساتھ دیا اپنوں سے بڑھ کر میں ان کے لئے دعا گو رہتا ہوں۔ ہند کے داناؤں میں تلسی مجھے بہت پسند ہے۔ کہا تھا ” مورکھ !چوتھائی روٹی سے جیا جا سکتا ہے تو آدھی کیوں ٹھونس رہا ہے پیٹ میں”۔ جنم دینے اور پھر پالنے والی مائیں، بھیا ابو، استادان گرامی اور پھر دوست، اپنے رب کی کس کس نعمت کا شکریہ ادا کروں۔ آدمی کو حقیقی مالک کے حضور پلٹ کر خالی ہاتھ جانا ہے یہی ابدی سچائی ہے۔ اپنے لکھے پر اکثر کڑوی کسیلی سنتا رہتا ہوں۔ گالیاں اور فتوے، ایرانی و بھارتی ایجنٹ سمیت نجانے کیا کیا کہتے ہیں لوگ۔ مجھے ہمیشہ ذانوس یار رہے۔ انہوں نے کہا تھا "اپنے عہد کے ساتھ زندوں کی طرح زندہ رہو”۔ بہت پہلے غالباََ نویں جماعت کی اسلامیات کا پیریڈ تھا۔ استاد مکرم محمود عباس علوی پڑھا رہے تھے۔اچانک انہوں نے کتاب سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور بولے میرے بچو! امام زین العابدین ؑ نے ارشاد فرمایا تھا "وہ والدین خوش قسمت ہیں جن کا ذکر اولاد فخر سے کرے”۔ پھر اس ارشاد کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ” کل جب تم سب میری عمر کے حصے میں قدم رکھو تو کوشش کرنا کہ تمہارے بچے داخلہ فارم سمیت کسی بھی دستاویزات پر ولدیت کے خانے میں تمہارا نام لکھتے ہوئے شرمسار نہ ہوں”۔ اب کہاں سے لائیں ایسے استادانِ گرامی۔ استاد کھوسو تو عجیب انسان تھے۔ آدھی تنخواہ سکول کے سامنے والے بک سٹال والے کو دے جاتے تھے۔ انگنت بچے استاد کھوسو کے حساب میں کتابیں اور کاپیاں وغیرہ لیتے۔ پھر نجانے کیا ہوا سب کچھ بدل گیا۔ پیسہ اہمیت اختیار کر گیا۔ انسانی تعلق اور رشتے ثانوی ثابت ہوئے۔ مولوی وحید الدین اختر محمود آبادنمبر تین کی مسجد کے پیش نماز اور خطیب جمعہ تھے ، مسجدسے کچھ دور ان کا جنرل اسٹور تھا۔ لوگ کبھی جنازوں یا نکاح وغیرہ کے موقع پر کچھ پیش کرتے تو اس وقت تک اپنے گھر نہ جاتے جب تک کسی ضرورت مند سے ملاقات نہ کر لیتے۔ ایک بار حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ ہمارے سکول میں میلاد النبی ﷺ کے جلسہ میں تشریف لائے۔ دو تین مولاناؤں کے جواب سے ڈسے ہم طالب علموں نے محنت کر کے 165 روپے جمع کیے۔ حضرت خطاب کر چکے تو ان کی خدمت میں ایک بند لفافہ پیش کیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک لفافہ جیب سے نکالا اور ہمارے پرنسپل صاحب کو دیتے ہوئے محبت سے کہا "ان دونوں لفافوں میں جو بھی ہے اس سے اپنے سکول میں زیرِ تعلیم مستحق سادات بچوں کی مدد فرما دیجیئے گا۔
دنیا کیا سے کیا ہو گئی۔ کیسے کیسے تابندہ لوگ پچھلی صدی میں ہمارے درمیان سے اٹھ گئے۔ اکیسویں صدی میں ہم جس حال میں داخل ہوئے اس پر روؤں یا ہنسوں؟ بات دور نکل گئی۔ اللہ جانتا ہے کہ شوقِ خودنمائی اور پدرم سلطان بود کی بیماری کبھی لاحق نہیں ہوئی۔ اصل میں ہماری نسل نے جن عشروں میں آنکھ کھولی اورشعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ان عشروں کے ماحول میں انسانی اقدار اور محبتوں کے ساتھ ایثار کو تقدم حاصل تھا۔ کایا کلپ کی داستان بہت طویل ہے آدمی کیا لکھے اور کیا رہنے دے۔ ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں یہ آپ کو کیا قصے سنانے بیٹھ گیا۔ سچی بات یہ ہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے ابتدائی حصے کے بعد سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں اس ملک میں انسان سازی کا ایک ادارہ 70 برسوں میں نہیں بن پایا۔ کاش ہمارے بڑے اور حکمران گاڈ فادر بنانے کے ادارے ہی بنا دیتے۔ ہم دنیا میں جہادیوں کی جگہ گاڈ فادر بھجوا رہے ہوتے۔ ساری دنیا کی دولت کھچی کچھی پاکستان کی طرف آ رہی ہوتی۔ کاش کسی حکمران نے اس طور بھی سوچا ہوتا۔ یہاں جس نے بھی سوچا خود ہی گاڈ فادر بننے کا سوچا اور عمل کیا۔
جانے دیجیئے پانامہ کیس، ادھورے فیصلے، جے آئی ٹی پروگرام اوررشتے داریوں کے قصے کو۔ بندے دو ہی اچھے۔ ایک مولانا فضل الرحمٰن اور دوسرے میاں محمد نواز شریف۔ ان دونوں میں جو خصوصیات ہیں ایسی کسی اور میں کہاں؟ مٹی کو سونا بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ مولانا تو فضل ہی فضل ہیں۔ شکوہ یہ ہے کہ ان کافضل بھی خاندان تک ہی محدود ہے۔ جیسے نواز شریف کے دور میں اور ہو نہ ہو ان کے خاندان کا کاروبار بہت ترقی کرتا ہے۔ آپ کہیں گے میں نے زرداری کا نام کیوں نہیں لیا۔ سچی بات یہ ہے کہ زرداری کو مولانا اور نواز شریف کی شاگردی اختیار کرنی چاہیے۔ خیال یہی تھا کہ آج کے کالم میں سیاست کی کوئی بات نہیں ہوگی مگر سیاست کا چورن آج کل زیادہ بکتا ہے۔ میں کوشش کروں گا بلکہ اس کالم سے ہی آغاز کروں گا کہ اپنی بہن کا کہا مانوں۔ جان ہے تو جہان ہے۔ دو روٹیوں کی ہی تو ضرورت ہے۔ تین چار کتابیں ہر ماہ اور چند چھوٹی چھوٹی خواہشیں۔ شکر ہے بدترین حالات میں بھی پوری ہوتی رہیں۔ کل فقیر راحموں کہہ رہے تھے "یار شاہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر صحافت کے کوچے میں اترنے کی بجائے ہم ایک مذہبی جماعت بنا لیتے کوئی مدرسہ اور کوئی مسجد۔ قیام و طعام سمیت سارا بوجھ لوگوں کے کندھوں پر ہوتا”۔ جھٹ سے میں نے کہا "فقیر جی قبر اپنی اپنی ہوتی ہے اور حساب اپنا اپنا”۔ جواب ملا "تم نہیں سدھرنے والے۔ کیا میاں، مولانا، مرزا اور باقی نہیں جانتے کہ قبر اپنی اپنی ہوتی ہے اور حساب اپنا اپنا؟ ارے سب جانتے ہیں بس وہ سمجھتے ہیں کہ قبروں پر کون سا دروازے کھڑکیاں لگی ہوتی ہیں کہ کوئی کھول کر اندر گزرتی صورتحال جان لے گا”۔ مکرر معافی کا خواستگار ہوں۔ کیا باتیں لے بیٹھا۔ بھلا یہ بھی کوئی کرنے کی باتیں ہیں؟ ہم نے سوویت یونین توڑا۔ امریکہ توڑیں گے، بھارت کی مرمت کریں گے۔ سب کو سبق پڑھائیں گے۔ کاش ہم دنیا کو کوئی نئی تحقیق نئی ایجاد دے پاتے۔ فقیر راحموں نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ” نواز شریف ، مرزا اسلم بیگ، مولانا فضل الرحمٰن، پرویز مشرف، زرداری یہ ہماری ہی تو ایجادات ہیں۔ دنیا ان سے فیض پائے ہم نے روکا تو نہیں” ۔حرف آخر یہ ہے کہ ہمارے کچھ دوست عالمی سرمایہ داری نظام کے کمیشن ایجنٹ کے طور پر قاتلوں کو اسپیس دینے پر زور دے رہے ہیں۔ برائی کیا ہے اس میں ؟اگرمیاں نواز شریف نیو کمرشل لبڑل ہو سکتے ہیں تو کوئی سکہ بند قاتل دیوتائے امن کیوں نہیں؟ میں تو کہتا ہوں نواز شریف کی جتنی خدمات ہیں اس قوم کے لئے کیوں نہ انہیں اگلے بیس تیس شال کے لئے خلیفہ اردگان کی طرح منتخب کر لیں؟ جھلے پن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے سوچیئے گا ضرور اس تجویز پر۔ جان ہے تو جہان ہے۔

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
701
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: