Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

بیس لگاؤ 500 کماؤ کی سیاسی تجارت – حیدر جاوید سید

بیس لگاؤ 500 کماؤ کی سیاسی تجارت – حیدر جاوید سید

آگے بڑھنے سے قبل تحقیقاتی صحافت میں شہرت رکھنے والے رپورٹر ذوالفقار علی مہتو کی یہ رپورٹ پڑھ لیجئے ۔ ” وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے بیرون ملک اثاثوں ان کی خریداری اور منی ٹریل سے متعلق تحقیقات مطلوبہ نتائج نہیں دے پائے گی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ 2006میں ایف بی آر نے پرانے ریکارڈ کو بے کار قرار دے کر جلا دیا تھا اس وقت صرف ٹیکس دہند گان کے گوشوارے ، انکم ٹیکس اورویلتھ ٹیکس کو کمپیوٹرائز کر کے محفوظ کیا گیا ۔ جلا ئے گئے ریکارڈ میں شریف فیملی کے حوالے سے دستا ویزات بھی شامل تھیں ”۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے ۔ ” اب کچھ ناہووت ”۔ آیئے اصل موضوع پر بات کرتے ہیں اور فقیر راحموں کی باتوں پر ہر گز توجہ نہیں دیتے کہ وہ کہہ رہے ہیں ” لاہور کے مال خانہ سے لے کر میٹرو منصوبے اور ایف بی آر کے فضول ریکارڈ تک ہر وہ چیز جل کیو ں جاتی ہے جس کا کوئی نہ کوئی تعلق شریف خاندان سے بنتا ہو ”۔ فقیر راحمو ں اپنے دوست عمران خان کی محبت میں گرفتار ہیں بہر طور پانامہ کیس کے ”فیصلے ” سے جو برآمد ہوا وہ یہ ہے کہ دو جج صاحبان نے وزیراعظم کو غیر صادق و امین قرار دیا ہے جبکہ تین ججز نے مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم البتہ کلین چٹ انہوں نے بھی شریف فیملی کو نہیں پکڑوائی ۔ڈھول ڈھپے ۔ بھنگڑے او رمٹھائیاں ، جی کو بہلانے کے حیلے ہیں یہ سب ۔ حیرانی ہوتی ہے مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ دماغوں پر کیسی کیسی تفسیر بیان فرما رہے ہیں حالانکہ صاف سیدھی بات ہے کہ جے آئی ٹی بنانے کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ نہیں آیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے زیادہ کچھ بھی سپریم کورٹ کے اختیار میں تھا ؟ ۔ فہمیدہ جواب ہے کہ ”جی نہیں ”۔ البتہ جس بات کو نون لیگ کے متوالے یکسر نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں خود کو معصوم فرشتہ شریف فیملی کو ثابت کرنا ہوگا ۔ زیادہ آسان بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی کے لئے جو سوالات سپریم کورٹ نے تجویز کیئے یا یوں کہہ لیں جن سوالات کی روشنی میں تحقیقات ہوں گی ۔ بار ثبوت شریف فیملی کے ذمہ ہے ۔ جائز طریقے سے دولت بیرون ملک گئی یہ انہیں ثابت کرنا ہے ۔ کیونکہ فارن ایکسچینج ریگولیشن 1947ء 1972ء میں نانذ العمل تھا۔ بنا حکومت کی اجازت کے پیسہ ملک سے باہر لیجانے پرریگو لیشن کی شق 32کے تحت 2سال قید اور جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔ یہ حوالہ یوں دینا پڑاکہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ان کے والد نے اتفاق فونڈری کی نجکاری کے بعد دبئی میں گلف سٹیل مل لگائی تھی ۔ وزیراعظم یہ اعتراف کر چکے کہ ان کے والد پیسہ ملک سے لے کر گئے ۔ اب تحقیقات میں ذرائع بتانے ہوں گے ۔ پاکستان سے دبئی ، پھر قطر ، جدہ اور لندن تک پیسہ کیسے گیا ، کہانی کار اب کتنے خط لاتے ہیں اور کیا وہ خط قطری خط کی طرح غیر مقدس ہی قرار پائیں گے ۔ یہ نکتہ قابل غور ہے ۔ ہم اخلاقی جواز پر بات نہیں کریں گے ۔ اخلاقیات اور اصول اس ملک کے کس بازار سے کسی بھی بھاؤ دستیاب نہیں ۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیراعظم نے اپنے خاندان کی تقسیم بر صغیر سے قبل کی امارت وثروت کی جو کہانی سنائی تھی وہ صریحاًنسیم حجازی کے کسی ناول کا ماسٹر پیس ہی تھا ۔ 

یہاں ایک حوالہ عرض کروں 1990ء میں اس کالم نگار نے میاں نواز شریف کی حکومت کے قیام پر ” تیسرا پنجابی نہیں پہلا کشمیری وزیر اعظم ” کے عنوان سے ایک تحقیقاتی رپورٹ لکھی تھی جو اس وقت کے معروف سیاسی جریدے ” زنجیر لاہور”میں شائع ہو ئی ۔ اس رپورٹ میں لکھا تھا کہ شریف فیملی کا قیام پاکستان سے قبل دولت مند صنعتوں کا مالک اور ٹیکس گزار ہونے کا دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ 1954ء میاں محمدشریف (موجودہ وزیراعظم کے والد) نے وزارت صنعت کو 25، 25ہزار روپے کے قرضوں کے حصول کے لئے جو دو درخواستیں دی تھیں ان میں لکھا تھا کہ اپنی چھو ٹی سی فونڈری کو ایک بڑی فیکٹری میں تبدیل کرنے کے لئے یہ قرض چاہتے ہیں ۔ اتفاق فونڈری کے نام سے ایک چھوٹے درجہ کی بھٹی (فونڈری )اس وقت ریلوے روڈ لاہور پر موجود تھی ۔ رپورٹ میں دستا ویزاتی اور تصویری شہادتیں بھی شامل تھیں ۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد ہی وزارت داخلہ کے ماتحت ایک ادارے نے اس صحافی کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم کیوں سمجھ لیتے ہیں کہ پروپیگنڈے اور بھونپوؤں کے شور کے زور پر سچ اور تاریخ کو چھپایا جا سکتا ہے ۔ ان دو ستوں سے قطعاً اتفاق نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیئے ۔کیا جن قوتوں نے انہیں 2013ء کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت دلانے کابند وبست کیا وہ اس وقت تنہا چھوڑ دیںگی ؟ ۔ معاف کیجئے گا بہت مشکل ہوگا ایسا کرنا البتہ محفوظ راستے کے امکانات کا دروازہ بند نہیں ہوا ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ 47ارب کے قرضے 90ارب ڈالر کی صورت میں واپس کرنے کے معاہدے کرنے والی حکومت اگر نہیں رہتی تو ہمالیہ سے بلند دوستی والے چین کے قرضوں کا کیا بنے گا ۔ یہ اور کچھ دوسری وجوہات بھی ہیں غور کرتے اور سر دُھنتے جائیے ۔ سپریم کورٹ سے البتہ یہی مل سکتا تھا جو مل گیا اس پر قناعت کیجئے ۔ مالیاتی فراڈ کی تحقیقات جج نہیں متعلقہ ادارے کرتے ہیں۔ یہ اعتراض درست ہے کہ حکومت کے ملازمین حکومت کے سربراہ اور اس کے خاندان کے خلاف آزادانہ تحقیقات کرپائیں گے ؟ ۔ حرف آخر یہ ہے کہ اپوزیشن نہیں حکومت اور شریف فیملی بند گلی میں آن کھڑی ہوئی ہے ۔چیخ و پکار اور چیز ہے اور دلائل کے ساتھ ثبوت دوسری چیز ۔ ملازمین کو نوکری پکی کرنے کے لئے مالکوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہر حد سے گزرنا ابھی مزید دیکھیں گے ۔ سیاست میں مروت دیانت اور اصول تو رہے نہیں یہ تو خالص تجارت ہے 20گنا لگاؤ 500گنا کماؤ ۔ اس کو سیاسی تجارت کہتے ہیں اب ۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
535
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: