Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ایک کالم فتح کے بھنگڑے ڈالتے لیگیوں کے نام – حیدر جاوید سید

by اپریل 22, 2017 کالم
ایک کالم فتح کے بھنگڑے ڈالتے لیگیوں کے نام – حیدر جاوید سید

دو ٹوک بات یہ ہے کہ پانامہ کیس کا اصل فیصلہ دو ماہ بعد آئے گا۔ تب تک سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں سامنے رکھے گی۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب تحقیقاتی رپورٹ آئے گی تو پھر سماعت ہو گی۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے دو معزز ارکان نے وزیراعظم کی نااہلی کا نوٹ لکھا۔ تین معزز ارکان نے گو ابھی انہیں نااہل قرار نہیں دیا مگر جے آئی ٹی بنانے کا حکم ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ بات اتنی سادہ ہرگز نہیں ہے جس طرح "دسترخوانی قبیلے” کے مردوزن پیش کر رہے ہیں۔ اس طالب علم کو خواجہ سعد رفیق کے لب و لہجہ پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ خدا جانے چوہدری ظہور الہٰی مرحوم کی زکوٰۃ میں کیا تاثیر تھی کہ سعد رفیق وضع داری اور احترام انسانیت سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ ایک طویل انتظار کے بعد جمعرات کی دوپہر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے حوالے سے جو حکم سامنے آیا اس پر سادہ سے انداز میں دو لفظی بات تو یہ ہے کہ حکومت اپنے وزیراعظم اور اس کے خاندان کو حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش ؒ کا متولی ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ حکومتی ترجمان نجانے اس حقیقت کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے قطری شہزادے کے خط کو ردی کاغذ کی طرح پھینک دیا ہے۔ دولت و ثروت اور بیرون ملک جائیدادوں کے حوالے سے اب بار ثبوت مکمل طور پر شریف خاندان کی گردن پر لاد دیا گیا ہے۔ وزیراعظم اب جے آئی ٹی کو بتائیں گے کہ ملک سے پیسہ باہر کیسے گیا۔ قصہ 1992 ، 1993 یا  1998 کا نہیں بلکہ جس رقم کے بارے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں سینہ ٹھوک کر کہا تھا کہ وہ ان کے والد 1971 یا 72 میں پاکستان سے دبئی لے کر گئے اور کاروبار شروع کیا اس بارے بھی دستاویزاتی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔ یہاں آپ کو یاد دلا دوں کہ وزیراعظم کے اس بیان کے بعد کہ رقم ان کے والد 1971/72 میں دبئی لے کر گئے تھے اس وقت (بھٹودور) کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن کہہ چکے ہیں کہ ان کی وزارت نے کسی کو دولت بیرون ملک لے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ معاف کیجیئے گا قطری خط گھڑنا آسان ہے اس کے مقابلہ میں کہ 1971/72 کے زمانے کی دستاویزات لائی جائیں اور پھر ریکارڈ سے انہیں درست بھی ثابت کیا جائے۔
سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجیئے کہ اولاََ تو شریف خاندان کی رہی سہی اخلاقی ساکھ بھی داؤ پر لگ چکی ثانیاََ یہ کہ جب فیصلہ ہی نہیں آیا بلکہ فیصلے کے مرحلے کی طرف بڑھنے کا ایک حکم سامنے آیا ہے تو یہ بھنگڑے، نعرے اور مخالفین کو گالیاں کیوں؟ بہت ٹھنڈے دل سے صورتحال اور سپریم کورٹ کے حکم کو سمجھنا ہو گا۔ تین جج صاحبان نے نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیا تو ان کی اہلیت کی تصدیق بھی نہیں کی۔ قانون کی زبان میں یہ کہیں گے کہ تین ججز نے اس معاملے کو التواء میں ڈال دیا ہے۔ اس وقت تک کے لئے جب سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی 60 دن میں تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے کہ ن لیگیوں کو اتنی سادہ باتیں سمجھ میں کیوں نہیں آ رہیں اور کیوں وہ "حلق” کے زور پر خود کو گنگا نہایا ہوا سمجھ ، سمجھوا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات ہوں یا کوئی دوسرا کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ججز کے دہنوں میں اپنی زبان رکھ کر خواہشات کو فیصلے کی صورت میں بیان کرے۔ مثلاََ جو ہوا ہی نہیں کیسے مان لیا جائے کہ ہو گیا؟ جس قطری خط پر حکومتی یا یوں کہہ لیں کہ شریف خاندان کے مؤقف کی عمارت کھڑی تھی اسے سپریم کورٹ نے قابل عذر ہی نہیں سمجھا۔ اس طور پر شریفوں کی عمارت کی بنیاد ہی ختم ہوئی ۔ اب اگر کسی راکٹ سائنس میں بنیاد کے بغیر عمارت تعمیر کرنے اور پھر کھڑا رہنے کا فارمولا شریف خاندان یانواز لیگ کے پاس ہے تو  میں کچھ عرض کرنے سے قاصر ہوں۔ کیونکہ بجلی پیدا کرنے کے ایک منصوبے کے تین تین بار افتتاح کرنے کی سائنس کے موجدین کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ حیران ہونے کی ضرورت نہیں وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو بھکی پاور پلانٹ کا تیسری بار افتتاح فرمایا وہ بھی اس حال میں کہ اس افتتاح کے دور روز قبل بھکی پاورپلانٹ کی ایک ٹربائن پھٹ جانے سے 700 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کم ہوئی۔ مگر یہ کوئی پہلا لطیفہ نہیں ہے۔ ہمارے وزیراعظم لطیفے سن کر بندے کو سفیر اور پھر پی ٹی وی کا چئیرمین بنا دیتے ہیں۔
ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ فتح کے جھنڈے لہراتے لیگی ہجوم کے دہنوں سے جھاگ نکل رہی ہے۔ وہ "حلق” کے زور پر ریت کو چورن بنا کر لوگوں کو کھلانے پر بضد ہیں۔ فیصلہ آیا ہی نہیں تو فتح کیسی؟ اور جو حکم آیا ہے اسے پڑھ کر ن لیگیوں (جنہیں میرے بہت سارے دوست پٹواری کہتے ہیں) کی عقل "سیر” کرنے جا سکتی ہے۔ گو حاضر وہ اب بھی نہیں۔ سیاست و صحافت کے اس طالب علم کو روزِ اول سے سپریم کورٹ سے اس طرح کے حکم کے آنے کی امید تھی۔ وجہ یہ ہے کہ ایک خالصتاََ مالیاتی فراڈ جس کی کسی سطح پر کبھی کوئی تحقیقات ہی نہ ہوئی ہوں کا محض دلائل پر فیصلہ ممکن نہیں۔ لاریب یہ کوئی قانونی ملاکھڑا نہیں  بلکہ دو جمع دو کا سیدھا سا سوال ہے جواب میں پانچ یا سات ن لیگی ہی کہہ سکتے ہیں۔ کہانی جہاں سے شروع ہوئی تحقیقات کا آغاز وہیں سے ہوگا۔ یعنی میاں محمد شریف پاکستان سے دبئی رقم کیسے لے کر گئے؟ دبئی سے قطر، قطر سے جدہ اور جدہ سے لندن۔ پرانی رقم تازہ منافع کے ساتھ منتقل ہوتی رہی۔ اس جدید دور میں اونٹوں کا قافلہ یا بحری جہاز رقم نہیں ڈھوتا۔ مالیاتی ادارے موجود ہیں۔ آپ کو تو یاد ہو گا انہی سطور میں پانامہ کیس کی ابتدا کے وقت عرض کیا تھا "وزیراعظم نے جس حیلہ ساز سادگی سے مرحوم والد کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے اس سے معاملات بگڑیں گے”۔ آپ  سپریم کورٹ کے جمعرات کے حکم کو سطر سطر پڑھ لیجیئے۔ جے آئی ٹی تحقیقیات کا آغاز کہاں سے کرے گی؟ اس سوال کا جواب تلاش کیجیئے ساری بات سمجھ جائیں گے۔ سو اب اگر ن لیگی یہ کہتے ہیں کہ ہم جیتے اور عمران خان ہار گئے تو ان کے عقل مندوں کی ذہانت کو سوا دو سو توپوں کی سلامی پیش کرنے کے لئے تیاریاں کیجیئے۔
عمران خان سمیت وہ سارے لوگ جو شریف خاندان کو مالیاتی بے ضابطگی کا مجرم سمجھتے ہیں اخلاقی طور پر سوفیصد اور قانونی طورپر 60 فیصد اپنا مقدمہ جیت چکے۔ آپ گرم ترین دوپہر میں آسمان سے برستی آگ کو برف باری کہیں تو لوگ آپ کی عقل کا ماتم کریں گے۔ سپریم کورٹ نے وہ کہا ہی نہیں جو خواجوں کی جوڑی سپریم کورٹ کے احاطے کے باہر کہہ رہی تھی۔ مجھے معاف کیجیئے گا میں دانیال عزیز کو قابلِ رحم شخص سمجھتا ہوں۔ دو تہذیبوں کی اس "یادگار "کا مقام قومی اسمبلی نہیں ڈاکٹر رشید کا نفسیاتی کلینک ہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں اور اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کوئی تحقیقاتی ایجنسی نہیں عدالت ہے جس نے تحقیقات اور دستیاب شواہد پر اٹھے دلائل کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ اب اس (سپریم کورٹ) نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ شواہد کسی حد تک اس کے پاس ہیں۔ دلائل دیئے جا چکے۔ تحقیقاتی رپورٹ پر فیصلہ ہوگا۔ وہ کیا فیصلہ ہوگا سیاسیات کے اس طالب علم کو قانون بارے جتنی معلومات ہیں ان کے پیشِ نظر یہ عرض کر سکتا ہوں کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد نااہلی التواء میں نہیں رہے گی۔میری دانست میں جناب نواز شریف کے پاس اخلاقی راستہ یہ ہے کہ وہ وزیراعظم کا منصب چھوڑ دیں۔ مگر ایک صحافی کے طور پر اچھی طرح جانتا ہوں کہ نواز شریف ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کے بیرونی آقاؤں نے انہیں 2007ء میں جو ایجنڈا دے کر پاکستان بھیجا تھا وہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ ثانیاََ یہ کہ کسی کو سیاسی اور قانونی معاملات میں مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان آج جن حالات سے دوچار ہے اس کے دو برادر اسلامی ممالک کے ساتھ ہمارے مختلف اداروں کے دو سابق چیف اور ایک سیکرٹری ذمہ دار ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں ان مجرموں کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہ ہو گا اور وہ بھی جنہوں نے 2013ء کے انتخابی نتائج مرضی کے بنوائے اس قوم کے مجرم ہیں۔ بہر طور یہ بات ضمنی طور پر یو ں عرض کرنا پڑی کے ہم اسے باقی ماندہ صورتحال سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ پانامہ کیس میں وزیراعظم کے خاندان کو جو سبکی حاصل ہوئی وہ وقت کے ساتھ بمعہ سود بڑھتی رہے گی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جن لوگوں نے سیاست کو کاروبار بنا رکھا ہے ان کے نزدیک منافع اصل چیز ہے عزت اور بے عزتی نہیں۔ مکرر عرض ہے فیصلے کے بغیر فتح کے بھنگڑے ڈالنے والو کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ افسوس کہ ٹیکنیکل فالٹ ہے اور یہ دونوں اشیاء بازار میں بھی نہیں ملتیں۔

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
705
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: