آئیے جبروستم کے خلاف قلندری دھمال ڈالیں – حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

نجانے پچھلے چوبیس گھنٹوں سےمیرا دل کیوں چاہ رہا ہے کہ ملک طارق بھابھہ اور عامر حسینی سمیت چند دوسرے دوستوں کو ساتھ لے کر تختِ پنجاب کے مہاراجہ میاں شہباز شریف کے دفتر کے باہر قلندری دھمال ڈالوں۔ اس قلندری دھمال کے لیے کئی جواز موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ 2013ء کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کے کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے ساتھ معاملات طے کروانے والے اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی نے پنجاب میں بطور آئی جی تین سال کی تعیناتی کا عرصہ قدرومنزلت کے ساتھ مکمل کیا اور اگلے دن ریٹائرمنٹ کے فقط گیارہ گھنٹوں بعد اسی سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو وزیراعلیٰ پنجاب کا ایڈوائزر مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ ثانیاََ یہ کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے باقی ماندہ قربانی کے بکروں کی ضمانت ہو گئی ہے۔ ثالثاََ یہ کہ جن لوگوں کو یہ خوش فہمی تھی کہ مشتاق سکھیرا ملازمت کے اختتام کے بعد قانون کی پکڑ میں آئیں گے انہیں خاطر جمع رکھنی ہو گی۔ شریف برادران کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے جس نے جتنی غیر قانونی مدد کی وہ اتنا ہی نوازا گیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ایک مرکزی کردار توقیر شاہ ڈبلیو ٹی او میں بیرون ملک خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ رانا ثناء اللہ ابھی تک پنجاب کا وزیرِ قانون ہے۔ مشتاق سکھیرا کو نئی ڈیوٹی مل گئی۔ قربانی کے بکرے بنائے گئےپولیس والوں کی ایک ایک کر کے ضمانت ہو گئی۔ الٰہ دین کا چراغ لےکے کر بھی اگر کوئی 17 جون 2014ء کے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے وقت کی پولیس وردیوں میں ملبوس ایک کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو تلاش کرنا چاہے تو بہت مشکل پیش آئے گی کیونکہ الٰہ دین کے چراغ کا مقابلہ سامری جادوگر سے ہے۔ آپ مجھ سے سامری جادوگر کے بارے نہ پوچھنے لگ جائیے گا گرمی بہت ہے اور ہڈیاں بھی بوڑھی ہوچکیں میری اور خدائی فوج داری کا زمانہ بہت پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ یہ جو تھوڑا بہت سچ لکھ دیتا ہوں اس بارے فقط یہ کہ عادتیں سروں کے ساتھ جاتی ہیں۔
پچھلے 48 گھنٹے سے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے باہر سر اور چہرے کے ساتھ منہ میں گولیاں کھا کر شہید ہونے والی دو عفت مآب خواتین پوچھ رہی ہیں شاہ زادے بھائی! غیرت انسانی، انصاف اور آزادی اظہار کو اس ملک میں جوتے کیوں پڑتے ہیں؟ شہدائے ماڈل ٹاؤن کا خون، قاتلوں ، سرپرستوں اور منصوبہ سازوں کے لئے پچھلے تین سال سے منعفت بخش ثابت ہو رہا ہے۔ اس ملک میں گلو بٹ کو بھی انصاف ملتا ہے اور وہ کروفر کے ساتھ جیل سے گھر کو روانہ ہوتا ہے۔ لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لئے انصاف نہیں ہے۔ ظلم یہ ہے کہ ہائیکورٹ کے جج کی تحقیقاتی رپورٹ پر حکم امتناعی ہے۔ سرآنکھوں پر حکم امتناعی کی قانون میں گنجائش ہے۔ آپ 8 ارب کا ٹیکس نہ دینے کے لئے بھی حاصل کرسکتے ہیں اور کسی سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت اور رپورٹ کے مطابق کرداروں کو منطقی انجام سے بچانے کے لئے بھی۔ عجیب ملک ہے نا جنگ آزادی کے اصل ہیرو غدار ،ڈاکو ، لٹیرے قرار پائے ہیں۔ انگریزوں کے لئے مخبری کرنے ، مجاہدوں کا خون بہانے اور استعماری اقتدار کو دوام دینے میں کردار ادا کرنے والے خان بہادر، سر بنتے ہیں جاگیریں پاتے ہیں اور ان کی چوتھی نسل آج بھی ہم پر کسی نہ کسی شکل میں مسلط ہے۔ قاتل اور غداروں کی اولاد معزز اور زمین زادے نسل در نسل بے اماں۔ رہنے دیجیئے تاریخ کے اتنے پنے الٹنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے عصر کا جھوٹ سچ بتا کر پیش کیا جارہا ہے۔ بھائیوں کا گوشت کھانے والوں کی چاندی ہے۔ گدھے کا گوشت بھائیوں کے گوشت سے زیادہ لذیز نہیں۔ مجھے یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ سابق آئی جی پنجاب کو بھی یہ یقین دہانی کرائی جا چکی ہے کہ موجود حکومت کے ہوتے ہوئے پنجاب میں کسی کا "باپ” بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
میرے بہت سارے پشتون، سندھی اور بلوچ قوم پرست دوست اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ شاہ جی سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہو۔ ہمارے صوبوں میں جو سانحے ہوتے یا ہوئے ان پر اس جذباتی انداز میں کیوں نہیں لکھتے؟ ہمیشہ ان کی خدمت میں یہی عرج کرتا ہوں کہ ایک انسان کا قتل ہو یا دہشت گردی کا کوئی المناک واقعہ، یکساں جذبات ہوتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا معاملہ اس لئےقدرے مختلف ہے کہ ٹی وی سکرینوں کے ذریعے مجھ سمیت کروڑوں لوگوں نےلائیو کوریج دیکھی۔ قاتل بھی سامنے تھے اور مقتول بھی۔ ایک عامل صحافی کی حیثیت سے یہ بھی معلوم تھا کہ دو بڑی تحقیقاتی ایجنسیوں کے پاس اس سانحہ کی مکمل وڈیوز موجود تھیں ۔پولیس کی وردی پہنے دہشت گردوں کی شناخت بھی کر لی گئی تھی۔ پھر نجانے کیا ہوا۔ کوئی اصلی قاتل پکڑا گیا نہ منصوبہ ساز اور حکم دینے والے۔ بلکہ سارے کرداروں کو جی بھر کے نوازا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں ریاستی اداروں کی دہشت گردی کو نامعلوم دہشت گردوں کی کارروائی ماننے لکھنے کے مرض کا شکار ہوں نہ دہشت گردی کو فرقہ واریت کا شاخسانہ قرار دے کر مجرموں اور سہولت کاروں کی پردہ پوشی کے گھناؤنے جرم میں حصہ ڈالتا ہوں۔ اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ کسی بھی سانحے پر لکھتے ہوئے الفاظ کی ہیرا پھیری کا مقصد ظالموں کی مدد کرنا ہے۔ ہمیشہ ایسے موقع پر قرآن عظیم الشان کا پیغام یاد آ جاتا ہے "جس مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہ ہو اللہ اس مظلوم کے ساتھ مل کر بدلہ لیتا ہے۔”
صاحب ایمان و تقویٰ ہونے کا زعم ہے نا دعویٰ۔ اسی لئے جو سامنے کی حقیقت ہے وہی عرض کرتا ہوں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے روزِ اول سے یہی عرض کرتا چلا آیا ہوں کہ یہ سانحہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ منصوبہ سازوں کا مقصد آپریشن ضرب عضب کو "سلامی ” پیش کرنا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کی سزا پانے والے ان بے گناہ انسانوں کے لئے وعدے کے باوجود اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا اور اب تو وہ خیر سے نجدی عسکری اتحاد میں ملازمت فرمائیں گے۔ ان کالموں میں لفظ بہ لفظ منصوبہ منصوبہ سازوں کے گھناؤنے مقاصد اور استعمال کیے گئے کرداروں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ متعدد بار عرض کر چکا۔ اب جبکہ اس سانحہ کے ایک اور اہم کردار کو ریٹائرمنٹ کے صرف گیارہ گھنٹے بعد وزیراعلیٰ کا ایڈوائزر مقرر کر دیا گیا ہے تو مجھے حیرانی نہیں ہوئی۔ البتہ وہ جو کہتے ہیں کہ آپریشن ردالفساد کے دوران کسی بھی طاقتور اور باوسائل شخص کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا ہر سہولت کار اپنے انجام کو پہنچے گا ۔ وہ جنہوں نے کم از کم تین مرتبہ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ اور اس وقت کے آئی جی پولیس پر بھری میٹنگ میں عدم اعتماد کا اظہار کیا "وہ” کتنے بے بس ہیں۔ اس بے بسی کے ساتھ وہ کیسے آپریشن ردالفساد کے حوالے سے وعدے اور دعوے پورے کرپائیں گے؟ یہ سوال کبھی کسی طرح جان نہیں چھوڑتا۔ لاریب کرپشن، اقربا پروری اور دیگر ناپسندیدہ معاملات میں بھی نون لیگ کا کوئی ثانی نہیں مگر خدا کی زمین پر بے گناہوں کا خون بہانے والے جس طرح پھل پھول رہے ہیں اس پر بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں اور ان سے بچنے کی تدابیر کرتا رہتا ہوں۔ خاک نشینوں کا خون رزق خاک ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ پانامہ کے شور میں بڑے بڑے جرائم چھپ گئے۔ طالب علم محض یاددہانی کے لئے لکھتا ہے تاکہ سند رہے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کی روحین گواہ رہیں کہ ہم انہیں بھولے نہیں۔ اس بات پر ایمان قائم ہے کہ انصاف ہو کر رہے گا۔ البتہ جس قسم کا کھلواڑ ہو رہا ہے اس پر جی چاہتا ہے کہ ملک طارق بھابہ، عامر حسینی اور دوسرے دوستوں کو اکٹھا کر کے سیون کلب روڈ لاہور کے باہر قلندری دھمال ڈالی جائے تو کچھ تو غم غلط ہو، ملال کم ہو۔ معاف کیجیئے گا قلندری دھمال کا یہ پروگرام زندگی سے فرار کے لئے نہیں بلکہ جبروستم کے احتجاج کے لئے ہے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے تخت و تاج جب اچھالے جائیں گے۔
بشکریہ روزنامہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
806
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خواتین کے استحصال کی جدلیات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: