Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کیا تعبیریں پھر چوری ہوں گی خوابوں کی ؟ – حیدر جاوید سید

by اپریل 3, 2017 کالم
کیا تعبیریں پھر چوری ہوں گی خوابوں کی ؟ – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

یہاں تک تو بات درست ہے کہ 2013ء کے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل جاتی امراء میں مسلم لیگ (ن) کے بڑوں کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا (جیسا کہ بزرگ صحافی نذیر ناجی نے اپنے کالم میں لکھا) اور اس میں اس وقت کے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی بھی شریک تھے۔ افسوس کہ ناجی صاحب نے اس اجلاس کے تین دوسرے شرکاء کے نام نہیں لکھے۔ افتخار محمد چوہدری اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان تھے۔ جسٹس (ر) کیانی پنجاب سے الیکشن کمیشن کے رکن تھے۔ تیسرے رکن الیکشن کمیشن کے اس وقت کے سیکریٹری تھے جنہیں  کچھ لوگ وائسرائے آف الیکشن کمیشن بھی کہتے تھے۔ ہمارئے سینئرصحافی نے ادھوری کہانی اور کم نام کیوں لکھے یہ بذات خود ایک سوال ہے۔ البتہ یہ عرض کیے دیتا ہوں کہ اس مشاورتی اجلاس میں فقط تحریکِ انصاف نہیں بلکہ ایک ڈھیلے ڈھالے سیاسی اتحاد کے قیام اور انتخابی اتحاد بنانے کی تجویز پر غور ہوا تھا۔ جنرل کیانی جماعت اسلامی اور محمود خان اچکزئی کے ضامن بننے کو تیار تھے۔ اسی اجلاس میں افتخار چوہدری کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ وہ مستقبل میں مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ہوں گے۔ جون 2012ء کا آخری ہفتہ تھا یا جولائی 2012ء کے ابتدائی دن جب یہ مشاورتی بیٹھک ہوئی۔ خیبر پختونخواہ کی وزارتِ اعلیٰ کے سوال پر نواز شریف کا مؤقف تھا کہ تحریکِ انصاف کو پیشگی پیشکش کی ضرورت نہیں۔ مسلم لیگ (ن)، اے این پی اور جے یو آئی (ف) انتخابات کے بعد اس پوزیشن میں ہوں گے کہ صوبے میں اپنی حکومت بنا لیں۔ اس مرحلہ پر آفتاب شیر پاؤ سے بھی بات کی جاسکتی ہے۔ بہت احترام کے ساتھ عرض کر دوں کہ جنرل کیانی نے پیپلز پارٹی سے بات کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی کیونکہ ان کے چند ماتحت سندھ میں 17 جماعتی اتحاد تخلیق کرنے کے عمل میں مصروف تھے۔ خود کیانی بھی جانتے تھے کہ پیپلز پارٹی اور ان کے درمیان دریائے سندھ حائل ہے۔
بجا ہے کہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کی اٹھان سے بہت ساری سیاسی قوتوں کے ساتھ خود طاقت کے اصل مرکز میں  تشریف فرماؤں میں سے بھی کچھ پریشان تھے۔ پریشانی کی بہت ساری وجوہات تھی بہرحال کرپشن سب سے بڑی وجہ اور اس سے بڑی وجہ مستقبل میں چینی سرمایہ کاری کا مسئلہ تھا۔ شریف خاندان اس کے "فوائد” سے محروم ہونے کو تیار نہیں تھا۔ جناب اسحاق ڈار نے یہ بھی تو کہا تھا کہ جنرل مشرف کے دور میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے ان کا دفعہ 164 کے تحت دیا گیا بیان تحریکِ انصاف شریف خاندان کے خلاف استعمال کرے گی۔ یہی نواز شریف کی دکھتی رگ تھی۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ تحریکِ انصاف ، جماعت اسلامی، اچکزئی ، پیر پگاڑا، اسفند یار ولی ، بلوچ اور سندھی قوم پرستوں پر مشتمل سیاسی و انتخابی اتحاد کی تجویز چوہدری نثار علی خان کی تھی اور شہباز شریف اس کے تائید کنندہ تھے۔ کیانی ہر ممکن تعاون کا وعدہ کر رہے تھے۔ دیکھا جائے تو اس اجلاس میں انتخابی نتائج اغوا کرنے کے حوالے سے کردا ر ادا کرسکنے والی تین شخصیات تھیں۔ کیانی ، چوہدری افتخار اور الیکشن کمیشن کے سیکریٹری۔ یہ تینوں جاتی  امرا کی جیب کی گھڑی تھے۔ مفادات مشترکہ اور محفوظ مستقبل کے سوال پر ان سب نے مل کر جس سازش کے تانے بانے بنے 2013ء کے الیکشن کے انتخابی نتائج عین اس کے مطابق تھے۔ تحریکِ انصاف کو کے پی کے اور پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود رکھنے میں فریقین کو عافیت محسوس ہوتی تھی۔ آر اوز کے کے دفاتر کو پولنگ سے ایک رات پہلے فوج کی تحویل میں لینے کا فیصلہ اسی مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔ جیتنے والے امیدواروں کا مسلم لیگ (ن) کی طرف ہانکا کرنے میں دو مقتدر اداروں نے جو کردار ادا کیا وہ شرم ناک تھا۔ اس سے زیادہ شرمناک بات یہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) نے عمران خان کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈے کی راہ اپنائی جو 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف کیا جا چکا تھا۔
حیرانی اس بات پر ہے کہ جناب ناجی نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ کن تین اعلیٰ ظرف اور "چٹے سفید” بزرگ صحافیوں کو تحریک انصاف کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کی نگرانی سونپی گئی اور وہ کون تھا جس نے کہا تھا "پیپلز پارٹی کو نشانِ عبرت بنا دینے کا یہ موقع کبھی ضائع نہیں کروں گا”۔ ہلکا سا کھٹا میٹھا سچ یہ ہے کہ طاقت کے اصل مرکز کے اندر عمران خان کی حمایت کرنے والے نئی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام میں تحریکِ انصاف کے ساتھ لوئر مڈل اور مڈل کلاس کے وہ طبقات تھے جو سیاست اور جمہوریت کو گالی سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ موقع مل رہا ہے کہ عمران خان کی حمایت کر کے "گند” صاف کر لیا جائے۔جس بات پر تحریک انصاف اور اس سے تعاون کرنے والوں نے غور نہ کیا وہ یہ تھی کہ کیا محض لوئر مڈل اور مڈل کلاس کی بنیاد پر انتخابی نتائج سے دھڑن تختہ ممکن ہے؟ ثانیاََ یہ کہ اگر آرمی چیف، چیف جسٹس اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ پچھلے 27 سالوں (اس وقت) سے شریف فیملی کے زیرِ بار سول اشرافیہ ( بیوروکریسی) مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھل کر کھڑی ہوگی تو کیسے ممکن ہے کہ عام ووٹر کو متوجہ کیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ جنرل کیانی کے مشیر اعظم جو کہ خود کو تحریکِ انصاف کا لینن قرار دیتے تھے اپنے آقا کے حکم پر تحریکِ انصاف کی ہی کچھ شخصیات کی کردار کشی میں جت گئے۔ حضرت خلیفہ جی اور ان کے خالہ زاد بھائی طارق چوہدری ایک سازش کے تحت جاوید چوہدری کو تحریک انصاف میں لے گئے اس کے بدلے دونوں خالہ زاد عمران خان سے جو چاہتے تھے وہ نہ مل سکا۔ نہ مل سکنے کی وجہ مخدوم شاہ محمود قریشی تھے جنہوں نے فیصل آباد اور راولپنڈی ڈویژن میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کے لئے اس خالہ زاد جوڑی کو بھری محفل میں یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ تحریکِ انصاف اس شخص پر کیسے یقین کر لے جس کے ماتحت اضلاع کی سطح پرمسلم لیگ (ن) کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔
2013ء کے انتخابات میں کیا ہوا اس حوالے سے ان کالموں میں وقتاَََ فوقتاََ لکھتا رہا ہوں۔ آج اس جواب آں غزل کی وجہ محترم نذیر ناجی صاحب کے کالم کی پہلی قسط ہے۔ وہ زیادہ بہتر جانتے ہوں گے کہ انہوں نے کس "حال” میں چوتھائی سچ لکھنے کی زحمت کی۔ ڈھیر ساری "محنت اور مشقت” کی وجہ سے ان کا طبقہ بھی تو تبدیل ہو گیا ہے۔ اس خوشگوار تبدیلی میں راحت ہی راحت ہے۔ کچھ عجیب نہیں لگتا جو لوگ کبھی پرانی انار کلی لاہور کے عبدالرحمان ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے میزبان تلاش کرتے تھے اب کروڑ پتی ہیں۔ طبقاتی تبدیلی کے ساتھ ضرورتیں اور مزاج بدل ہی جاتے ہیں۔ خیر جانے دیجیئے ، یہ سب دھن پرایا قبر میں کس کے ساتھ گیا۔ تعمیر ملت سکول سے منشی کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کرنے والےسے وزیرآباد کے مشہور تحفے تک سارے نفس کے اکھڑ گھوڑے پرسوار ہیں۔ کرپشن پاک بازی کے قصوں سے چھپائی جاتی ہے یا جی ٹی روڈ کے ایک "صوفی” کے ارشادات و اقوال سے۔ ایک ایسے مرحلے پر جب نئے میدان لگنے اور اتحاد وں کےبننے کی خبریں آ رہی ہیں خود کو یک از مجاور ِتحریک انصاف  کے طور پر پیش کرنا کسی نئی سازش کا حصہ تو نہیں؟ اس سوال پر عمران خان اور اس کی ساری جماعت کو غور کرنا چاہیے۔ مکرر عرض ہے کہ 2013ء کے الیکشن سے قبل امریکہ، سعودی عرب اور بھارت تینوں پاکستان کی بدلتی سیاست میں اپنا کردار پرجوش انداز میں پیش کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے لئے سعودی عرب اور بھارت کی ناپسندیدگی کی وجہ کسی  کھائی میں تلاش کر کے لانے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان کرن تھاپر کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈرون حملوں کے حوالے سے اپنی بات کہہ کر ناپسندیدہ لوگوں کی صف میں جا کھڑے ہوئے تھے۔ جنرل مشرف زندہ و سلامت ہیں ان سے پوچھ لیجئے کہ کیا 2007ء میں  جب محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں تو ذمہ دار سعودی حکام نے ان سے براہِ راست یہ نہیں کہا تھا کہ "ایران نواز بے نظیر بھٹو کی پاکستان میں موجودگی سے سعودی عرب کے تحفظات اس وقت تک دور نہیں ہوسکتے جب تک شریف فیملی کو وطن واپسی کا راستہ نہ دیا جائے”۔ نجانے مجھے اب پھر اس تگڑم کے درمیان کھچڑی پکنے کی خوشبو کیوں آ رہی ہے۔ کچھ معاملات پسِ پردہ ہو رہے ہیں۔ "دیر سویر” اسی لئے ہو رہی ہے کہ کون کس کو محفوظ راستہ دلوانے کا خواہش مند ہے۔ یہ ڈیڑھ ارب ڈالر کا سوال ہرگز نہیں۔ اب تو چین بھی ایک طاقتور کھلاڑی ہے۔ ایک میڈیا ہاؤس کے مالک یہ کہتے پھرتے ہیں الیکشن سے چند ماہ قبل بہت سارے لوگ تحریکِ انصاف سے ہجرت کر کے مسلم لیگ (ن) کی منڈھیر پر جا بیٹھیں گے۔ خلیفہ جی حسبِ سابق ارشادات و اقوال سناتے رہیں گے۔ پاکستان کے رائے دہندگان کے فیصلے کو چوری کرنے کی سازش پنپ رہی ہے۔ کیا خواب پھر تعبیروں سے پہلے چوری ہو جائیں گے؟ یہی سوال مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

پسِ نوشت : نذیر ناجی کا کالم بنیادی طور پر جعفر حسین کی تحریر ہے جو پچھلے دو سالوں کے دوران چند اخبارات اور سوشل میڈیا پر شائع ہو چکی ہے۔ جعفر حسین کی تحریر طنزیہ ہے۔ ناجی صاحب نے اسے اپنے نام سے کیوں شائع کیا یہ وہی بتا سکتے ہیں۔  البتہ جواب آں غزل کے طور پر لکھا گیا یہ کالم طنزومزاح پر مبنی تحریر نہیں ہے

Views All Time
Views All Time
524
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دائیں بائیں شائیں - گل نوخیز اختر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: