Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں – حیدر جاوید سید

by مارچ 21, 2017 کالم
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

حسین حقانی طلبہ سیاست کے میدان سے اٹھے۔ کراچی یونیورسٹی کی انجمن طلباء کے عہدے کے لئے جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے امیدوار تھے کامیاب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء لگا تو وہ اسے استحکام پاکستان اور اسلام کی نشاطہ ثانیہ قرار دیتے ہوئے صحافت کے میدان میں کودے۔ ان کی شہرت کو چار چاند اس وقت لگے جب جناب نواز شریف نے 1988ء کی انتخابی مہم سے قبل اپنی قیام گاہ پر میڈیا سیل قائم کیا وہ اس کے سربراہ ہوئے۔ اس میڈیا سیل نے بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بارے پروپیگنڈے کا جو طوفان بد تمیزی برپا کیا وہ ہماری سیاسی تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ 1990ء میں نواز شریف برسر اقتدار آئے تو پہلے ان کے مشیر بنے پھر سری لنکا میں سفیر بنا دئیے گئے۔ 1993ء میں پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں دوسری بار اقتدار میں آئی تو موصوف سفارت چھوڑ کر مشرف بہ پیپلز پارٹی ہوگئے۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات بنے۔ پیپلز پارٹی کی زرداری گیلانی حکومت کے خلاف میمو گیٹ سکینڈل سامنے آیا۔ اس وقت کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے وزارت دفاع کے توسط سے بیان دینے کی بجائے براہ راست بیان حلفی سپریم کورٹ میں جمع کروایا۔ یہ وہی میمو گیٹ سکینڈل ہے جس کی عدالتی سماعت کے لئے عالی جناب میاں نواز شریف کالا کوٹ پہن کر چودھری افتخار کی عدالت میں پیش ہوئے ۔طویل تمہید کے لئے معذرت خواہ ہوں پچھلے چند دنوں سے حسین حقانی کے ایک مضمون کی بنیاد پر الیکٹرانک میڈیا کے سیاپافروشوں اور حب الوطنی کے تاجروں میں بھونچال آیا ہوا ہے ۔ مگر جس بنیادی سوال کو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ انگریز ی میں شائع ہونے والے مضمون کا اردو ترجمہ کرنے اور اہتمام کے ساتھ شائع کروانے والوں نے اس کے متن میں تحریف کیوں کی ۔کیوں یہ تاثر دیا کہ پیپلز پارٹی کی زرداری گیلانی حکومت ایک خالص امریکی ایجنٹ حکومت تھی؟ عام فہم جواب یہ ہے کہ یہ کھڑا ک اس لئے کیا گیا کہ عوام اور میڈیا کی توجہ پانامہ کیس سے ہٹا کر انہیں پیپلز پارٹی کی حب الوطنی اور مسلمانی کے جائز ے پر لگا دیا جائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ منصوبہ سازوں کی خواہشات کے عین مطابق فضا بن چکی ۔ میں پیپلز پارٹی کے بعض حلقو ں کی اس رائے سے متفق نہیں ہوں کہ اس پنڈو را باکس کو کھولنے کا مقصد مستقبل کی سیاست کے حوالے سے پارٹی کو دباؤ میں لانا ہے ۔البتہ مجھے حیرانی ان صحافتی جغادریوں پر ہے جو یہ بھول گئے کہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو راولپنڈی کی ایک شاہراہ پر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھی تھیں ۔ پاکستان بطورریاست امریکہ سوویت یونین والے جہاد میں ساجھے وارتھا اور پھر 9/11کے بعد انسداد دہشت گردی کے امریکی منصوبے میں بس باضابطہ شریک ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ افغان جہاد کے زمانہ کی طرح 9/11کے بعد انسداد دہشت گردی کی امریکی جنگ کے دنوں میں بھی بعض امریکی ادارے پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگا تے رہے ؟۔ پہلی دو باتیں عرض کرنا مقصود ہیں کیا امریکہ کو فوجی اڈے دینے کا فیصلہ زرداری ، گیلانی حکومت کا تھا ؟ اس کا جواب ہمیں پہلے فوجی آمر ایوب خان کے دور میں ملے گا اور قریب ترین بات جنرل پرویز مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں سے سمجھ میں آسکتی ہے ثا نیاًیہ کہ کوئی سول حکومت واقعتاََ اتنی آزاد ہوتی ہے کہ وہ از خود خارجہ پالیسی وضع کرے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان کا پچھلے چار سالوں سے وزیر خارجہ نہیں ہے ۔ علاقائی بالا دستی کی گیم میں حب الوطنی کے نئے معیار ات متعارف کروانے والوں کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ جب جنگجو امریکہ کی ضرورت تھے تو مجاہدین کہلائے اور امن عالم کے مسیحا قرار پائے تھے ۔ 9/11نے سارا منظر نامہ تبدیل کر دیا ماضی کے مجاہدین اب دہشت گرد تھے اور ہمارے حکمران امریکہ کے قدم بہ قدم ۔ توپھر لازم تھا کہ تنظیموں اورافراد کے حوالے سے یہاں وہی سو چا کہا لکھا جاتا جو امریکی آقا کہنا چاہتے تھے ۔ سوبہت ادب کے ساتھ خالی اور سادہ پانی کو لسی بنانے کے شوقین خواتین و حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ حب الوطنی کے معیارات سیاپا فروشی سے طے ہوتے ہیں نا قومی مفادات ۔ وونوں کام منتخب اداروں کے ہیں ۔ ان منتخب اداروں میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک سادہ سا سوال کیا تھا اس کے جواب میں نشان عبرت بنا دیئے گئے (یہاں ان کی پردہ پوشی یا وکالت مقصد نہیں )عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آدھے پورے پونے جملے لے کر بھات اُٹھنے اور مجمع لگانے کی بجائے حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ حقائق یہ ہیں کہ جناب حقانی فی الوقت امریکہ کی ڈارلنگ ہیں اور اپنی اہلیہ سمیت امریکی شہری ، وہ کچھ کہتے ہیں لکھتے ہیں تو یہ ایک امریکی شہری کی سوچ ہے ۔ہمیں یہاں یہ دیکھنا چاہیئے کہ خود ہم بطور یاست کہاں کھڑے ہیں ۔ کیا محض سی پیک کے لالی پاپ سے امریکی محتاجی ختم ہو سکتی ہے ۔ چند خبروں اور بیانات سے حقائق تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ فہمیدہ جواب یہ ہے کہ ”بالکل نہیں ” ۔ ہمیں از سر نو سارے معاملات کا جائزہ لینا ہوگا ۔ اقوام کی برادری میں باوقار ریاست کے طور پر کھڑاہونے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے کسی تاخیر کے بغیر کیئے جانے چاہیں ۔ معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیئے کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کسی تاخیر کے بغیر شائع کی جائے ۔ تاکہ یک رُخی بات ختم ہو اور سارے کرداروں کے چہروں سے پردہ اُٹھ پائے ۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
515
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   وہ صبح کبھی تو آئے گی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: