Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تربتِ مادرِ گرامی پر حاضری – حیدر جاوید سید

تربتِ مادرِ گرامی پر حاضری – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

9 سال کی عمر میں جنم بھومی (ملتان) سے پہلی ہجرت تھی۔ پچھلے 49 برسوں کے دوران جب بھی اس شہرِ یار میں چند دن بسر کرنے کو ملے رخصت ہوتے وقت ایسا لگا کہ اپنی ارتھی کاندھے پر اٹھائے پھر سے ہجرت لازم ہوئی۔ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں مگر نمی چھپانے کی کوششیں ساری اکارت۔ چند مہینوں یا جب بھی ملتان کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنانے کے شوق میں ایک سفر کر کے پہنچتا ہوں عجیب کیفیت سے گزرتا ہوں۔ اپنے ہی ملک میں اپنے وسیب سے بچھڑنے کا گھاؤ بہت گہرا ہے۔ تلاشِ رزق کس قدر مشکل ہے پچھلے 49 برسوں کے دوران اتنی بار یہ بات سمجھ میں آئی اور سمجھائی گئی کہ اب جی چاہتا ہے ہجرتوں کا یہ سفر تمام ہوجنم بھومی کے ایک قبرستان میں آسودہ خاک اپنی مادرِ گرامی کے قدموں میں خاک اوڑھ کر سو جاؤں۔ زندگی کے کتنے سانس اوپر والے نے دان کئے کاش یہ جان پاتے۔ عمر کی نقدی کب ختم ہو گی اللہ جانتا ہے۔البتہ سانسوں کے ادھار کی حاجت ہرگز نہیں۔ بہت سفر کر لیا۔ لمبی جدائیاں دیکھ لیں شہرِ مادرِ مہربان سے۔ پر اس کا کیا کریں کہ تمامی کی دعا مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مالک کیا کہے گا۔ کیسا بے قدرا ہے دی ہوئی زندگی جینے سے گھبراتا ہے۔ فرار کا خواہشمند ہے۔ فقیر راحموں کے بقول "جو زندگی سے نہ بھاگ سے وہ تمامی سے کیسے بھاگیں گے”۔ فقیر بادشاہ آدمی ہے دنیا اور رشتوں سے بے نیاز۔ یہاں جنم شہر سے واپسی ہمیشہ ہجرت سے کم نہیں لگتی۔ اب کی بار تو کچھ زیادہ ٹوٹ پھوٹ ہوئی کرچیاں دور اندر تک بکھر گئیں۔ زندگی بند مٹھی سے ریت کی طرح پھسلتی جارہی ہو تو جنم بھونی سے بچھڑنے (دور بسنے) کا احساس شدید تر ہو جاتا ہے ۔ ان سموں یہی کیفیت ہے۔
مادرِ گرامی کی تربت پر حاضر ہوا تو سارا حالِ دل اور ڈھیر ساری شکایات کر ڈالیں۔ دوسرے لوگوں کی طرح میرا بھی یقین ہے کہ ماں چاہے مٹی کی چادر اوڑھ کر سورہی ہو اولاد کی سنتی ہے۔ کم از کم میں تو اس پر یقین کامل رکھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے جب بھی حاضری کا موقع ملتا ہے ان کی زندگی کے دنوں کی طرح لفظ لفظ ساری کہانی اور ٹوٹے الم بیان کر دیتا ہوں۔ اس بار بھی یہی ہوا۔ مادرِ گرامی کی تربت پر حالِ دل بیان کر چکا تو کانوں میں ان کی آوازپڑی۔ اماں کہہ رہی تھیں "میرے بچے میرے لعل ماں حیاتِ ابدی کے سفر پر رخصت ہو لے تو اولاد کے لئے ہر شہر مدینہ ہی بن جاتا ہے ” تاریخ کا اپنا نوحہ ہے اور اولاد کا اپنا۔ قبرستان کی طرف گامزن تھے تو مجھے فقیر راحموں نے بہت سمجھایا۔ کہہ رہا تھا شاہ زندگی کے اولڑے قصے اورستم سنانے کی ضرورت نہیں۔ "پھر کس سے کہوں”؟ سوال کیا۔ خاموشی سے سر جھکا لیا۔ وہ بھی جانتا ہے ماں ہی سنتی ہے اور اولاد اسی سے کہتی ہے۔ اس بار حاضری میں وقفہ کچھ زیادہ ہوا۔ شرمساری بھی تھی لیکن یہ حوصلہ بھی کہ اماں جانتی ہیں سفرکے آڑے آئے کیا معاملات تھے۔ کبھی کبھی جی چاہتا ہے ساری دنیا چھوڑ کر تربتِ مادر کے پائنتی کی طرف ڈیرے ڈال لوں مگر سانسوں کی کمی بیشی کا اختیار بندے کے بس میں نہیں ہے۔ میرے جنم شہرمیں ہمیشہ دو آغوشیں سکون بخش رہیں۔ اماں جان کی آغوش اور حضرت شاہ شمس ؒ کی خانقاہ۔ جی بھر کے باتیں کرتے ہوئے وقت کی پابندی نہیں ہوتی دونوں مقامات پر۔ اماں حضور کی تربت پر حاضری سے پچھلی شب شاہ شمسؒ کی خانقاہ پر حاضر ہوا تو ایسا لگا شاہ کہہ رہےہوں آؤ میرے شاہ زادے۔ اتنے دن کہاں تھے۔ عرض کیا حضور سب جانتے ہیں۔ تلاشِ رزق میں مسافر ہوئے کی داستان۔ ہم تو عالی مقام کے دوارے حاضری کے لئے سامانِ سفر باندھتے کھولتے رہے۔ غمِ دوراں نے تاخیر کروائی۔ شاہ بولے ” زمانے کے غم انہیں ڈھیر کرتے ہیں جو زمانے کے تعاقت میں دوڑے چلے جائیں”۔ عرض کیا حضور غم ہمارے تعاقب میں رہتے ہیں یوں کہ مکاں پسند ہو جیسے۔ جواب ملا "انؐ کو یاد کرو جن کے لئے کائنات خلق ہوئی”۔ شاہ کی خانقاہ سے رخصت ہونے لگا تو فرمانے لگے قضا کا بھروسہ نہیں جمع اور طمع کے شوق پالنے سے گریز کرنا”۔ عرض کیا "حضور! اب کیا طمع کے گھاٹ پراتریں گے لمبا سفر تمامی کے قریب ہے”۔ آواز آئی "آرزوئیں شکار کرتی ہیں ان بندوں کو جو آرزوؤں کو رزقِ زندگی سمجھ لیتے ہیں”۔ نم آنکھوں سے ایک بوسہ پیش کرتے ہوئے عرض گزار ہوا "حضور پھر حاضری کا شرف عطا ہوگا”؟ جواب ملا "اپنی مادرِ گرامی کی تربت پر اس سوال کا جواب پا لو گے”۔ جب بھی شاہ کی خانقاہ میں حاضری کا شرف پاتا ہوں ایسا لگتا ہے زمانہ خانقاہ سے باہر رہ گیا ہے۔
مادرِ گرامی کی تربت پر بھی ہمیشہ یہی لگتا ہے۔ وقت قبرستان کے باہر کہیں رک جاتا ہے۔ ماں سے بیٹے کی ملاقات اور باتوں کا حساب وہ رکھنا نہیں چاہتا یا پھر ماں سے محروم وقت کے اپنے دکھ ہوں گے۔ زمانہ کس کو راحت دیتا ہے۔ آدمی کو خود ہی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اایک سال ابھی کم ہے ہجرتوں سے عبارت نصف صدی پوری ہونے میں ۔ کبھی کبھی اس نصف صدی کا قصہ لکھنے کو جی کرتا ہے۔ ہجرتیں، مسائل، جدوجہد، رنج، آسودگی سب کچھ ہے۔ شبِ ہجراں بھی اور ملاقاتِ یار بھی۔ زنداں کے ماہ و سال اور لاہور کے شاہی قلعہ میں ٹوٹے عذاب۔ کچھ بھی بھلائے نہیں بھولتا۔ زخم بھرنے کو ہی نہیں آتے۔ ایسے میں جب مہربان و خلیق اور مربی دوست یاد آتے ہیں جنہوں نے زندگی کے امتحانوں سے نبردآزما ہونے میں مدد کی تو بے اختیار ہاتھ دعا کے لئے بلند ہوجاتے ہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ دوست ہمیشہ بہت اچھے ملے اور ہیں۔ کبھی جب زندگی اور زمانے کی سختیوں سے جی گھبرانے لگتا ہے تو آقائے سید ابوالحسن امام علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام کے اس ارشاد سے سرشاری پاتا ہوں "غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں”۔ مشکلات و مسائل سے لڑتے بھڑتے جو یہاں تک پہنچے ہیں اس میں اماں حضور کی دعاؤں کے ساتھ ثابت قدمی سے حوصلہ بڑھاتے رہنے والے دوستوں کا بہت کردار ہے۔ سامی (سندھی زبان کے عظیم شاعر) نے سچ ہی کہا تھا ” دوست سندھوں ندی کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی طرح ہوتے ہیں”۔ مادرِ گرامی کی تربت پر آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے غیر حاضری کے پچھلے مہینوں کی داستان عرضی کی تو اماں بولیں "میرے بچے ملال چہرے سے عیاں نہیں ہونا چاہیے۔ ضبط کرنا سیکھو اور شکر بجا لایا کرو۔ ناشکری انکار کے زمرے میں آتی ہے۔ نعمتوں کا شکر کرنے سے نعمتیں بڑھتی ہیں”۔ جی اماں! میں نے کہا۔
اماں کی زندگی میں ان کے قدموں میں بیٹھ کر سکون ملتا تھا اب ان کی تربت کی پائنتی کی سمت بیٹھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے دستِ شفقت سر پر پھیرتے دورد شریف کی تلاوت کرتی اور پاک بتول ؑ کے بلند مرتبہ بابا جان سے بیٹے کے لئے عنایات کی طلبگار ہیں۔ عنایات ہی عنایات ہیں سرکارِ دو عالم ؐ کی۔ نہ ہوتیں تو قدم قدم پر ملنے والے درندے پھاڑ کھاتے۔ اس بار جو شکایات کا دفتر کھوال تو اماں نے جواب دیا "میرے لعل امتحان فضیلتوں کے حساب سے ہوتے ہیں۔عادلین کا عادل رب ِمحمدِﷺ اپنے بندوں پر ان کی برداشت اور ظرف سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ نسب کا حق اور مٹی کا قرض چکاتے رہنا ہی حقِ تخلیق ہے۔ عرض کیا "اماں جانی! دعاؤں کا آسمان سر پر نہ رہے تو زندگی اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے”۔ جواب ملا "پگلےہو بالکل۔ ماں لحد میں بھی ہو تو اولاد سےغافل نہیں رہتی۔ ہر حال میں اولاد کی سلامتی کی طلبگار رہتی ہے”۔ جی چاہا کہ عرض کروں تھک گیا ہوں۔ پیشانی پر اماں کا بوسہ محسوس ہوتا اور سنائی دیا وہ کہہ رہی تھیں "میرے لعل! آخری سانس تک حقِ تربیت ادا کرتے رہو میں تمہارے لئے دعا گو ہوں”۔ قبر کو بوسہ دیا۔ اس حاضری کا سلام آخرِ پیش کرتے ہوئے دورد شریف کی تلاوت کی۔ اجازت چاہی تو اماں بولیں "پاک بتول سلام اللہ علیہا کے بلند مرتبہ بابا جان ؐ کی امان میں دیا اپنے لعل کو۔ اچھا سنو اگلی بار آنا تو میری پوتی کو ساتھ لانا”۔ "جی بہتر”۔ بوجھل قدموں سے تربت سے اٹھا اور قبرستان سے باہر کی زندگی میں شامل ہوگیا۔ سچ یہ ہے کہ ماں کی قبر اولاد کے سینے میں ہوتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
780
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تاریخ کی خالی جگہیں فکشن سے بھری جاتی ہیں
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: