دہشت گردی – سوال نہیں نوحہ خوانی اور باری کا انتظار کریں – حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

کیا نوحہء عصر فقط یہ ہے کہ 5 دنوں میں دہشت گردی کی 8 وارداتیں ہوئیں جن میں تین خودکش حملے تھے اور ان 8 وارداتوں میں 115 کے قریب انسان لقمہ اجل بنے اور 300 سے زائد زخمی ہوئے؟ کہانی صرف یہ ہے کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور تربیت گاہیں افغانستان میں ہیں اور سہولت کار پاکستان میں؟ ضمنی طور پر اس کہانی میں یہ شامل کر لیتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسلام دشمنوں کی سازشیں ہیں۔ کیا داستان لاہور میں مال روڈ پر ہوئے اس خودکش حملے سے شروع کی جائے جس کا ہدف ڈی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن (ر) سید احمد مبین زیدی تھے۔ یا اس بھجن پر سر دھنا جائے جو وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار اور پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثناء اللہ سنا رہے ہیں کہ دہشت گرد کا اصل ہدف وزیراعلیٰ پنجاب تھے؟ معاف کیجئے گا ساری داستانیں ادھوری، کہانیاں بے رنگ اور بھجن سُر سے محروم ہیں۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ "جو بویا تھا وہ کاٹ رہے ہیں”۔ بویا حکمران اشرافیہ نے تھا جس کی لگام کل بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں تھی اور آج بھی اقتدار کی اصل طاقت و مرکز وہی ہیں۔ جب یہ فصل بوئی جا رہی تھی تو بالی جرنیل تھے اور بیل مذہبی حلقے۔ مگر فصل کاٹنا عوام کو پڑ رہی ہے۔ ساعت بھر کے لئے رک کر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ ہم خود کہاں کھڑے ہیں؟ آدھا کیا چوتھائی سچ بولنے کا حوصلہ بھی نہیں ہے ہم میں۔ ایک طرح سے ہم سب انتہا پسند ہیں۔ کسی نہ کسی حوالے سے اس کا مظاہر ہ بھی کرتے ہیں۔ بات لمبی ہو جائے گی مگر سادہ سا سوال ہے۔ ہمارے وزیرِ داخلہ کل سے اگلے دن تک مصر تھے کہ داعش کا پاکستان میں وجود ہی نہیں۔ اس کے وجود بلکہ "ورود مسعود” بارے ہم ایسے طالب شواہد پیش کرتے تھے تو لشکروں کی غلامی کو حب الوطنی سمجھنے والی مخلوق چڑھ دوڑتی تھی۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں دو اہم ترین باتیں اس حوالے سے ہیں کے یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب کچھ دن قبل تحریکِ طالبان اور تحریکِ طالبان جماعت الاحرار نے بھی لشکرِ جھنگوی العالمی کی طرح داعش سے مل کر پاکستان میں کارروائیاں کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کی مجبوری یہ تھی کہ دونوں تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جو جنگجو میدانِ جہاد سے واپس لوٹے تھے انہوں نے قیادتوں پر واضح کر دیا تھا کہ داعش کے ساتھ مل کر کام نہ کیا تو راستے جدا۔

ہمیں کچھ پیچھے جانا پڑے گا۔ لگ بھگ اڑھائی تین برس کے عرصہ میں جب پہلی بار یہ بات سامنے آئی تھی کہ لشکرِ طیبہ سے نظریاتی اختلاف کے باعث الگ ہو کر القاعدہ میں شمولیت اختیار کرنے والے لوگوں میں سے ایک نسبتاََ چھوٹا گروپ داعش سے جا ملا ہے انہی دنوں تحریکِ طالبان اورکزئی ایجنسی کے امیر حافظ سعید اورکزئی چھ دوسرے کمانڈروں کے ہمراہ داعش میں شامل ہوگئے۔ دستیاب شواہد کے باوجود وزارتِ داخلہ حقیقت سے انکاری تھی۔ ایک دن لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ سے اچانک ایک شخص خفیہ اداروں کی نگاہ میں آیا۔ اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے اس شخص بارے اطلاعات تھیں کہ وہ لشکرِ طیبہ کے ان منحرفین میں شامل ہے جو القاعدہ میں شامل ہوئے ہیں۔ اس کے تعاقب سے رائے ونڈ روڈ پر جاتی امراء سے آگے کی ایک بستی تک جاپہنچے۔ تین چار دن کی بھرپور نگرانی کے بعد کارروائی کا فیصلہ ہوا۔ خفیہ اداروں نے پنجاب کے اس وقت کے وزیرِ داخلہ کرنل شجاع خانزادہ کو اعتماد میں لیا۔ پولیس کو صرف داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کا کہا گیا اور آپریشن حساس اداروں نے براہِ راست خود کیا۔ اس آپریشن سے ملنے والی معلومات کے نتیجہ میں اوکاڑہ، پاکپتن، لاہور اور ضلع شیخوپورہ کے علاقے مرید کے میں مزید کارروائیاں ہوئیں۔ مجموعی طور پر 27 کے قریب افراد گرفتار ہوئے جبکہ چند افراد فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ رائے ونڈ کے آپریشن کی محنت پر پنجاب حکومت نے دکانداری چمکاتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا کہ آپریشن ان اطلاعات پر کیا گیا کہ کچھ شرپسند شریف خاندان کی جاتی امراء والی رہائش گاہ کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ اس کھوکھلے دعوے کا مقصد حساس اداروں کی کارروائی کے ثمرات پر دھول ڈالنا اور نمائش کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس پر پنجاب حکومت اور حساس اداروں کے درمیان اختلافات نے بھی جنم لیا۔ اس کے کچھ دن بعد شاہدرہ لاہور میں یوسف سلفی نامی ایک شخص گرفتار ہوا۔ یوسف سلفی نے گرفتاری کے بعد دو اہم انکشافات کیے۔ اولاََ یہ کہ وہ شام اور عراق میں جہاد کے لئے 500 ڈالر ماہوار پر جہادی بھرتی کرتا رہا ہے اور دو سو سے زیادہ افراد کو شام اور عراق بھجوا چکا ہے۔ ثانیاََ یہ کہ پاکستانی عسکری تنظیموں اور ان کے مذہبی و سیاسی معاونین سے بھی رابطہ کاری اسی کے ذمہ تھی۔ یہ وہ موڑ تھا جب حساس ادارے پنجاب میں فوجی آپریشن کرنا چاہتے تھے مگر پنجاب حکومت اور شریف خاندان کے وفاداروں نے پنجاب میں فوجی آپریشن کی ضرورت کو جمہوریت کے خلاف سازش کے طور پر پیش کرکے طوفان اٹھا دیا۔

آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کر دوں کہ ملک اسحٰق اور اس کے معاون غلام رسول شاہ کی پولیس مقابلہ میں ہلاکت سے قبل اس امر کے ٹھوس شواہد سامنے آچکے تھے کہ لشکرِ جھنگوی اور جنداللہ نامی عسکری گروپوں نے باضابطہ طور پر داعش سے اتحاد کر لیا ہے۔ سندھ میں جنداللہ کارروائیاں کرے گی جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی۔ دستیاب شواہد میں یہ بات عیاں تھی کہ سپاہ صحابہ بلوچستان کے سربراہ رمضان مینگل نے داعش اور لشکرِ جھنگوی و جنداللہ کے درمیان رابطے کاری کی ہے۔ ان اطلاعات کی بنیاد شام میں گرفتار ہونے والے لشکر جھنگوی کے نائب امیر امجد فاروق معاویہ کا اعترافی بیان تھا۔ امجد فاروق معاویہ جولائی 2013 میں ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل پر طالبان کے حملے کے نتیجے میں فرار ہوا تھا۔ بعد ازاں وہ شام چلا گیا جہاں 2015ء میں وہ گرفتار ہوا۔یوں اگر ہم بغور صورتحال کا جائزہ لیں تو صاف سیدھی بات سمجھ میں آتی ہے کہ داعش اور پاکستانی عسکری تنظیموں کے درمیان روابط 2013ء میں قائم ہوچکے تھے۔ لاہور میں گرفتار ہونے والے یوسف سلفی نے بھی اس کی تصدیق کی اور لشکرِ طیبہ کے منحرفین القاعدہ سے تعلق کی وجہ سے آپریشن کی زد میں آئے۔ ان کے بیانات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے منحرفین کا ایک گروپ حافظ سعید اورکزئی کے توسط سے داعش میں شامل ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں حکومتی ذمہ داران بالخصوص وزیرِ داخلہ یہ کہتے رہے کہ کسی تنظیم کے حق میں وال چاکنگ کا مطلب اس تنظیم کی موجودگی ہر گز نہیں۔ مگر جس اہم سوال کوبہت سارے تجزیہ نگار نظر انداز کرتے رہے وہ یہ ہے کہ اگر داعش کا وجود نہیں تھا تو پھر یوسف سلفی نے کن لوگوں کو بھرتی کر کے شام اور عراق بھیجا؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نےلاہور میں ایک خاص فہم کی دینی جماعت کے خواتین کے لئے قائم تربیتی مراکز کی بعض خواتین ذمہ داران سے رابطہ کیا اور ان کا داعش کے بڑوں سے رابطہ قائم کروایا جس کے بعد لاہور سے تین خواتین نکاح برائے جہاد کے لئے شام روانہ ہوئیں۔ ان خواتین میں ایک معروف ٹی وی اینکر کی بہن بھی شامل تھیں۔ کیا یہ شواہد نہیں تھے کہ جامعہ حفضہ اور مدرسہ بنوریہ کے کچھ اساتذہ نکاح برائے جہاد کی تبلیغ فرماتے رہے۔

تمہیدی سطور طویل ہوگئیں مگر اس پسِ منظر سے قارئین کو آگاہ کرنا ازبس ضروری تھا۔ اب آتے ہیں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی طرف۔ ابتدائی سطور میں عرج کرچکا کہ 5 دن میں دہشت گردی کی 8 وارداتیں ہوئیں اور ان میں 115 افراد لقمہء اجل بنے 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 8 میں سے دو وارداتیں انتہائی خوفناک ہیں۔ 13 فروری کی شام لاہور کے مال روڈ پر ہوئے خود کش حملے میں 15 افراد شہید ہوئے۔ شہداء میں 2 ڈی آئی جی پولیس بھی شامل ہیں۔ خود کش حملہ آور کا اصل ہدف لاہور کے ڈی آئی جی ٹریفک سید احمد مبین زیدی تھے۔ بلوچستان اور پنجاب میں سی ٹی ڈی میں جرات مندانہ کردار کی ادائیگی کی شہرت رکھنے والے یہ پولیس آفیسر کالعدم تنظیموں کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ دوسری واردات 16 فروری فروری کی شام سیہون شریف سندھ میں دربار حضرت سید عثمان مروندی المعروف شہباز قلندر ؒ کے مزار کے اندر ہوئی۔ اس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 88 افراد شہید ہوئے۔ شہدا میں 5 سے 11 سال کی عمر تک کے 20 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ خودکش حملہ اس وقت ہوا جب جمعرات کی شام درگاہ کے مرکزی احاطہ میں دھمال کے بعد سینکڑوں زائرین درگاہ کے اندرونی ہال میں داخل ہوئے جہاں وہ عقیدت کے اظہار میں مصروف تھے۔ اسی دوران خودکش بمبار نے لعل شہباز قلندرؒ کے قدموں کی سمت والے ہجوم کے درمیان خود کو اڑا لیا۔ لاہور کی واردات کا اعتراف تحریکِ طالبان جماعت الاحرار نے کیا۔ اس کے ترجمان احمد منصور نے اپنے فدائی کی تصاویر بھی جاری کیں۔ (ان سطور کے لکھے جانے تک اس خودکش بمبار کے ساتھی اور سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے) جبکہ سیہون شریف میں دربار شہباز قلندر پر خودکش حملہ کا اعتراف داعش نے کیا۔ اس فدائی کی تصاویر تحریک طالبان ملا فضل اللہ گروپ نے جاری کیں اور فدائی کا نام عثمان انصاری بتایا۔ داعش کے اعلان اور ٹی ٹی پی فضل اللہ کے بیان اور تصاویر جاری کرنے سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ اطلاعات درست تھیں کہ داعش پاکستان میں اپنی کارروائیاں لشکرِ جھنگوی العالمی، جنداللہ، تحریکِ طالبان جماعت الاحرار اور تحریک طالبان فضل اللہ گروپ سے مل کر کرے گی۔ پاکستان کی کالعدم عسکری تنظیموں کا افغان طالبان سے ناطہ توڑ کر داعش کا اتحادی بننا اصل میں امارات اسلامی افغانستان کی بجائےعالمی طور پر خلافت الہیہ کے قیام میں کردار ادا کرنے کی فکر کا نتیجہ ہے۔ ثانیاََ بھی کہ داعش کے پاس اب افغان طالبان سے کہیں زیادہ فنڈز ہیں اور اس کے عالمی روابط بھی زیادہ ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس خطرے کا جنہیں 2013 ءاور 2014ء میں سدِباب کرلینا چاہیے تھا وہ چند دن قبل تک اس خطرے سے انکاری تھے۔اب وزارتِ خارجہ بھی کہہ اٹھی کہ داعش پاکستان میں آسکتی ہے۔ عقل کو” چراغ "دکھانے والے ان بابوؤں کو کون سمجھائے کہ "حضور! آ نہیں سکتی آچکی ہے”۔ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اگر ریاست کے ذمہ داران اور خفیہ ادارے بروقت اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ مگر یہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کچھ مقاصد اگر حکمران مسلم لیگ ن کے ہیں تو کچھ ضرورتیں "اداروں” کی بھی ہیں۔ مقاصد اور ضرورتوں کی بلی عوام چڑھ رہے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے بعد قبائلی علاقوں سے مفرور ہونے والے جنگجوؤں کو پنجاب ، بلوچستان اور سندھ میں محفوظ پناہ گاہیں ملیں۔ وسطی پنجاب کے ساتھ سرائیکی وسیب اور پھر اندرون سندھ انجمن سپاہ صحابہ اور جے یو آئی س اور ف کے درجنوں ہم خیال مدارس نے ان مفرورں کو پناہ دی۔ سوال یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمٰن بلاوجہ نیشنل ایکشن پلان کی مخالفت کر رہے ہیں ؟ جی نہیں حضور! وہ ان عسکریت پسندوں کو اپنی نظریاتی اور روحانی طاقت سمجھتے ہیں۔ انجمن سپاہ صحابہ جو اب اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کر رہی ہے سرائیکی وسیب اور اندرون سندھ میں مؤثر پوزیشن رکھتی ہے۔ اور بلوچستان کی پشتون پٹی میں اس کی جڑیں گہری ہیں۔ کچھ بلوچ علاقوں میں سابق فرارری اب دو چہرے رکھتے ہیں۔ اولاََ امن لشکر اور ثانیاََ لشکر جھنگوی۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے مگر اقدامات نہ ہوئے ہیں نا ہوں گے۔ وجہ صاف ظاہر ہے پسندو ناپسند کا کھیل بالکل ایسے جیسے تحریک طالبان کے دونوں دھڑے ناقابلِ معافی ہیں مگر تحریکِ طالبان پنجابی گروپ کو محفوظ راستہ دیا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ عوام میں دہشت گردی کے خلاف یکسوئی تو ہے لیکن جرات مندانہ قیادت کا فقدان ہے۔ اس پر المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے دو بڑے متاثرین شیعہ اور صوفی سنیوں کے اندر سے مچونے بوٹ پالشی تخلیق کیے گئے جو بضد ہیں کہ جس کے سبب بیمار ہوئے اسی عطار کے لونڈے سے علاج کروانے میں بہتری ہے۔ حرفِ آخر یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پنجاب اور اندرون سندھ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا جائے۔ سندھ کے ان 90 مدارس اور پنجاب کے 72 مدارس کے خلاف تو بہرصورت جن کے بارے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ کالعدم تنظیموں کی مالی و عددی منڈیاں ہیں۔ افسوس کے ساتھ یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ کیونکہ پنجاب کے وزیرقانون کہہ چکے کہ آپریشن کی ضرورت ہے نہ رینجرز بلانے کی۔ صاف سیدھے لفظوں میں یہ کہ مرنے کے لئے قطار بنا لیجئے کیونکہ اہلِ اقتدار اور پالیسی سازں کو اور بھی غم ہیں عوام کے سوا۔

Views All Time
Views All Time
1606
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ماں کی محبت مثال عظیم

One thought on “دہشت گردی – سوال نہیں نوحہ خوانی اور باری کا انتظار کریں – حیدر جاوید سید

  • 18/02/2017 at 5:10 صبح
    Permalink

    بہترین تجزیہ۔ تمام مکاتب فکر کے علماء ان دہشت گردوں کے خلاف فتوے جاری کریں۔اور مدارس میں آپریشن کرنے میں فوج کا ساتھ دیں۔کیونکہ دہشت گردوں نے معاشرے کے عزت والے طبقوں میں شمولیت اختیار کرکے اپنی کاروائیاں تیز کی ہوئی ہیں۔
    2017 پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
    سی پیک کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کی سالمیت کو خطرہ۔چین اور روس کی سالمیت کو خطرہ سمجھا جائے گا۔ اور انڈیا ان سے کسی صورت بھی پنگا مول نہیں لےگا۔ ایران اور امریکہ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایران کا جھکاؤ روس چین اور پاکستان والے بلاک کی طرف ہو سکتا ہے اور اگر ایران چاہ بہار کو بھی سی پیک میں شامل کر لیتاے تو انڈیا isolate ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے انڈیا۔ٹی ٹی پی، بی ایل اے،اور افغانستان کا ستعمال کرے گا۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: