Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

عمران خان کی تحریکِ تلاشی کا انجام – حیدر جاوید سید

by نومبر 2, 2016 کالم
عمران خان کی تحریکِ تلاشی کا انجام – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

haiderعمران خان کی تحریکِ تلاشی جس انجام سے دوچار ہوئی اس پر صحافت و سیاست کے اس طالب علم کو ملال ہے نا حیرانی۔ البتہ تحریکِ انصاف کے وہ سادہ لو کارکن جو پانچ دن تک پنجاب پولیس کا جبروستم سہتے رہے ان سے دلی ہمدردی ہے۔ سوموار کی سپہر عمران خان کو مستقبل کے انتظام سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔ پیغام لانے والے ان کے رفیقِ خاص اسد عمر تھے۔ یوں منگل کو سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت کے پہلے مرحلے پر ایسا سماں باندھ دیا گیا جس سے حکومت اور تحریکِ انصاف اپنےمطلب کے معنی نکال کر بغلیں بجا رہے ہیں۔ یوں 700 کارکنوں کی گرفتاری، دو پشتون کارکنوں کی قربانی کا حساب بدھ 2 نومبر کے لاک ڈاؤن کی بجائے یومِ تشکر کی صورت میں طے ہوا۔ ہمیں آگے بڑھنے سے قبل کچھ پیچھے پلٹنا ہو گا۔ ملک میں موجود دو بڑی جماعتوں سے گاہے گاہے معاملات طے کرنے کے باوجود فوجی اشرافیہ کو اپنی خالص جماعت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وکلاء تحریک کے دنوں سے احتساب کا نعرہ قیمت فروخت میں بہترین آئٹم تھا۔ سو اکتوبر 2011 میں عمران خان اور ان کی تحریکِ انصاف کو میدان میں اتارا گیا۔ 2013ء کے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل تک تحریکِ انصاف بظاہر جیتنے والی جماعت دیکھائی دیتی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ عمران خان نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیئے گئے انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا "میں وزیرِ اعظم ہوں گا تو ائیر چیف کو حکم دوں گا امریکی ڈرون گرا لیا جائے”۔ کرن تھاپر نے حیرانی سے پوچھا "آپ کیسے یہ حکم دیں گے”؟ عمران خان نے رسان سے جواب دیا "جیسے ایک بااختیار وزیراعظم دیتا ہے۔یہی وہ وقت تھا جب فیصلہ ہوا کہ نواز شریف سے معاملات طے کر لینے میں زیادہ بہتری ہے۔ یوں عمران خان کی جگہ نواز شریف کا راستہ ہموار کیا گیا۔ 2013 کے انتخابات میں نون لیگ کو وفاق اور پنجاب سونپ دیا گیا۔ تحریکِ انصاف کو خیبر پختونخواہ اور پی پی پی کو سندھ ملا جب کہ بلوچستان کا بکھرا ہوا مینڈیٹ فوجی اشرافیہ کی خواہشات کے عین مطابق تھا۔ نواز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی اپنے مزاج اور ماضی کے عین مطابق پر پرزے نکالے۔ فوجی اشرافیہ سے طے معاہدے کو پشِ پشت ڈالا تو انتخابی دھاندلی کے نام پر عمران خان کو میدان میں اتارا گیا۔ اسی دوران آپریشن ضرب ِ عضب شروع ہوا۔ شریف حکومت ششدر رہ گئی کہ جی ایچ کیو نے بالا بالا فیصلہ کر لیا۔ جواب ماڈل ٹاؤن لاہور میں دیا گیا اور کھیل شروع ہو گیا۔ 126 دن کا دھرنا جب لولے لنگڑے معاہدے پر اختتام پذیر ہوا تو اس کے ماتم کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں تھا۔ کیونکہ ساری قوم کو سانحہ آرمی پبلک سکول کے سوگ پر لگایا جا چکا تھا۔
نواز شریف سے تین غلطیاں (فوجی اشرافیہ کے نزدیک) ہوئیں۔اولاََ جنرل مشرف پر مقدمات کا قیام، ثانیاََ پاک بھارت تعلقات کے ضمن میں جی ایچ کیو کی منشا سے جدا راستہ اختیار کرنا، ثالثاََ 14 برسوں کا نقصان (مالی نقصان) چند برسوں میں پورا کرنے کا جنون۔ مالیاتی فیض میں ہمیشہ سے 40 فیصد کے مقابلے میں 60 فیصد حصہ رکھنے والی ملٹری اشرافیہ کو بھلا کیسے گوارہ ہوتا سو نئی بساط بچھانے کا موقع پانامہ لیکس نے دے دیا۔ احتساب کے لئے جو متحدہ اپوزیشن وجود میں آئی اس کے چند سرکردہ رہنماؤں کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ احتساب کے نام پر کوئی طاقت اپوزیشن کو استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اسی دوران دو باتیں سامنے آئیں۔ اولاََ سی پیک کے حوالے سے فوجی اشرافیہ کی یہ خواہش کہ اسے کاملاََ ایک الگ اتھارٹی بنا کر ذمہ داری فوج کو سونپ دی جائے۔ لیگی حکومت صرف اس پر تیار ہوئی کہ سی پیک روٹ کے تحفظ کے نام پر سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی ادائیگی فوج کو ہو۔ جرنیل دیکھ رہے تھے کہ ابتدا میں سات ارب ڈالر کا کمیشن بٹور لینے والے انہیں ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ پر ٹرخا رہے ہیں۔ یوں تحریکِ احتساب عرف تحریکِ تلاشی کا ڈول ڈلوانے کا فیصلہ ہوا۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں فرشتوں سے ڈسی پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ اور فوجی اشرافیہ کے درمیان معاملات کا راستہ ہموار کرنے کی تحریک کو ایندھن فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے راستہ الگ کر لیا۔ متحدہ اپوزیشن کے شاہ صاحب (خورشید شاہ) ڈبل شاہ قرار پائے۔ تحریکِ انصاف، تحریکِ تلاشی کے لئے تنہا میدان میں اتری، ق لیگ کو منایا گیا۔ جناب قادری کی دلجوئی ہوئی۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو دو نومبر کے احتجاج میں شریک ہونے کو کہا لیکن ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی تھی کہ ہاتھ پاؤں بچا کر رکھیں۔ تحریک کے عروج پر ایک اجلاس کی کہانی کو بہ کو کا موجب بننے والی خبر کو ملک اور عسکری مفادات پر ضربِ کاری قرار دیتے ہوئے نیا سماں باندھا گیا۔ حب الوطنی کے فوجی معیار پر ایمان لائی مخلوق نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ پسپائی اختیار کرتی نواز لیگ کے پاس 30 اکتوبر کی شام تک اس کے باوجود کوئی راستہ نہ بچا کہ وہ اپنے وزیرِ اطلاعات کی بلی چڑھا چکی تھی۔ 30 اکتوبر کی شام مسلم لیگ نے بالادست اشرافیہ کی وہ ساری شرائط ماننے پر آمادگی ظاہر کر دی جن سے چند روز قبل اسے اس وقت آگاہ کیا گیا تھا جب وزیرِ داخلہ، وزیرِ خزانہ اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ پر مشتمل تین رکنی حکومتی وفد آرمی چیف کے گھریلو ڈرائنگ روم میں حاضر ہوا تھا۔ اسی ملاقات میں انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ تحریکِ تلاشی کے علمبرداروں کو محفوظ راستے سے واپس بھجوا دیا جائے گا۔ سو خواتین و حضرات وہی ہوا جو اصل مالکان چاہتے تھے۔ خارجہ امور کے معاملات حسبِ سابق رہیں گے۔ سی پیک منصوبے کو مکمل اتھارٹی بنا کر جی ایچ کیو کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اگلا آرمی چیف وزیرِ اعظم کی نہیں جی ایچ کیو کی صوابدید پر ہو گا۔ گارنٹر وہی ہیں جو آرمی ہاؤس میں ملاقات کرنے گئے تھے۔ 30 اکتوبر کو کچھ رابطے ہوئے اور 31 اکتوبر کی سہ پہر بنی گالا پر پیغام رساں اسد عمر یہ پیغام لے کر پہنچے۔ معاملات طے پا گئے ہیں زورِ خطابت اور تحریک کا شعلہ کچھ مزید بھڑکایا جائے۔ کل تک واپسی کا انتظام ہو جائے گا۔ 31 اکتوبر کی صبح عمران خان کا پرویز خٹک کو برہان انٹرچینج سے صوابی کی طرف واپسی کا پیغام اسی لئے تھا کہ کچھ دیر بعد جب حکومت اور تحریکِ انصاف کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوں تو باعزت واپسی کا سماں باندھا جا سکے۔ سماں بن گیا۔ تحریکِ تلاشی جشن تشکر میں تبدیل ہو گئی۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کیسا تشکر؟ کوئی پوچھے بھی کیوں ؟ تحریکِ انصاف نے اپنے مڈل کلاس کارکنوں کے ارمانوں کا ایک بار پھر خون کر دیا۔ ایک نئی سیاسی جماعت بنتے بنتے رہ گئی۔ صاحب نے کھایا پیا کچھ بھی نہیں اور گلاس توڑا۔ سبق یہ ہے کہ پاکستان سیکیورٹی اسٹیٹ ہے۔ جو بھی سیکیورٹی اسٹیٹ کو جمہوریت کی طرف لے جانے کی شعوری کوشش کرے گا وہ پھانسی چڑھے گا یا سڑک پر مار دیا جائے گا۔ اس لئے اچھے بچوں کی طرح کاروبار کر و مگر برابر سے 10 فیصد زیادہ حصہ ایمانداری سے دیتے رہو۔ خیر اب تو کاروبار بھی جرنیل شاہی کرے گی۔ سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں بہت ہیں۔ پیپلز پارٹی معاملات طے کروانے کی جنگ میں ایندھن نہیں بنی شائد اس کا کچھ خمیازہ اسے اگلے مہینوں میں ادا کرنا پڑے۔ البتہ حسرت ہے ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے۔ تحریکِ تلاشی کے اس انجام پر سورۃ فاتحہ کی تلاوت غیر ضروری ہو گی۔

Views All Time
Views All Time
3545
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دو اہم مسائل - خورشید ندیم
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: