Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جمہوری سیاست کے علمبر داروں کے لئے لمحہ فکر یہ ! – حیدر جاوید سید

جمہوری سیاست کے علمبر داروں کے لئے لمحہ فکر یہ ! – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں چار با ر مارشل لاء لگا ۔ جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نجات دہندہ بن کر اقتدار پر قابض ہوئے ۔ کس کے لئے نجات دہندہ ثابت ہوئے یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔ بہت ساری بشری کمزوریوں کے باوجود جنرل یحییٰ خان پر مالی بے ضابطگیوںاور اقربا پروری کے ویسے الزامات نہیں جیسے باقی تین فوجی آمروں پر ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کے دورمیں چونکہ پاکستان دو لخت ہوا تھا اور پھر جذباتی قوم نے سقوط مشرقی پاکستان کی بنیادی وجہ جانے بنالٹھ بازی شروع کردی اس لئے تاریخ لٹھ باز یوں سے اڑی دھول میں چھپ گئی ۔ امریکی سی آئی اے کا ریکارڈ کہتا ہے کہ جناب ایوب خان کو سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ بنانے کا سالانہ حق خدمت دیا جاتا تھا ۔ جنرل ضیاء الحق اردن میں ملٹری اتاشی تھے فلسطینیوںکے خلاف ”بلیک ستمبر ” میں شاندار خدمات سرانجام دیں اسی وجہ سے اردن کے مرحوم شاہ حسین نے ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے لئے سفارش کی اور ان کی اردن والی خدمات کا تذکرہ کیاان کا اقتدار پر قبضہ کرنا امریکی سازش کا حصہ تھا اس حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ، جو بات عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ریگن جب امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو حلف اٹھانے کے 24گھنٹے بعد ان کے پہلے غیر ملکی سربراہ کے طور پر مہمان جنرل ضیاء الحق تھے۔ صدر ریگن نے پاکستان کے لئے 4ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا تھا وہ چار ارب ڈالر کہا ں گئے ان کے پور ے عہد اقتدار میں کوئی نہ جان سکا ، اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکی امداد کا معاملہ ہے ۔کہاں گئی وہ امداد کون جانتا ہے سوائے پرویز مشرف کے ، مارشل لائوں کے ان ادوار میں جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنے والوں پر سرکاری مہمان خانوں جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں کیا بیتی اس پر بہت کم لکھا گیا ۔ایک طویل فہرست ہے ان فر زانوں کی جنہوں نے جان جوکھم میں ڈالی ہر عہداطوار میں محض اسی لئے کہ اس ملک میں جمہوریت ہو ، انصاف بلا امتیازملے ، طبقاتی استحصال کے خلاف قانون حرکت میں آئے مگر وائے قسمتا کہ سب ویسے نہیں ہوا ، کیوں نہیں ہوا اس کی بہت ساری وجوہات ہیں ان میں سے ایک وجہ 1905کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا بھی تھا ۔ اس وقت ایم آرڈی نامی اپوزیشن کا سیاسی اتحاد ہوا کرتا تھا۔ اس کا فیصلہ تھا کہ غیر جماعتی انتخابا ت کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ بائیکاٹ ہوا کچھ جماعتوں نے ان میں جماعت اسلامی شامل تھی جماعتی انتخابات میں حصہ لیا مگر اصل مسئلہ یہ ہو ا کہ ایم آرڈی نے میدان کھلا چھوڑ دیا نتیجتاًکاروباری ذہنیت رکھنے والے گامے ساجے مودے سیاستدان بن گئے مارشل لاء کی نرسری میں اُگنے والے ان نو آموز سیاستدانوں نے سیاسی ورکر کا کلچر ختم کرکے ان کی جگہ ملازمین کے کلچر کو رواج دیا ۔ گو بہت بعد میں مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان شہید ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ، سردارشیر بازمزاری ، مرحوم خان عبدالولی خان اور حضرت علامہ شاہ احمد نورانی مرحوم نے اعتراف کیا کہ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابا ت کا بائیکاٹ تاریخی غلطی تھی لیکن دیر ہو چکی تھی ۔ اعتراف کافی نہیں تھا کہ مداوے کی صورت بنتی ۔ بالا دست اشرافیہ ایک منصوبے کے ساتھ نظام ہائے حکومت اور سیاست کو کرپٹ کر چکی تھی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔1988ء سے 2013ء کے درمیان ہونے والے سات انتخابات کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے سیاسی نظریات اور پارٹی پروگرام پر دو لت مندی حاوی ہوئی ۔ سیاسی جماعتیں نظریات اور جدوجہد پر بھروسہ کرنے کی بجائے ”الیکٹیبل” کی تلاش میںسرگرم ہوئیں ۔ اس سے سیاسی نظریات اور سیاسی ورکر کے کلچر کو مزید نقصان پہنچا ۔آج صورت یہ ہے کہ سیاست ، جمہوریت اور نظر یات کو گالی بنا دیا گیا ہے ۔ نوجوان نسل تو یکسر نابلد ہے تاریک ادوار کے لئے ہوئی پر عزم جدوجہد اور دی گئی قربانیوں سے ۔ بد قسمتی یہ ہے صحافت کے شعبہ میں تشریف لائے چھاتہ برداروں نے بھی جمہوریت کو گالی بنا کر پیش کرنے میں خاطر خواہ حصہ ڈالا۔ رہی سہی جنرل ضیاء الحق کے نظام میں جنم لینے والی اس ہمہ قسم کی قیادت نے پوری کر دی ۔ یوں آج یہ صورت ہے کہ ملک میں معروف معنوں میں دائیں اور بائیں باز و کے نظریات کی حامل سیاسی جماعتیں ناپید ہیں ۔ یہ وہ حالات ہیں جو سیاست و صحافت اور تاریخ کے ہم ایسے طالب علموں کو پریشان کرتے ہیں کہ اگر سیاسی کلچر اور سیاسی ورکر کے کلچر کا احیا نہ ہوا تو مستقبل کیا ہوگا ۔ اس پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دستیاب مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ہمدر دگان اپنے لیڈروں کو آسمانی مخلوق سمجھتے ہیں۔ ہر شخص کا خیال ہے کہ اس کاا میرچیئر مین اور صدر نجات دہندہ ہے ۔ سادہ لفظوں میں یہ کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ از سر نو سیاسی کلچر اور خصوصاًسیاسی کارکنوں کے کلچر کے احیا کے لئے سنجید گی کے ساتھ توجہ دی جائے پیپلز پارٹی اے این پی ، عوامی ورکرپارٹی وغیرہ یہ کام کر سکتی ہیں بھر پور سیاسی پس منظر اورشاندار قربانیوں کی تاریخ رکھتی ہیں یہ جماعتیں ۔ تحریک انصاف کے ہجوم کو سیاسی جماعت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کرے گا کون ؟ ۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ۔مجھے یہ عرض کرنے کوئی امر مانع نہیں کہ اگر شعوری سیاست کا احیا نہ ہو ا تو سیاست کے میدان پر قابضین سرعام یہ داروں اوردولتوں سے جان نہیں چھوٹنے والی اس لئے جمہوریت کے علمبرداروں کو ان چیلنجو ں پر بھی غور کرنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
268
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   ڈریں اس وقت سے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: