Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر اور چند سوالات

Print Friendly, PDF & Email

ماسکومیں منعقدہ افغان امن کانفرنس کے بعد افغانستان میں پچھلے چند روز کے دوران پرتشدد واقعات میں 200سے زیادہ شہری اور 60سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں صدارتی محل کے باہر طالبان مخالف ریلی میں شریک10افراد بھی شامل ہیں۔
ریلی پر خود کش حملہ کی وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کے شرکاء پر خودکش حملہ کرنیوالے کا پولیس نے سراغ لگا لیا تھا مگر سیکورٹی اہلکاروں کی گرفت میں آنے سے قبل اُس نے خود کو اُڑالیا۔ صدارتی محل کے باہر ریلی پر خودکش حملے کی داعش نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ماسکو کانفرنس کے دوران روسی وزیر خارجہ سمیت متعدد رہنمائوں نے افغانستان میں داعش کو منظم کرنیوالے بیرونی سرپرستوں کے کردار پر کڑی تنقید کی تھی۔ حالیہ پرتشدد واقعات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کوئی طاقت ماسکو کانفرنس میں قیام امن کیلئے مؤثر اقدامات اور شرکا کی طرف سے اپنا اپناکردار ادا کرنے کی یقین دہانیوں سے خوش نہیں۔

پچھلے تین چار دنوں میں جو پرتشدد واقعات ہوئے ان میں سے 5کی ذمہ داری داعش اور3کی طالبان نے قبول کی جبکہ5سے زیادہ کارروائیوں کے حوالے سے افغان و اتحادی سیکورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ وہ انہوں نے مختلف الخیال عسکری گروپوں کیخلاف کی تھیں،
غزنی کے مقامی باشندے صوبہ میں تشدد کی حالیہ لہر کا ذمہ دارداعش کے جنگجوئوں کو ٹھہرا رہے ہیں۔اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ تشدد کے جن حالیہ واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے افغان وزارت داخلہ کے ذمہ داران ان کارروائیوں کو بھی طالبان سے جوڑ رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس سوال کی اہمیت کو دوچند کر دیتا ہے کہ کیا افغان حکومت داعش کے بیرونی سرپرستوں کیساتھ ایک پیج پر ہے یا پھر طالبان کی طرف سے افغان حکومت کی بجائے امریکہ سے براہ راست مذاکرات پر تواتر کیساتھ اصرار کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلہ کیاگیا کہ انسانیت کے ان مجرموں کی پردہ پوشی کی جائے جو حالیہ واقعات کی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں؟۔

افغان عوام کے حق حکمرانی اور دیرپا امن کے قیام کے بہی خواہوں کیلئے یہ امر باعث تشویش ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے جب بھی داخلی یا بیرونی سطح پر کوئی کوشش ہوتی ہے تو اس کے فوراً بعد افغانستان کے اندر پرتشدد واقعات کیلئے سلسلے کا آغاز ہو جاتا ہے۔
ماسکو امن کانفرنس کے بعد شروع ہونیوالے تشدد کے واقعات میں حکومتی و اطلاعاتی ذرائع 200سے زیادہ شہریوں اور60 سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کر رہے ہیں جبکہ شہری حلقوں اور عینی شاہدین کے مطابق جانی نقصان زیادہ ہے۔
حالیہ پرتشدد واقعات پر محض افسوس کافی نہیں۔ یہاں یہ امر بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ ماسکو امن کانفرنس کے حوالے سے امریکی حکام زیادہ سنجیدہ نہیں تھے۔ غالباً امریکی خطے کی سیاست میں سوویت یونین کے جانشین روس کی واپسی پر خوش نہیں۔ امریکہ نے اس کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی تھی۔
امر واقعہ یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے مختلف حلقوں کی جانب سے کی جانیوالی کوششوں کی کامیابی کیلئے تمام داخلی و بیرونی فریقوں کو نہ صرف حصہ ڈالنا چاہئے بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ افغان عوام کو ان پرتشدد واقعات اور ابتری سے نجات ملے جن سے افغانستان بُری طرح متاثرہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   مار نہیں پیار

افغان تنازعہ کے تمام فریقوں کو یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے بغیر خطے سے غیرریاستی عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں کیونکہ جنگ زدہ افغانستان خطے کے عکسری گروپوں کیلئے جنت کا درجہ رکھتا ہے۔
اسے افغان شہریوں کیلئے جنت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تعمیر وترقی کے نئے دروازے کھلیں اور عوام اپنی مرضی کے نظام حکومت کیساتھ آگے بڑھ پائیں۔
یہ امر بھی بجا طور پر قابل غور ہے کہ داعش کے افغانستان میں منظم کارروائیوں کے آغاز سے اب تک مختلف نسلی طبقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف افغان طالبان کے پرانے اتحادی اور اسلامک مومنٹ آف ازبکستان کے جنگجوؤں کا داعش سے اتحاد بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ کوئی ایک یا متعدد طاقتیں افغانستان میں فرقہ وارانہ نسل کشی کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔ داعش کے ورود سے قبل بھی ازبکستانی جنگجو ہزارہ قبیلے اور دیگر آبادیوں کو ان کے مذہبی عقائد کی بنا پر کارروائیوں کا نشانہ بناتے رہے۔ دوسری طرف داعش اور طالبان کے درمیان بھی مختلف علاقوں پر کنٹرول کیلئے طاقت آزمائی کے درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔

اندریں حالات پر عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ افغان تنازعہ کے تمام فریقوں پر لازم ہے کہ وہ افغان عوام کے مفادات، قیام امن اور تعمیر وترقی کے آغاز کے اس عمل کو ترجیح دیں جن سے اعتماد سازی کو فروغ ملے تاکہ بیرون ملک مقیم لاکھوں افغان باشندے اپنے وطن واپس جاسکیں۔
بظاہر یہ باتیں فی الوقت خواب ہی ہیں مگر ان کی تعبیر کے حصول کیلئے عملی اقدامات بہرطور آج نہیں تو کل کرنا ہی ہوں گے۔
افغانستان سے اپنے صدیوں کے باہمی تعلقات تہذیبی وثقافتی اور دینی رشتوں کی بدولت پاکستانی شہریوں کا افغان عوام کے مصائب پر دکھی ہونا فطری عمل ہے۔ پاکستان میں ہر ذی شعور شہری اس امر سے آگاہ ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام سے پورے خطے میں امن واستحکام اور تعمیر وترقی کے نئے دور کا آغازہوگا۔
اس طور یہ امر بھی اہم ہے کہ حالیہ پرتشدد واقعات کی بعض عسکری گروپوں کی جانب سے ذمہ داریاں قبول کئے جانے کے باوجود افغان وزارت داخلہ کے بعض ذمہ داران کسی ثبوت کے بغیر روایتی الزام تراشی میں مصروف ہیں یہ منفی رویہ بھی قابل مذمت ہے۔ سوال یہ ہے کہ افغان حکومت اپنے امریکی سرپرستوں سے یہ دریافت کیوں نہیں کرتی کہ داعش کو شام اور عراق سے افغانستان کون کن مقاصد کیلئے لایا؟۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا داعشی خلافت دفن ہوگئی ہے یا زندگی کی رمق باقی ہے؟ | حیدر جاوید سید

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
128
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: