فقیر راحموں کے خلاف امریکی سازش – حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

فقیر راحموں نے ابھی پاسپورٹ بنوانے کے بارے میں سوچا ہی تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران ، عراق ، شا م ، لیبیا ، سوڈان ،یمن اور صومالیہ کے شہر یوں پر امر یکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کر دی۔ سات مسلمان ممالک میں حالانکہ پاکستان کا نام شامل نہیں لیکن فقیر راحموں آسمان سر پر اُٹھا ئے ہوئے ہیں۔ تسلی و تشفی کی ہر کوشش اکارت جارہی ہے ۔ وہ فقط ایک ہی بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کے کہنے پر ان کے خلاف سازش کی ہے ۔ عرض کیا مگر آپ تو سرائیکی وسیب سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستان کے شہری ہیں ۔ پابندیاں تو ایران و شام وغیرہ کے خلاف لگی ہیں ۔ فلسطینی بھی آپ نہیں پھر امریکہ آ پ کے خلاف سازش کیوں کرے گا ؟ ۔ کہنے لگے شاہ جی آپ ان نیگوڑے ، امریکیوں کو نہیں جانتے جو نہی انہیں معلوم پڑا کہ میں پاسپورٹ بنوانے کے بارے میں سوچنے لگا ہوں انہوں نے اپنے صدر سے کہہ کر سات مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگوادی ۔ لیکن یہ آپ کے خلاف سازش کیونکر ہوگی ؟ سوال دوبارہ کیا تو وہ بولے ابھی ٹرمپ نے اُن سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگائی ہے جو براہ راست امریکی مداخلت سے اُجڑے دیاروں کا نقشہ پیش کر رہے ہیں ۔اگلے مرحلہ پر ٹرمپ ان مسلم ممالک کو بھی ہاتھ دکھا ئے گا جنہوں نے امریکہ کی دوستی میں اپنی خود مختاری کو روند تے ہوئے ایسی پالیسیاں بنائیں جو خود ان کے گلے پڑ گئیں ۔ دیکھ لینا شاہ جی ! ٹرمپ پاکستان کے درپے بھی ہوگا ۔ ایسا کرو کہ تم ایک کالم لکھو جس میں امریکہ اور مغرب کی اسلام دشمنی کو کھول کر بے نقاب کرو ۔ عرض کیا ویسے ایک کالم مسلمانوں کی اسلام دشمنی اور برادر کُشی کی تاریخ پر نہ لکھ دوں ؟۔ وہ بولے یار یہاں امریکی سامراج مسلم اُمہ کے درپے ہوگیاہے اور تمہیں مذاق کی سوجی ہے ۔ یہ مذاق کا وقت نہیں بلکہ مسلمانوں کے اتحاد کا وقت ہے ۔ جی چا ہا کہ اس پر زور زور سے قہقہے لگاؤں ۔ اس فقیر آدمی کو کون سمجھائے مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت نہیں اور اتحاد کو مسلمانوں کی دونوں اپنے اپنے حال میں مست ہیں ۔ مگر قہقہہ لگانے کی بجائے میں نے عرض کیا ۔ فقیر جی ! کیوں نہ ہم امریکہ اور صدر ٹرمپ کو یہ مشورہ دیں کہ وہ امریکہ میں آباد مسلما نوں کے لئے مسلم شریعہ لاء کے نفاذ کا اعلان کردے ۔ یقین کرو ہفتہ بھر میں سارے مسلمان امریکہ سے بھاگ نکلیں گے ؟۔ انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور بولے ۔ کہنا کیا چاہتے ہو؟۔ عرض کیا ایک اچھا مسلما ن شعورکی منزل پر پہنچ کر فوری طور پر مسلم ممالک سے نکل کر امریکہ یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ میں آباد ہونا چاہتا ہے ۔ تا کہ مسلم ممالک کے گھٹن زدہ ماحول سے اس کے بچے متاثر نہ ہوں ۔ وہ ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں ۔کیا مطلب میں سمجھا نہیں ۔ جواب دیا فقیر جی آپ آج پاکستان میں نفاذ شریعت کیلئے ریفرنڈم کروالیں95فیصد مسلمانوں سے 90فیصد نفاذ شریعت کے حق میں ایمانی جذبہ سے ووٹ دیں گے ۔ جو نہی شریعت نافذ ہوئی یہ 90فیصد ہر جائز ناجائز طریقہ آزماتے ہوئے پاکستان سے نکل بھا گیں گے ۔ مذاق نہ کرو میر ی مانو ایک کالم امریکہ اور مغرب کی اسلام دشمن کے خلاف لکھ ڈالو ۔ کالم تو خیر لکھنا مشکل ہے کیونکہ پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کو اندر سے خطرہ زیادہ ہے یا باہر سے البتہ صدر ٹرمپ کو خط لکھتے ہیں کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر امریکی مسلمانوں کے لئے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کر دے ۔ یوں اس کے مقاصد بھی پورے ہو جائیں گے اور مسلم دشمنی کا لیبل بھی نہیں لگے گا۔ مگر فقیر راحموں بضد ہیں کہ اگر وہ پاسپورٹ بنوانے کے بارے میں سوچتے نہ تو صدر ٹرمپ مسلم دشمن کارروائیوں کا آغاز نہ کرتے ۔ میں ان کی اس منطق پر حیران ہوں ۔ ٹرمپ اور فقیر دشمنی کی کوئی خاندانی وجہ بھی نہیں دونوں کبھی ایک دوسرے سے ملے بھی نہیں اور ٹرمپ کیا جانے 1958ء میں ملتان میں پیدا ہونے والے فقیر راحموں کو جس نے پچھلی نصف میں اپنے ہمزاد پر تجربے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مگر پھر بھی وہ بضد ہیں بالکل اس شخص کی طرح جو دیہات سے شہر میلہ دیکھنے گیا تو سردی سے بچاؤ کے لئے کمبل ساتھ لے گیا۔ میلے میں اس کا کمبل گم ہوگیا۔ واپس گاؤں پہنچا تو دوست بیلی رشتہ دار شہر اور میلے بارے پوچھنے کے لئے آگئے۔ وہ ہر سوال کے جواب میں یہی کہتا جاتا ”بس جی کیا بتاؤں میلہ ویلہ کیا تھا میرا کمبل چرانے کا بہانہ تھا” فقیر راحموں ہیں تو ازلی سامراج دشمن’ اس سامراج دشمنی میں وہ مغرب و مشرق اور شمال و جنوب کے کسی سامراج کا لحاظ نہیں کرتے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ”وہی قاتل جو مسیحا ٹھہرے” کے عنوان سے مضمون لکھ کر اندر ہوگئے۔ شاہی قلعہ میں رہے ‘ پکے ملک دشمن قرار پائے۔ خصوصی فوجی عدالت نے ان کی اسلام و پاکستان دشمنی ”ثابت” ہو جانے پر تین سال کی سزا بھی دی تھی مگر باز نہیں آئے۔ خود تو سکھ سے کبھی رہے نہیں مجھے بھی گمراہ کرتے اور مرضی کے کالم لکھواتے رہتے ہیں۔ نصف صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی مرضی و منشا کے مطابق کالم لکھنے سے انکار کردیا ہے۔ کل شام دوستوں کی ایک منڈلی میں بیٹھے فتویٰ ٹھوک رہے تھے۔ یہ اپنا شاہ ہے نا’ مجھے شک ہے کہ امریکی سی آئی اے اور صدر ٹرمپ سے اس کے خصوصی روابط ہیں۔ مودے ڈھیں پٹاس نے حیرانی سے کہا فقیر جی یہ تو بہت سنگین الزام ہے ۔ کہنے لگے مجھے اندر کے بندے نے خبر دی ہے۔ خود میں نے اسے ٹرمپ اور امریکہ کے خلاف کالم لکھنے کے لئے کہا انکار کردیا۔ میں نے کہا اچھا یہ حافظ سعید کی نظر بندی پر ایک احتجاجی کالم لکھو تو کہنے لگا۔ میں کوئی سرکاری محب وطن اور مسلمان یا جہادی تھوڑا ہوں’ آزاد آدمی ہوں۔ یہ منہ توڑ جواب ہی مجھے سمجھا گیا کہ شاہ اب پہلے والا سامراج دشمن نہیں رہا امریکیوں نے اسے کوئی آسرا کروایا ہے ورنہ ساری عمر خدائی فوجدار کی طرح پھڈے مول لینے والا شاہ امریکہ کے خلاف کالم لکھنے سے انکار نہ کرتا۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
1020
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پاکستان کا انتہائی قدامت پرستی کی جانب جھکاؤ۔ سعودی ڈپلومیسی کے مقاصد کے لئے کیسے فائدہ مند ہے ؟ چوتھا حصّہ - مستجاب حیدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: