یادوں کی دستک

Print Friendly, PDF & Email

ٹوٹتی بندھتی امیدوں کے درمیانی لمحات میں کتابیں بہترین اور محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں۔ کتاب دوستی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ کتاب دوستی کے ضمن میں اپنی تربیت و رہنمائی کے لیے مرحومہ آپا سیدہ فیروزہ خاتون اور چند دوسرے مہربانوں‘ بعض اساتذہ کرام اور محترم و مکرم دوست الیاس شاکر مرحوم کا شکر گزار ہوں۔
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خاتون خانہ کہہ اٹھتی ہیں ”گھر میں تو اب کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں رہی آپ ہر دوسرے دن کتابیں اٹھالاتے ہیں“۔ شکر ہے انہوں نے 40 سال بطور معلمہ زندگی بسر کی ورنہ کہتیں ”ان نگوڑیوں کے لئے گھرمیں جگہ نہیں ہے“۔

خوشی یہ ہے کہ میری بیٹی میڈیا سٹڈی کی طالبہ ہے۔ کوئی دم رخصت ہوئے تو لائبریری کسی فٹ پاتھ پر فروخت نہیں ہو گی۔ ایک سپہر اپنی صاحبزادی سے کہا تھا اگر ان کتابوں کو سنبھال نہ سکو تو میرے جنم شہر ملتان میں قائم ملتان ٹی ہاﺅس یا بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کی لائربری کو تحفے میں دے دینا۔ ہم نہ ہوئے تو کیا ہوگا۔ جانے والوں کو اس کا علم گر ہوتا تو بعد کے جھمیلوں کے معاملات طے کرکے رخصت ہوتے۔
چند دن ہوتے ہیں 1970ءکی دہائی سے دوستی اور شفقت بھرے رشتے میں بندھے الیاس شاکر رخصت ہوئے۔ دم رخصت وہ ایک ذاتی اخبار کے مالک تھے۔ عملی زندگی کا آغاز انہوں نے قلم مزدور کے طور پر کیا۔ زندگی بھر مشقت کی گاڑی کھینچتے رہے۔

دائیں بازو کے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ایک عمر مسلم لیگ کی محبت میں بسر کی پھر ایم کیو ایم کی محبت کے اسیر ہوئے۔ درمیان میں کچھ عرصہ ”دیگرز“ کی ارادت مندی میں بھی بسر ہوا۔ سچ یہ ہے کہ وہ اپنی ڈھب کے آپ ہی تھے۔ مرحوم عمر سیلیا سے ان کی خوب نبھی۔ 70ءاور 80ءکی دہائیوں کے کراچی میں ان کی دوستی بہت مثالی تھی۔
ان دنوں بہت سارے عامل صحافی چسکا لینے کے لئے کہا کرتے تھے الیاس شاکر عمر سیلیا کے کراچی صدر والے غوثیہ ریسٹورنٹ کے مفت خورے ہیں۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ ایسا نہیں۔ وہ ہر پانچ تاریخ کو غوثیہ ریسٹورنٹ کے منیجر سے اپنا حساب کرتے پچھلے مہینے کا بل چکاتے۔ یار لوگ ان پر پھبتی یوں کستے کہ وہ اپنے دوست کی زندگی میں بلاناغہ چند گھنٹے ان کے دفتر میں گزارتے۔
کراچی کی اخباری دنیا‘ پریس کلب‘ صحافیوں کی تنظیموں میں ان کا ہمیشہ جاندار کردار رہا۔ پھر ایک روز وہ ذاتی اخبار کے مالک بن گئے۔ اخباری مالکان کی تنظیموں میں فعال ہوئے۔ خوش لباس و خوش گفتاراور دوست نواز وہ تھے ہی۔ کتاب دوستی انہیں ننھیال سے ورثے میں ملی تھی۔ قیام کراچی کے دوران ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو یہ ضرور پوچھتے کہ آج کل کیا پڑھ رہے ہو۔ جواب سنتے متعلقہ کتاب اور مصنف بارے معلومات سے آگاہ کرتے اور ساتھ ہی اپنی پسند کی کوئی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیتے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے الیاس شاکر کی بدولت ہی جناب شوکت صدیقی‘ سید سبط حسن اور کامریڈ نواز بٹ سے تعارف ہوا۔ شوکت صدیقی‘ سید سبط حسن اور کامریڈ نواز بٹ میں دو اردو ادب اور ترقی پسند فہم کے آفتاب تھے جبکہ کامریڈ نواز بٹ نیپ کے سرگرم رہنما۔ شیخ سراج‘ نواب مظفر علی خان‘ غازی انعام نبی پردیسی‘ پیر صاحب پگاڑا مرحوم کی محفلوں تک بھی ان کی معرفت رسائی ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:   اگر دہشت گرد صرف وحشی اور جاہل ہوتے - ایاز امیر

1970ءکی دہائی کے کراچی کی شان ہی نرالی تھی۔ لسانی عصبیت و نفرت کا دور دور تک نام نہیں تھا۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کے روشن چہرے تھے یا اردو ادب کے نامور لوگ‘ سب ایک دوسرے سے یوں ملتے جیسے صدیوں کے بچھڑے بھائی۔ اس وقت کے تمام نامور لوگوں میں ایک خوبی مشترکہ تھی وہ تھی مطالعہ کی۔ آج کے سیاستدانوں اور سیاست کاروں کی دلچسپیاں مختلف ہیں ان برسوں میں تو جہاں مختلف الخیال سیاسی کارکن اور اہل دانش اکٹھے ہوتے بہت سارے موضوعات سے ہوتی ہوئی گفتگو نئی کتابوں پر آن کر رکتی۔ نئی نسل کے طلباءبزرگوں کی جس مجلس میں بھی شریک ہوتے دامن مراد علم کے موتیوں سے بھر کر ا ٹھتے۔
شوکت صدیقی اپنی اقامت گاہ پر اتوار کے دن مجلس آرائی کرتے کوئی بھی شخص شرکت کرسکتا تھا۔ سید سبط حسن غالب لائبریری میں مجلس آرا ہوتے۔ غازی انعام نبی پردیسی کے ہاں دائیں بازو کے کارکنوں کی محفل جمتی۔ اس میں بھی بائیں بازو کا کوئی نہ کوئی کارکن ضرور موجود ہوتا۔ کافی ہاﺅس ایک مقام ملاقات تھا۔
صدر میں جہانگیر پارک کی لائبریری کا ہال عجیب قسمت رکھتا تھا۔ صبح کے اوقات میں شاعر و ادیب اور تعلیمی اداروں سے فرار ہوئے طلباءموجود ہوتے اور سہ پہر سے شام تک بائیں بازو کے اہل دانش جو لائبریری کا وقت ختم ہونے پر جہانگیر پارک میں مجلس سجاکر بیٹھ رہتے۔
یہیں مختار رضوی‘ ڈاکٹر رشید‘ جان عالم‘ عبدالباری خان‘ خالد آفتاب اور شہنشاہ حسین جیسے لوگوں کی زیارت کا موقع ملا۔ ایک سے بڑھ کر ایک صاحب علم و جدوجہد تھا۔ خود سے اگلی اور ان سے اگلی نسل کے ان بڑوں سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع ملے۔ لاریب بہت کچھ سیکھا بھی۔ سچ یہ ہے کہ وہی سیکھا ہوا آج بھی کام آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   چراغِ مُردہ کُجا شمعِ آفتاب کُجا‘‘ - حیدر جاوید سید’’

ان بزرگوں میں سے اکثر سفر حیات پورا کر کے رخصت ہوچکے۔ الیاس شاکر بچی کھچی چند نشانیوں میں سے ایک تھے وہ بھی چلے گئے۔ ایک فہمیدہ عامل صحافی کے طور پر انہوں نے بہت رہنمائی کی۔
استادان گرامی فضل ادیب‘ نصیر حسین میمن‘ فرنود واسطی اور سید ذکی طالب جیسے صاحبان علم کی جوتیاں سیدھی کرکے طالب علم نے فیض پایا۔
الیاس شاکر کے سانحہ ارتحال کی خبر نے یادوں کے در وا کردیے۔ ایک ایک کرکے صاحبانِ علم کی یادوں نے دستک دی۔ انسانیت پرست‘ من کے اجلے‘ عوام دوست‘ کچھ مذہب کی ”بکل“ مارے لوگ بھی تھے لیکن خدا گواہ ہے کہ وہ آج کے مذہبی تاجروں سے یکسر مختلف تھے۔ مثلاً مولانا محمد زکریا‘ علامہ اللہ وسایا الخطیب‘ حضرت سید یوسف بنوری‘ شاہ فرید الحق‘ صوفی سنیوں کے روح رواں حضرت علامہ شاہ احمد نورانی‘ قبلہ مولانا محمد طفیل‘ یادوں کا سلسلہ تھمتا ہی نہیں‘ کس کا ذکر ہو اور کس کا نہ ہو۔ اپنے مربی دوست اور شفیق و مہربان الیاس شاکر کی رحلت نے 1970ءکی دہائی کے کراچی کی یادوں بھری فلم چلادی۔ کریم مالک‘ الیاس شاکر مرحوم سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ یہ کالم کل بروز جمعہ روزنامہ جہانِ پاکستان ملتان ایڈیشن میں شائع ہوا تھا.

Views All Time
Views All Time
72
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: