تگڑم کا چھابہ الٹنا ہوگا

Print Friendly, PDF & Email

آگے بڑھنے سے قبل دو تین باتیں عرض کئے دیتا ہوں۔ شدید گرمی اور حبس میں سانس لینا دو بھر ہوا جا رہاہے ایسے میں کچھ لکھنے پڑھنے میں پچھلے چند دنوں سے دشواری پیش آرہی ہے۔ غیر حاضری کی یہی وجہ ہے۔ ثانیاً یہ کہ چودھری پرویز الٰہی فرماتے ہیں کہ 25جولائی کو نواز شریف کے بھارت نواز بیانیہ کو شکست ہوگی۔ بہت احترام کے ساتھ گجراتی چودھری کی خدمت میں عرض ہے پاکئی داماں کی جعلی حکایتیں بیان کرنے اور سیاسی مخالفین پر بھارت نوازی کی پھبتی کسنے کی بجائے مناسب یہ ہوگا کہ نون لیگ کا سیاسی میدان میں مقابلہ کریں۔ ق لیگ، پی ٹی آئی اور چند دوسرے جس طرح پنجاب میں شریف خاندان اور نون لیگ کے خلاف ختم نبوتؐ اور بھارت نوازی کو ایشو بنائے ہوئے ہیں یہ درست نہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ نام نہاد آزاد الیکشن کمیشن کو ضابطہ اخلاق کی یہ خلاف ورزیاں دکھائی نہیں دیتیں۔

ثانیاً یہ کہ جناب پرویز خٹک نے پچھلے دنوں ایک انتخابی جلسہ میں پیپلز پارٹی اور اس کے جھنڈے بارے جن ارشادات سے اپنے سامعین کو فیض یاب کیا اس پر ہر ذی فہم رنجیدہ ہے۔ کمی تو کچھ ہمارے مہربان حضرت مولانا فضل الرحمن نے بھی نہیں رکھی۔ ادھر ڈیرہ اسماعیل خان میں حضرت امام علیؑ کے نام پر ووٹ مانگے جا رہے ہیں جنت کی ضمانت پر۔ دوسری طرف بلاول ہیں جنہوں نے نئے میثاق جمہوریت کی بات کی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کی تڑپن دیکھنے کے لائق ہے۔ ادب سے ان کی خدمت میں عرض ہے حضور میثاق جمہوریت سیاسی قوتوں کے درمیان ہوگا۔ تحریک انصاف کو عملی طور پر ابھی خود کو سیاسی قوت ثابت کرنا ہوگا۔

اصل موضوع پر بات کرلیتے ہیں‘ لولی لنگڑی جمہوری حکومتوں میں کرپشن بالکل ہوئی اس پر دو آراء ہر گز نہیں لیکن جس سوال کو ہمارے یہاں ہمیشہ ایک حکمت عملی بھرے پروپیگنڈے کے تحت نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کرپشن صرف سیاستدانوں کی ہے یا کچھ اور حلقے بھی اسی رنگ میں رنگے ہیں اور وہ اپنی طاقت، رعب اور دوسرے امور کو یک طرفہ پروپیگنڈے کے لئے استعمال کرتے ہیں؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کیا کرپشن اور اقربا پروری کا علاج صرف اوئے توئے گالی گلوچ ہے؟ بہت ادب کے ساتھ عرض کروں بد قسمت سماج کو جس سمت دھکیلا جا رہا ہے یہ منزل کی نہیں بربادیوں کی سمت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا پیپلز پارٹی اور اے این پی کا حقیقی احیا ممکن ہے؟ -حیدر جاوید سید

اصل قصہ یہ ہے کہ سیاستدان نرم ترین چارہ ہیں ہر شخص چڑھ دوڑتا ہے۔ پاکستانی سیاست پر جناح صاحب کی وفات کے بعد کس کا غلبہ ہے کس نے انجانے دشمنوں، پڑوسیوں اور سازشوں کا سودا فروخت کیا۔ کیوں مطالعہ پاکستان میں زمینی حقائق کم اور جھوٹے خواب زیادہ ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر اب اگر کھل کر بحث نہ ہوئی تو خطرہ یہ ہے کہ ہم ایک بند گلی میں پھنسے جا رہے ہیں۔ ہم پچھلے دس سال سے ایک جیسے بھاشن سنتے آرہے ہیں۔ ویسے یہ بھاشن ستر سال پرانے ہیں۔ چار بار مارشل لاء لگا پھر دودھ اور شہد کی نہریں شہر شہر کیوں نہ بہنے لگیں؟ کڑوا سچ یہ ہے کہ عوامی جمہوریت کا زمانہ مختصر ہے۔ بھٹو صاحب انسان تھے ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوئیں مگر خوبیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے علاوہ تو سارے سول ادوار سمجھوتوں سے بندھے ہیں یا پھر باہمی تعاون سے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد سے ان سطور میں پانچ سال تک تواتر کے ساتھ اس تگڑم کی سازشوں بارے لکھتا آرہا ہوں جس نے انتخابی نتائج چرائے اور نواز شریف کو مسلط کیا۔ اب 2018ء کے انتخابات میں محض تین چار دن باقی ہیں اس بار تگڑم کے ارادے کچھ اور ہیں۔

جان کی امان ہو تو دریافت کر لیا جائے‘ حضور! اگر نواز شریف جیسے شخص کے ساتھ نہیں نبھ پائی جو خالص آپ کی نرسری کی تخلیق ہے تو عمران خان سے کیسے نبھ پائے گی۔ وہ تو کسی کی سنتا ہی نہیں؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس انتخابی عمل کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر تحفظات ہیں۔ علاقائی و عالمی طور پر کالعدم جماعتیں انتخابی میدان میں ہیں۔ انتخابی قوانین قدم قدم پر پامال ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی بے لگامی الگ مسئلہ ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ چند بڑے میڈیا ہاؤسز اور کچھ پیرا شوٹروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر حملوں کے وقت اس طالب علم نے سوشل میڈیا کا ساتھ دیا تھا لیکن جو ہو رہا ہے وہ صریحاً غلط ہے۔ نواز شریف کی والدہ کو گالی دی جائے یا ان کی صاحبزادی کی کوئی بیہودہ تصویر وائرل کی جائے دونوں کام قابل نفرت ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   عمران خان کی طرف سے دہشت گردوں کو راتب

ہماری نسل کے لوگوں نے جنرل ضیاء اور نواز شریف اینڈ کمپنی کی طرف سے محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی کردار کشی پر پوری استقامت سے احتجاج کیا تھا۔ صحافت و سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے آج بھی یہ عرض کر رہا ہوں کہ جناب نواز شریف کی والدہ اور صاحبزادی کی توہین نہیں ہونی چاہئے۔ اختلافات کو نفرت میں تبدیل کرنے کے نتائج سے مجاہدین سوشل میڈیا اور انصافی نسل دونوں واقف نہیں۔ کاش انہوں نے تاریخ کو کھلی آنکھوں سے پڑھا ہوتا۔ حرف آخر یہ ہے کہ تین چار دن بعد انتخابات ہیں آپ ووٹ دیتے وقت بد زبانوں‘ لوٹوں‘ چوروں اور فرقہ پرستوں کو پوری قوت کے ساتھ مسترد کرکے تگڑم کے چھابے کو الٹ سکتے ہیں۔ یاد رکھئے اگر آپ نے اپنے عہد کا تقاضا پورا نہ کیا تو پھر رونے دھونے سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔

 

Views All Time
Views All Time
308
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: