Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سچ آکھیاں بھانبڑ مچ دا اے

by جولائی 12, 2018 کالم
سچ آکھیاں بھانبڑ مچ دا اے
Print Friendly, PDF & Email

پچھلے دو ماہ سے ان سطور میں تواتر کے ساتھ یہ عرض کرتا چلا آرہا تھا کہ 2018ء کے انتخابی ماحول کو لہو میں رنگنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ عراق اور شام سے پسپا ہو کر افغانستان میں پناہ لینے والے دہشت گردوں سمیت امن، آزادی اور انسانیت کے دشمنوں کے بہت سارے گروہ اور بعض مقامی قوتیں 2013ء کے انتخابی عمل کے دوران والے حالات پیدا کرنا چاہتی ہیں تاکہ ترقی پسندانہ افکار کے حاملین کے ہاتھ پاؤں باندھ کر خاص فہم کے لوگوں کی کامیابی کی راہ ہموار کی جاسکے۔ قلم مزدور پر آسمان سے کچھ نازل نہیں ہوتا۔ اردگرد کے حالات، زمینی حقائق اور ماضی قریب کی تاریخ، یہ تینوں تجزیہ کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔خدشے کا ادراک سیاست و صحافت کے اس طالب علم کو چند ماہ قبل اس وقت ہوا تھا جب اسلام آباد میں مختلف کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو ایک میز پر لا بٹھایا گیا ۔ ستم یہ ہوا کہ مقتولین کے ہم خیالوں کو بھی۔ سرکاری چھتری کے نیچے ہوئی اس کانفرنس میں کہا گیا کہ کالعدم تنظیموں کو مین اسٹریم میں شامل ہونے کا موقع دیا جارہا ہے۔ بعد ازاں مختلف مواقع پر ذمہ دار حلقوں نے ہمیں (عوام) کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر کالعدم تنظیموں کے لوگ مین اسٹریم میں شامل ہوتے ہیں تو بحالی امن میں مدد ملے گی۔

ماضی سے ڈسے ہوئے لوگوں کا مؤقف تھا کہ بحالی امن کے لیے تو شائد مدد نہ ملے البتہ غیر ریاستی لشکروں کے سہولت کاروں کو مزید کھل کھیلنے کے مواقع ضرور ملیں گے۔ اگلے مرحلے پر ریاست نے 100، 100 افراد کے قاتلوں کو پارسائی کی سند دے کر انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ اس مرحلہ پر بھی یہ عرض کیا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ بااثر اداروں میں خاص فہم کے حاملین پالیسی سازی کی قوت پر قبضہ کر چکے ہیں اور انہیں زمینی حقائق سے زیادہ وقتی مفادات عزیز ہیں۔ کوئی بھی شخص جو غیر ریاستی لشکروں اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں پاکستان کی تباہ حالی کو محسوس کرتا ہو یہ سوال کرنے میں حق بجانب تھا کہ القاعدہ، داعش اور طالبان و لشکر جھنگوی سے فکری و مسلکی ہم آہنگی رکھنے والی جماعتوں پر سیاسی عمل میں شرکت کی پابندیوں کی بجائےفورتھ شیڈول میں شامل امن دشمنوںکو سیاسی رہنما بننے کی سہولت کیوں دی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   نیا پاکستان یہ لوٹے بنائیں گے

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ سرکاری تاریخ اور کنٹرولڈ میڈیا سے متاثر محب وطنوں کے انبوہ سامنے دیوار پر لکھی حقیقت کوپڑھنے کی بجائے بھارت و اسرائیل وغیرہ کی سازشی تھیوریوں ، اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کی پھکی سے اپھاروں کا علاج کرتے ہیں۔ ایک منصوبے کے تحت فکری گھٹالوں کو پروان چڑھانے والوں نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ ستم یہ ہے کہ یہاں اصل مسائل اور عذابوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مختلف شوشے چھوڑے اور درشنی معاملات پر ہنگامے اٹھوائے جاتے ہیں۔ بلاشبہ کرپشن ایک اہم مسئلہ ہے۔ سوال مگریہ ہے کہ کیا کرپشن تاجر نما سیاست دان ہی کرتے ہیں ؟ دیگر ادارے اس لعنت سے محفوظ ہیں؟ سچ یہ ہےکہ ریاست کے تقریباََ سبھی ادارے گردن تک کرپشن میں دھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن کرپشن کے نام پر اپنی رکھیل طبقاتی جمہوریت کو بدنام کروانے کا مقصد یہ ہے کہ معاملہ عوامی جمہوریت کی طرف نہ بڑھنے پائے۔ بوزنوں کی ایک پوری نسل جمہویت کو گالی دیتے وقت یہ تمیز بھی نہیں کرپاتی کہ جس نظام میں کرپشن کے سارے ریکارڈ ٹوٹے اس نظام کے گاڈ فادر کا کردار تو خود ریاستی ادارے کرتے چلے آرہے ہیں۔

یہ پل دو پل کا قصہ نہیں ، پون صدی سے پانج برس کم یعنی ستر برسوں کی روداد ہے۔ یہ سطورلکھ رہا تھا کہ پشاور سے المناک سانحہ کی اطلاع ملی۔ اے این پی کے خیبر پختونخواہ اسمبلی کے لیے امیدوار ہارون بشیربلور کے انتخابی جلسہ میں ہونے والے خودکش حملے میں ہارون بلور سمیت 16 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

ہارون بلور کے والد اور ہمارے قابل احترام دوست جناب بشیر احمد بلور 2013ء کی انتخابی مہم کے دوارن ایسے ہی ایک خودکش حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ سانحہ پشاور نے ان خدشات کی پھر سے تصدیق کر دی ہے کہ وہ قوتیں پھر سے سرگرم عمل ہو گئی ہیں جنہوں نے 2013 ء میں اے این پی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے لیے انتخابی مہم کے دروازے بند اور میدان تنگ کر دیا تھا۔ کون کس کو کس قیمت پر اس ملک میں برسرِ اقتدار لانا چاہتا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ منگل کو پشاور میں اے این پی کے جلسہ پر خودکش حملہ ، پنجاب میں ن لیگ کے خلاف ختم نبوتﷺ کارڈ کا کھیلا جانا، سندھ میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے خلاف ایک حساس ادارے کے افسروں کی مہم جوئی کے ساتھ ساتھ اگر سندھ کے بعد پنجاب کے سرائیکی بولنے والے علاقوں میں بلاول بھٹوکی انتخابی مہم کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششوں کو ملا کر دیکھا جائےتو 25 جولائی کے نتائج کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں۔ سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے تو منگل کی سپہر ایک پریس کانفرنس میں حساس ادارے کے ان چند افسران کے نام بمعہ عہدے میڈیا کو بتائے جو ان دنوں محمد بن قاسم ثانی بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   دہشت گردی - سوال نہیں نوحہ خوانی اور باری کا انتظار کریں - حیدر جاوید سید

صورتحال تسلی بخش ہرگز نہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ 2013ء جیسی فضا بنائی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ان ہتھکنڈوں کا متحمل ہوسکے گا؟ بہت ادب کے ساتھ عرض کروں کہ کالعدم تنظیموں کی سرپرستی ، نگران حکومتوں کے بغلول اپنے اور محمد بن قاسم بننے کی کوششوں سے اجتناب کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ریاستی ادارے کسی تاخیر کے بغیر شہید ہارون بلور کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ ایسا نہ ہوا تو ملکی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
497
Views Today
Views Today
9
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: