Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

ریاستی اداروں پر اُٹھتے سوالات

Print Friendly, PDF & Email

انتخابی سیاست کے دوران قوانین کے اطلاق میں توازن (غیر جانبداری) دکھائی نہیں دیتی۔ سندھ میں نگران حکومت جی ڈی اے کی سرپرستی فرما رہی ہے اور پنجاب میں تحریک انصاف کی، لاڑکانہ میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کی نگرانی میں پی پی پی کے بینر، جھنڈے اور پینا فلیکس اتارے گئے لیکن جی ڈی اے اور ایک مولوی صاحب کے بینر وغیرہ سرکاری عمارتوں کی دیواروں پر بھی لگے ہوئے ہیں۔
پنجاب کے درجنوں شہروں میں پی پی پی کے اُمیدواروں کو مقامی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کے حسن وسلوک کا سامنا ہے۔ شیخوپورہ میں بلدیہ کے چیئرمین نون لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے کے اُمیدوار اپنے بڑے بھائی کیلئے بلدیاتی وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ خفیہ کے اہلکار، ضلعی انتظامیہ اور انتخابی قوانین تنیوں کی تلواریں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر پی پی 140 سے اُمیدوار سید ندیم عباس کے بینروں، پینا فلیکس اور پوسٹروں پر چلتی ہیں۔ نون لیگ اور پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کو کھلی چھٹی ہے۔

بلاول کو پہلے اوچ شریف میں نقوی البخاری سادات کے جد امجد حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کی خانقاہ پر حاضری سے روکا گیا۔ بہاولپور سے صوبائی اسمبلی کے ایک امیدوار کا بھائی اسی ریجن میں ڈی آئی جی کے طور پر تعینات ہے۔ اس نے بہاولپور ڈویژن کی حدود میں بلاول کی ریلی کیلئے قدم قدم پر مشکلات کھڑی کیں۔ پولیس افسر کو سیاست کا شوق ہے تو پورا کرلے۔ ملتان میں پی پی پی کو بلاول کے جلسے اور ریلی کے پیشگی اجازت نامے کس کے کہنے پر منسوخ کئے گئے؟۔
دستیاب معلومات کی روشنی میں دو نام لکھے دیتا ہوں جنہوں نے ایسا کرنے کو کہا دونوں صاحبان کو اعتراض ہے تو چیلنج کریں۔ اولاً نگران وزیراعلیٰ اور ثانیاً مخدوم شاہ محمود قریشی۔انتخابی جلسوں میں ریاستی چھتری میں کھڑی پی ٹی آئی کے اُمیدواران مخالفین کے بارے جو زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر بنی گالہ کے فیض یافتگان کا ارشاد ہے کہ یہ عوامی ردعمل ہے۔

اچھا تو کیا چند سال قبل پنجاب یونیورسٹی میں عمران پر طلباء کا تشدد اور چند ماہ قبل کراچی کے واقعات کو بھی عوامی ردعمل ہی مان لیا جائے؟
نون لیگ کا ناقد ہونے کے باوجود پچھلے چند دنوں سے شریف خاندان کیخلاف جاری اخلاق باختہ مہم کی تائید نہیں کی جاسکتی۔ حیرانی ہوتی ہے کہ 100۔100 افراد کے قتل میں ملوث افراد کو ریاست ہاتھ باندھ کر انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت فراہم کر چکی اور نون لیگ و پیپلز پارٹی کیلئے انتخابی سیاست میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ کسی نے ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ کیوں غیراعلانیہ طور پر پرنٹ والیکٹرانک میڈیا ایک خاص جماعت کو اس کے حق سے زیادہ کوریج دے رہے ہیں اور دوسروں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جناب نواز شریف کچھ یاد تو کیجئے آپ بھی

سمجھ لیجئے کہ جانبداری کی فضا میں جاری انتخابی مہم کے نتائج پر سوالات ہی نہیں اعتراضات بھی اُٹھیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے 2013 میں جو ادارے نون لیگ کے سہولت کار تھے، 2018 میں وہ تحریک انصاف کے سہولت کار ہیں۔ ایسے میں غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کیسے منعقد ہوں گے ؟۔
مکرر عرض ہے کہ ہمارے محترم دوست عمران خان نے اپنے پیروکاران کو جس بدزبانی و بے لگامی کی راہ پر لگا دیا ہے اس سے وہ خود بھی نہیں بچ پائیں گے۔ مناسب یہ ہے کہ انتخابی ماحول کو صا ف ستھرا ہی رہنے دیا جائے۔ سیاست حکمت عملی، فہم اور آدرشوں پر ہوتی ہے نفرت کی بنیاد پر کی جانے والے سیاست میں وقتی فوائد تو ہو سکتے ہیں مگر دیرپا ہرگز نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔
میاں نواز شریف ان کی صاحبزادی اور داماد کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا ہو چکی، اگلے مرحلے کے عدالتی عمل میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا ان کا حق ہے، انہیں اس حق سے محروم کرنے یا لندن میں ان کی قیام گاہ پر تحریک انصاف کے حامیوں کے حملے کا کوئی جواز نہیں۔ جو دوست اسے عوامی ردعمل قرار دے رہے ہیں وہ آنے والے دنوں میں حالات کو سنبھال نہیں پائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   قومی اسمبلی میں جیتنے والے امیدواروں کی مکمل فہرست بمعہ حاصل کردہ ووٹ

سیاسی عمل میں نفرتوں، مارو اور گالی دو کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ تحریک انصاف کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ عملی طور پر ثابت کرے کہ اسے بعض ریاستی اداروں کی سرپرستی حاصل نہیں۔ خود ریاستی اداروں کو بھی اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی۔ بعض اضلاع میں چند ایک ریاستی اداروں کے افسروں کا سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا غیر مناسب ہی نہیں بلکہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
حرف آخر یہ ہے کہ سرائیکی وسیب کو جنوبی پنجاب کہنے والی جماعتیں ہوں یا تین ڈویژنوں پر مشتمل انتظامی صوبے کی شیرینی تقسیم کرنے والے ہر دو کو یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ سرائیکی وسیب کے لوگوں کی 40سالہ جدوجہد فیڈریشن میں اپنی آئینی اکائی کے حصوں کیلئے ہے۔ اس حساس معاملہ پر سیاست کرنے کی بجائے چھ کروڑ سرائیکی عوام سے دو ٹوک بات کرنا ہوگی۔ تقسیم شدہ سرائیکی وسیب کے لوگ کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے، قومی تاریخی وثقافتی بنیادوں پر صوبہ ان کا حق ہے۔

مکرر عرض ہے، انتخابی ماحول کو پرامن رکھنے کیلئے سیاسی جماعتوں کیساتھ نگران حکومتوں اور اداروں پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ تاثر ہر گزرنے والے دن کیساتھ پختہ ہوتا جا ر ہا ہے کہ ریاست پوری طاقت سے کسی ایک مخصوص جماعت کے پیچھے کھڑی ہے۔ یہ تاثر زائل نہ ہوا تو انتخابی نتائج کے بعد جو صورتحال پیدا ہوگی اسے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جائیگا۔

Views All Time
Views All Time
231
Views Today
Views Today
2

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: