نواز شریف کو سزا اور چند سوالات

Print Friendly, PDF & Email

جناب کامریڈ چنگ چی نواز شریف گویڑا کو قائد انقلاب و جمہوریت اور محافظ دستور کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے پنجابی حریف کے طور پر پیش کرنے والے نومولود پنجابی کامریڈز اور کمرشل لبڑلز پچھلے 24 گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر کشتوں کے پشتے لگانے میں جتے ہوئے ہیں۔ ہمارے کچھ پشتون قوم پرست دوست بھی پچھلے کچھ عرصہ سے جاتی امراء کی محبت میں گرفتار ہیں۔ اس محبت کو کئی نام دیے جاسکتے ہیں۔ پر اس کے لیے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ فی الوقت ہم چنگ چی نواز گویڑا سرکار اور ان کی صاحب زادی رانی آف جاتی امراء اور داماد اول کو دی گئی سزاؤں پر بات کرتے ہیں۔

کامریڈز و لبڑلز کو سجدہ شکر بجا لانا چاہیے کہ جن عدالتوں کو وہ منہ بھر کے گالیاں دے رہے ہیں ان عدالتوں نے حدیبیہ پیپر مل والی فائل بند کردی۔ ایون فیلڈ فلیٹس والے کیس میں حدیبیہ پیپر مل کے اکاؤنٹس کی بنیادی اہمیت تھی اوریہی اکاؤنٹس منی لانڈرنگ کو ثابت کرتے تھے۔ یوں کہیں کہ 35 برسوں کی سرمایہ کاری کام آئی اور اصل جرم نکال کر کمزور الزامات پر مبنی ایسا ریفرینس بنوایا گیا جس میں پہلے مرحلہ پر تو سزائیں ہوں مگر اگلے مراحل میں کمزور الزامات و شواہد ریلیف کا سبب بن سکیں۔ کوئی خوش ہو یا ناراض فقیر کو یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اعلیٰ عدالتوں کے پنجابی ججوں نے کمال ہاتھ کی صفائی دکھائی اور 22 کروڑ لوگوں کو ایون فیلڈ والے ٹرک کے پیچھے دوڑا دیا جس میں گئیر باکس ہی نہیں ہے۔

نواز شریف کتنے دیانت دار اور کرپٹ ہیں اس پر مغز کھپانے کی بجائے فقط یہ ذہن نشین کرنا ہو گا کہ ان کے خاندان نے جنرل ضیاء الحق کی چھتر چھایہ میں ایوان اقتدار میں قدم رکھا تو کاروبار کو بھی چار چاند لگ گئے۔ ساری صنعتی و مالیاتی ترقی 1980 اور 1990 کی دو دہائیوں  میں ہوئی۔ ان دو دہائیوں میں نواز شریف پنجاب کے وزیرخزانہ، دوبار وزیراعلیٰ اور دوبار وزیراعظم بنے۔ کیا انہوں نے پنجاب کا وزیر خزانہ بننے کے بعد خاندانی کاروبار سے علیحدگی اختیار کی؟ اثبات میں جواب کہیں نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھئے:   نوجوان محققین کے مسائل اور ان کا حل

ان کے بچے 1993ء سے ایون فیلڈ والے فلیٹ میں مقیم ہیں۔ قطری خط کسی سمجھوتے کا بعد کی تاریخوں میں ذکر کرتا ہے۔ اگر پہلے  کرایہ دار کے طور پر مقیم تھے تو کرایہ نامہ کہاں ہے؟ حدیبیہ پیپر مل اور برطانوی بنک، التوفیق کے مالیاتی تنازع میں کیسے یہ فلیٹس بنک کی ملکیت چلے گئے ، اگر یہ شریف خاندان کی ملکیت نہیں تھے؟ یہ کیسے ہوا کہ شہباز شریف اور بنک التوفیق کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے پائے۔ شریف خاندان کی طرف سے ادائیگی ہوئی اور فلیٹس واپس مل گئے؟ ادائیگی کی رقم پاکستان سے لندن کیسے پہنچی؟

کچھ بھی صاف شفاف نہیں گھٹالے ہی گھٹالے ہیں۔ اور وجہ یہ ہے کہ کرپشن پر سزا دینا مقصود ہی نہیں تھا۔ جھگڑا کرپشن میں حصے پر ہوا اور بعض میگا پراجیکٹس کے لیے اتفاق گروپ اور میاں منشاء کی فیکٹریوں کا 80 فیصد خام مال فروخت کرنے پر ، پرانا لاڈلہ منہ زور ہوگیا تھا۔ نئے لاڈلے کےلیے جگہ بنانے کے لیے تین ایکٹ کا کرپشن ڈرامہ لکھوایا گیا۔

نواز شریف کو جمہوریت اور عوام و دستور عزیز تھے تو انہوں نے 2008ء سے 2013ء کے درمیان میثاق جمہوریت کے باوجود فوجی اشرافیہ کا آلہ کار بن کر پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگائے رکھنے کی سازش میں پرجوش کردار کیوں ادا کیا؟ مکرر عرض ہے ایون فیلڈ مقدمے کی بنیادی کڑی حدیبیہ پیپر منی ٹرانسفر کو درمیان سے نکالنے میں تعاون کرنے والے نواز شریف سے بڑے مجرم ہیں۔ انصاف کی غیرت ان بڑے مجرموں کے خلاف کب جائے گی؟ انتظار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا واقعی سازش ہورہی ہے؟

لاریب سیاست کاروں سے (معاف کیجیے گا سیاست کو تجارت بنانے والوں کو سیاست دان نہیں سمجھتا) زیادہ کرپشن دوسرے طبقات نے کی۔ ان سیاست کاروں کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ساجھے داروں کی ناز برداریاں کیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جس نے بھی سول ملٹری اشرافیہ کے آلہ کار کے طور پر جمہوریت سے کھلواڑ کیا وہ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوا۔ جناب عمران خان کو بھی زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں۔ جس دن ان کی ضرورت پوری ہوئی وہ بھی تاریخ کے کوڑے دان کا رزق ہوں گے۔

لیکن یہ کیا کہ کوئی کامریڈ، دیوانہ، شیر احتجاج کے لیے نہیں نکلا ۔ اور تو اور شہباز شریف نے احتجاجاََ بازو پر کالی پٹی تک نہیں باندھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف جب کبھی واپس آئیں گے تو پھر وہ کیا کریں گے؟ ابھی ان کی واپسی کا انتظار کیجئے۔ حرف آخر یہ ہے کہ جمہوریت پر کامل ایمان تو ہے مگر طبقاتی یا جرنیلی جمہوریت دونوں ہماری آئندہ نسلوں سے کھلواڑ کے سوا کچھ نہیں۔

Views All Time
Views All Time
367
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: