Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

علم و تدبر سے محروم سماج

علم و تدبر سے محروم سماج
Print Friendly, PDF & Email

دو تصویریں ہیں اور چند کتابیں، ان کے درمیان برادرم عباس سیال کی متواتر یاددہانی کہ ان کی زیر تصنیف کتاب کیلئے چند سطور رقم کرنی ہیں۔ عباس سیال سندھ دریا کے کنارے انگنت صدیوں سے آباد ”ڈیرہ پھلاں دا سہرہ” کہلانے والے ڈیرہ اسماعیل خان کے باسی اور طویل عرصہ سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ سرائیکی وسیب کے اس اجلے زمین زادے کی نثر غضب کی ہے۔ اپنی دھرتی ماں’ تاریخ اور دھرتی زادوں کیلئے حرف جوڑتا ہے تو رشک آتا ہے۔ دہلی کا سفرنامہ’ بٹوارے کے زمانہ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ہجرت کرکے ہندوستان گئے۔ نجیب الطرفین سرائیکی ہندوؤں کا نوحہ بھی ہے اور پرعزم داستان بھی۔ چلیں طالب علم کتاب پڑھ اور ان کے حکم کے موجب سطور رقم کرلے پھر اس پر بات کریں گے۔

عزیزان گرامی نوفل جیلانی اور محمد فہد نے مہینہ بھر قبل ابو تراب ندوی کی کتاب انقلاب شام (عالم اسلام کی تشکیل نو کا آغاز) بھجوائی۔ ابو تراب ندوی کتنی آسانی کے ساتھ تاریخ اور عصری صورتحال سے کھلواڑ کرگئے یہ ان کا ہی حوصلہ ہے۔ فرقہ پرستی میں گردن تک دھنسے اس بھارتی مصنف کو داعش اور النصرہ کے قاتل گوریلوں میں اسلام کی نشاط ثانیہ دکھ رہی ہے۔ سورة فاتحہ کی تلاوت کیجئے کہ کیسے کیسے اعلیٰ دماغ مسلم سماج کا حصہ ہیں۔

نسلوں نے سزا پائی نامی کتاب سابق مشرقی پاکستان کے بحرانی دور 1968ء سے 1971ء تک کی کتھا ہے۔ جنرل کمال متین الدین کی اس کتاب کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد شیراز دستی نے کیا۔ حق ادا ہوا ترجمے کا۔ یہ کتاب نوحہ ہے ان برسوں کا جب مشرقی پاکستان کا شکار کیا جا رہا تھا’ سقوط مشرقی پاکستان کے پس منظر پر لکھی گئی کتابوں میں سے یہ کتاب اسلئے انفرادیت کی حامل ہے کہ جانبداری سے قدرے دور رہ کر زمینی حقائق سے روشناس کروایا گیا ہے۔

احمد سلیم اور رفعت عباس کی تحقیق وتحریر’ مرحوم کامریڈ جام ساقی کے حوالے سے ہے۔ جام ساقی پاکستان کی ترقی پسند سیاست کے چندے آفتاب تھے سچے کھرے اور ثابت قدم زمین زادے جنہوں نے ساری زندگی مظلوم و بے نوا طبقات کے سیاسی وسماجی حقوق کیلئے جدوجہد کی۔ 1960ء’ 1970ء اور 1980ء کی تین دہائیوں میں انہوں نے ترقی پسندانہ فہم رکھنے والی تین نسلوں کے دلوں پر راج کیا۔ سزائیں’ تشدد’ دربدری اور دوسرے عذاب خندہ پیشانی سے جھیلے۔ ان کی ذات’ نظریات اور جدوجہد کے حوالے سے مرتب کی گئی کتاب برادرم فرخ سہیل گوئندی نے شائع کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   چودھری شجاعت حسین کی یادداشتیں" سچ تو یہ ہے"

بھاگ بھری’ بیرون ملک مقیم سید صفدر زیدی کا ناول ہے۔ اردو میں اپنے موضوع کے اعتبار سے اچھوتی تحریر کے خالق نے کمال ہنرمندی سے حق ادا کیا۔ احمد سہیل کے مطابق ”بھاگ بھری” پاکستان کی حشر سامانیوں’ عدم مساوات اور ریاستی جبر پر نوحہ کناں ہے”۔ سیدی صفدر زیدی نے جس چابک دستی سے بہروپیوں کے نقاب نوچے یہ انہی کا خاصہ ہے۔

مختصراً مختصراً ان کتابوں بارے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نیٹ کے دور میں کتابیں پڑھتا کون ہے اور اچھی کتابیں شائع کب ہوتی ہیں اُن کو یہ بتانا سمجھانا ہے کہ کتابیں لکھی بھی جا رہی ہیں اور شائع بھی ہوتی ہیں۔ ان سے سوا بھی درجن بھر کتابیں ہیں جو پچھلے دو تین ماہ میں طالب علم نے مطالعہ کیلئے خریدیں۔ چند کتابیں دوستوں نے بھی عنایت کیں لیکن زیادہ تر کتب خریدتا ہی ہوں۔ پچھلے چار عشروں سے حالات کیسے بھی رہے ہوں ہر ماہ ایک مخصوص رقم سے کتب خریدتا اور مطالعہ کرتا ہوں۔ مطالعہ ہی فہم وآگہی عطا کرتا ہے، اس سے مکالمے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔

نئی نسل کے کتاب دوستوں سے مل کر دلی مسرت ہوتی ہے۔ اب وہ آنہ لائبریریاں نہیں رہیں پبلک لائبریریوں کی رونقیں بھی پچھلی صدی جیسی نہیں’ نوجوانوں کی اکثریت پی ڈی ایف کی تلاش میں رہتی ہے پھر بھی کتب شائع ہو رہی ہیں۔ اس طالب علم کی 4کتابیں ان دنوں طباعت کے مرحلے میں ہیں اور سوانح عمری ”زندان کے چیخ” تدوین کے مرحلے میں، عرض فقط یہ ہے کہ علم اور مکالمہ ہی حسن زندگی ہے اس کے بغیر تو بنجر زمینیں ہیں۔

ابتدائی سطور میں دو تصویروں کا ذکر بھی کیا تھا۔ پہلی تصویر ایک نجی بس کمپنی میں کام کرنے والی بچی مہوش کی ہے جسے کمپنی میں ساتھ کام کرنے والے ایک شخص نے شادی سے انکار پر گولی مار کر زندگی کی قید سے آزاد کروا دیا۔ 19سالہ مہوش کے والد چند برس قبل طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے، اپنی بیوہ والدہ اور 4دیگر چھوٹے بہن بھائیوں کی اس واحد کفیل کے قتل پر ایک پورا خاندان بے سہارا ہوگیا۔ گھر میں اور کوئی کمانے والا نہیں۔ بدقسمتی سے کوئی سماج سدھار’ حکومتی بڑا یا سیاسی ومذہبی رہنما مقتولہ کے خاندان کی داد رسی اور مدد کیلئے دو قدم آگے نہیں بڑھ پایا۔

یہ بھی پڑھئے:   پاکستان ٹوٹنے کے ذمہ دار کون۔۔۔ بھٹو ،مجیب ،فوج یا ہمارا رویہ ؟؟؟

دوسری تصویر آسیہ اکبر کی ہے۔ آسیہ اکبر بلوچ’ سرداری نظام میں گردن تک دھنسے ڈیرہ غازی خان کی باسی تھیں۔ خواتین کے حقوق اور گمشدہ بچیوں کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرنے والی یہ جوانسال پرعزم بیٹی اپنی گمشدہ بہن کی بازیابی کیلئے سرگرداں تھیں جو شادی کے چند ہفتوں بعد غائب کردی گئی۔ اس گمشدگی کا مقدمہ مغویہ کے شوہر وسسر پر درج تھا۔ آسیہ اکبر بلوچ کو منگل کے روز مغویہ بہن کے سسر اور چند نقاب پوشوں نے مسافر ویگن سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک بہن غائب ہے دوسری قتل ہوگئی۔ خون ناحق رزق خاک ہوا۔ ہائے کس عہد میں جینے کے سزاوار ہوئے ہم، جہاں قانون سرمایہ داروں اور بندوق برداروں کے گھر کی لونڈی ہے۔ انصاف ملتا نہیں’ محنت مشقت سے زندگی جینے اور حق کیلئے لڑنے والی ان دو بچیوں کے سفاکانہ قتل نے ہمارے نظام اور سماج کے کھوکھلے پن کیساتھ مردانہ شاؤنزم کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے لیکن فائدہ کوئی نہیں وجہ یہ ہے کہ علم وحقوق سے محروم معاشرے میں تدبر وبرداشت کو قدم قدم پر جوتے مارے جاتے ہیں۔

روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
81
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: