سوال گندم جواب چنا

Print Friendly, PDF & Email

شریف فیملی کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو جوابدہ نہیں سمجھتی۔ قانون‘ آئین‘ عدالتیں‘ عوام یا یوں کہہ لیں ان ووٹروں کا بھی جن کے ووٹ کی عزت آج کل نعروں سے طلب کی جا رہی ہے 40برسوں تک اداروں کے سہارے اور سر پرستی میں راج کرنے والوں کو پہلی بار سوال و جواب کا سامنا ہے تو تربیت و فہم دونوں اچھل اچھل کر باہر کود رہے ہیں۔ جناب نواز شریف اور ان کی ’’ رانی آف جاتی امراء پتری‘‘ مریم نواز کی زبان دانیاں اپنی جگہ مگر اتوار کے روز چھوٹے میاں صاحب نے سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے پوچھے گئے 7 سوالوں کے جواب میں جو موتی رولے اس پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

چار بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شخص کی ذہنی حالت اگر یہ ہے تو باقی کے نونیوں کی حالت زار کیا ہوگی؟۔ مخالفین کی کردار کشی‘ خریدے ہوئے میڈیا منیجروں کے ذریعے الزام تراشی‘ اشتہارات کی رشوت سے پاکی داماں کے فسانے و بڑھک مارنے اور زمینی حقائق میں کتنا فرق ہے اس پر کتنے عرصہ تک پردہ پوشی کی جاسکتی ہے؟ آسان جواب یہ ہے کہ رنگ بازیاں زیادہ دیر نہیں چلتیں۔ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے میں لگ بھگ 56 کمپنیاں بنوائیں۔ ان کمپنیوں میں کھود کھود کر ایسے وفادار بیورو کریٹس کو نوازا گیا جو قواعد سے زیادہ وفاداری کے مظاہرے پر ایمان کامل رکھتے ہیں۔ صرف بیورو کریٹس ہی نہیں دوسرے وفاداروں کی بھی بن آئی۔ پچھلے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ ایک صوبائی وزیر ضیغم قادری کی اہلیہ اور بھائی صاف پانی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پاتے رہے۔ صاف پانی کمپنی میں منصب کے لئے جو اہلیت تھی وہ ان دونوں دیور بھابھی سے سات سو کلو میٹر کے فاصلے پر بھی دستیاب نہیں۔ لگ بھگ 200 ارب روپے صرف صاف پانی کمپنیوں کے ’’ تالابوں‘‘ میں غرق ہوئے۔

فیض پانے والوں میں شہباز شریف کے داماد علی عمران بھی شامل تھے۔ داماد جی نیب میں ایک پیشی کے بعد چپکے سے ملک چھوڑ گئے۔ ان کی روانگی کا انتظام وزیر اعلیٰ پروٹوکول کے عملے نے کیا۔ درجن بھر سے زیادہ کرپشن معاملات کے راستے حمزہ شہباز کی دہلیز اور ان کے ظاہر و غائب سسرالیوں کی دہلیزوں تک جاتے ہیں۔ اتوار کے روز سپریم کورٹ میں شہباز شریف سے کچھ سوال ہوئے۔ عدالت کے سوال اور شہباز شریف کے جواب پڑھ کر فیصلہ کیجئے کہ کیا وہ اپنی اس ذہنی حالت کے ساتھ اس منصب کے اہل ہیں۔(1) عدالت‘ کیپٹن عثمان اور مجاہد شیردل کو لاکھوں روپے تنخواہیں کیوں دیں؟ وزیر اعلیٰ‘ اندھیرے ختم کئے۔ (2)عدالت‘ افسروں کو کیوں نوازا؟ وزیر اعلیٰ‘ دھیلا کرپشن ثابت ہو جائے تو جو چاہے سزا دیں۔ (3)عدالت‘ لمبی باتیں نہ کریں جو پوچھا جا رہا ہے اس کا جواب دیں۔ وزیر اعلیٰ! یہ ٹھنڈا کمرہ ہماری کارکردگی کا ثبوت ہے۔ (4)عدالت‘ صرف کمپنیوں میں لاکھوں روپے تنخواہوں کا بتائیں؟ وزیر اعلیٰ‘ متعلقہ بورڈ ذمہ دار ہے میں نہیں۔ (5) کس بات کے چیف منسٹر ہیں؟ وزیر اعلیٰ‘ آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا قبول کروں گا۔ ایک موقع پر وزیر اعلیٰ ہتھے سے اکھڑتے ہوئے بولے ’’ کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا جو ترقیاتی کام کئے۔ چیف جسٹس نے جواباً کہا۔ پتا نہیں آپ کو کس نے کاٹا؟ سوال کا جواب دیں۔ اس طرح کی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے عدالت سے معذرت کرلی۔ پھر جذباتی ہو کر روسٹرم چھوڑ کر جاتے ہوئے بولے جو کہنا تھا کہہ دیا ۔ آپ فیصلہ کردیں۔ یہ ہیں چوتھی بار وزیر اعلیٰ کی سیٹ سنبھالے ہوئے شہباز شریف۔ ایک صحافی نے بجا لکھا کہ ’’ سوال گندم اور جواب چنا‘‘۔

یہ بھی پڑھئے:   کیا اسلاف کا ایمان کمزور تھا ؟ وسعت اللہ خان

پچھلے دس برسوں میں پنجاب میں کیا ترقی ہوئی‘ اعداد و شمار کی جعل سازی کے سوا؟ حالت یہ ہے کہ لاہور میں میٹرو بس‘ ایل ٹی سی اور فیڈر بس سروس جیسے منصوبے سبسڈی پر چل رہے ہیں۔ قرض کی مے اور آمدنی دھیلہ نہیں اس پر سبسڈی الگ ‘ ایل ٹی سی (لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی) 3کروڑ ماہوار کی سبسڈی پر چلتا ادارہ ہے۔ 70فیصد بسیں خراب حالت میں ڈیپوؤں میں کھڑی ہیں وجہ ٹیکنیکل سٹاف کا نان ٹیکنیکل ہونا ہے۔ اس کمپنی کے افسروں اور عملے کی 80فیصد تعداد کا تعلق شہباز شریف‘ حمزہ شہباز شریف کے حلقوں اور گوالمنڈی سے ملحقہ علاقوں کے افراد پر مشتمل ہے۔ میٹرو اور فیڈر بس سروس کے عملے میں بھی زیادہ تر اپنے انتخابی حلقوں کے لوگ شامل ہیں۔ مجموعی طور پر تینوں منصوبے سبسڈی پر چل رہے ہیں ۔36کروڑ+3 کروڑ+5کروڑ روپے ماہوار کی سبسڈی ہے۔ 44 کروڑ ماہانہ کی سبسڈی یہ رقم عوام کی کمائی سے ہی ادا ہوتی ہے۔ 56 کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار بیورو کریٹس ہیں یا خواجہ حسان جیسے وفادار۔ مگر پچھلے دس برسوں سے پروپیگنڈے کے زور پر سب اچھا ہے یا پھر لہوریوں کی یہ منطق کہ نواز شریف کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو کھا یا وہ ذاتی مال تھا یا جو لگایا وہ گھر کے برتن فروخت کرکے لگایا؟ اندھی شخصیت پرستی کا شکار لوگ اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتے ہیں۔ قائداعظم سولر انرجی‘ نندی پور اور بھکی پاور پلانٹس۔ حساب کیجئے کہ تینوں منصوبوں پر کتنے کھرب روپے خرچ ہوئے اور بجلی کے مین سسٹم میں روزانہ ان تین منصوبوں سے کتنے میگا واٹ بجلی شامل ہوتی ہے۔ دروغ گوئی کا عالم یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم عباسی نے دو ہفتے قبل راجن پور رحیم یار خان کے درمیان دریائے سندھ پر بنائے گئے پل کا دھوم دھڑکے سے افتتاح کیا دریائے کاپل تو پیپلز پارٹی کے دور میں بنا تھا پنجاب حکومت پانچ سالوں میں ایک نہر پر پل نہ بنا سکی مگر ادھورے منصوبے کا افتتاح کرکے لوگوں کو چونا لگادیا۔ جھوٹ کی ناؤ تیزی سے رواں دواں ہے۔ بات وہی ہے سوال گندم جواب چنا۔

یہ بھی پڑھئے:   پاناما کیس کے گہرے ہوتے سائے - ایاز امیر

مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
158
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: