Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

بداعتمادی بربادیوں کو دعوت دیتی ہے

Print Friendly, PDF & Email

آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے 2018ء کو تبدیلی کا سال اور بروقت انتخابات کو سب کی خواہش قرار دیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔سوشل میڈیا پر ملک اور اداروں کے لئے اُگلے جانے والے زہر کا ذکر کرتے ہوئے بولے پاکستان کے خلاف کچھ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان کا دعویٰ تھا کہ وانا میں فوج مخالف نعروں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے فائرنگ اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ایک چارٹ کی مدد سے انہوں نے فوج اور پاکستان مخالف افراد کی نشاندہی کی(’’ان میں اکثر نون لیگ کے میڈیا سیل کے لوگ ہیں اور چند معروف صحافی بھی‘‘)۔ انہوں نے کہا۔ فوج میں غلطی کی سزا دی جاتی ہے۔ جنرل (ر)اسد درانی نے کتاب لکھنے کے لئے این او سی نہیں لیا۔
سوموار کی سہ پہر اپنی کی پریس کانفرنس میں جو کچھ فرمایا سر آنکھوں پر دریا میں رہنا ہو تو مگرمچھ سے بیر رکھ کر تنگ ہونے کی ضرورت نہیں۔ جن سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی تصاویر کی انہوں نے تشہیر کی ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ یوں کہہ لیجئے انہوں نے غداری کا فتویٰ جاری فرما دیا۔ بہت احترام کے ساتھ ان سے دریافت کیا جانا از بس ضروری ہے کہ کیا وہ اداروں کے سیاسی کردار، جوڑ توڑ، چار مارشل لاؤں اور پانچ بار آئین کی پامالی کا ذمہ دار کسی آسمانی مخلوق کو سمجھتے ہیں؟۔

فوج نے بطور ادارہ ان طالع آزما جرنیلوں کے خلاف کیا کارروائی کی جنہوں نے چار بار منتخب حکومتوں کا تختہ اُلٹا اور 34سال اقتدار پر قابض رہے۔(ان 34برسوں میں سمجھوتہ برانڈ اور جرنیلی جمہوریت کے ماہ و سال شامل نہیں)۔وانا کے معاملے میں انہوں نے جو موقف اپنایا وہ کس حد تک درست ہے اس حوالے سے صرف ایک سوال ہے۔ کیا سابق طالبان کمانڈر عین اللہ جو کہ 300کے لگ بھگ فوجیوں اور معصوم شہریوں کا قاتل ہے ان دنوں بنام امن کمیٹی وانا میں سرگرم نہیں؟۔کیا یہ درست نہیں کہ عین اللہ کے جنگجوؤں جنہیں وہ امن کمیٹی کا نام دے رہے ہیں کے پاس بھاری بھرکم جدید اسلحہ ہے۔ یہ اسلحہ اس گروپ نے کس قاعدے اور قانون کے تحت رکھا ہوا ہے؟۔کیا یہ بھی غلط ہے کہ وانا کا تنازعہ فوج یا پاکستان مخالف نعروں سے نہیں بلکہ بھتہ خوری کی وجہ سے شروع ہوا عین اللہ اور دوسرے طالبان کمانڈر جواب امن کمیٹیوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں وانا بازار کے تاجروں سے بھتہ لینا ماضی کی طرح حق سمجھتے ہیں اور حالیہ جھگڑا جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے بھتہ خوری پر مزاحمت کا نتیجہ ہے؟۔

یہ بھی پڑھئے:   خوف و ہراس کی فضاء-ڈاکٹر تصور حسین مرزا

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آخر ہم کب تک حقیقت کی پردہ پوشی کو ایمان کا حصہ قرار دے کر عوام الناس کو گمراہ کرتے رہیں گے؟۔ثانیاً یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر فوج کے سیاسی کردار پر جاری تنقید میں تین طرح کے لوگ پیش پیش ہیں۔اولاً وہ جنہیں انصاف پر مبنی عادلانہ نظام اور مساوات کی اقدار والے معاشرے سے محبت ہے۔ ثانیاً ریاستی اداروں کے پالے ہوئے بعض لشکروں کے زخم خوردہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے۔ ثالثاً وہ لوگ جو اداروں سے براہ راست متاثر ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ناقدین کی بات توجہ سے سُنی جائے محرومیوں اور زیادتیوں کا ازالہ جس حد تک ممکن ہوکیا جائے۔ محض تنقید کو غداری قرار دینا کسی بھی طور درست نہیں ہوگا۔

بجا کہ کچھ لوگ تنقید کی آڑ میں زہر بھری نفرت پھیلا رہے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ نوبت کیوں آئی۔ کیا یہ لوگ اس ملک کے شہری نہیں؟۔شہری ہیں تو ان سے بات چیت ہونی چاہئے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ غداری کا فتویٰ جاری کرنے کی نہیں ۔ یہ بھی عرض کردوں کہ جس طرح ناقدین بحثیت مجموعی حاجی ثناء اللہ نہیں اسی طرح ادارے بھی گنگا نہائے ہوئے ہر گز نہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے کج، غلطیاں اور کھلواڑ پر ایک نگاہ ڈالنے کو تیار نہیں البتہ دوسرے کی بھد اُڑانے کا شوق ہر کس و ناکس پالے ہوئے ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ قومی مفاد اور حب الواطنی کی حدود طے کرنے کے شوقین دوسروں کی بات اور شکایات سننے پر آمادہ نہیں یہی بنیادی خرابی ہے۔

یہ بائیس کروڑ لوگوں کا ملک ہے مگر ستر برسوں سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ عوام بس اطاعت کرنے والی مخلوق ہے بالادست طبقات اور ادارے آسمان سے اُترے ہوئے پوتر افراد پر مشتمل ہیں ان سے غلطی سرزد ہی نہیں ہوسکتی۔اس سوچ کو دفن کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا اُن سے یہ امر پوشیدہ ہے کہ الیکٹیبلز کا تحریک انصاف کی طرف ہانکا کس نے کیا؟۔معاف کیجئے گا سیاست میں مداخلت کا شوق بدرجہ اتم موجود ہے بلڈی سویلین کی تو کوئی اوقات ہی نہیں۔سیاستدانوں میں خرابیاں ہیں اچھے برے لوگ ہر شبعہ زندگی میں ہوتے ہیں مگر جس طرح چند افراد کے جرائم کی سزا جمہوری سوچ کے حاملین کو دی جاتی ہے وہ درست نہیں۔اس ملک کو بندوق کے زور پر نہیں انصاف اور مساوات پر متحد و قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اداروں کو بھی اپنی اداؤں پر غور کرنا ہوگا۔ کیا فوج بطور ادارہ 2013ء کے انتخابات میں کروائی گئی اس دھاندلی سے انکار کریگی جو اس وقت کے آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کی نگرانی میں ہوئی؟۔انگلیاں اب بھی اُٹھ رہی ہیں تو یہ موقع کون دے رہا ہے۔ بنائیے ایک کمیشن لائیے اشفاق پرویز کیانی، افتخارچودھری اور الیکشن کمیشن کے اس وقت کے سکریٹری کو اس کمیشن کے کٹہرے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   یورپ امریکہ جانا چاہتے ہیں؟

سرِتسلیم خم یہ ہمارا ملک ہے اور فوج بھی ہماری ہے۔ براہ کرم ملک اور فوج پر ہمارے حق کو بھی تو تسلیم کیجئے۔حرف آخر یہ ہے کہ جس نے سیاست کرنی ہے شوق سے کرے پھر تنقید بھی برداشت کرے۔
غداری کے فتوے اور سستے الزامات فروخت کرنے کی ضرورت نہیں۔ چند طالع آزما جرنیلوں پر تنقید اور سازشوں کو ہدف ملامت بنانے کا مطلب توہین کرنا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فرد ہو یا ادارے آئین کی بالا دستی کے سامنے سرِتسلیم خم کریں ایسا ہوتا ہے تو مثبت آغاز ہوگا اور بہتر نتائج بھی نکلیں گے۔ دوسری صورت میں عدم اعتماد بڑھے گا ریاستیں انصاف ، مساوات اور جمہوریت پر قائم رہتی ہیں عدم اعتماد تو بربادیوں کے دروازے کھولتا ہے۔

Views All Time
Views All Time
192
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: