بھولے بادشاہ کا غصہ اور نفرت

Print Friendly, PDF & Email

دلچسپ موسم ہے، سیاسی مسافروں کی ہجرتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فضا میں گرد وغبار ہے، ریاست کو نئے ’’مختار کار‘‘ مل رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے محبوب قائد نے سرل المیڈا کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں باؤنسر پھینکا ہے۔ ان کے ناقدین انٹرویو کے متن کو کھلی غداری قرار دے رہے ہیں۔ دوسروں کی بات رہنے دیجئے یہ پیپلز پارٹی نے کس خوشی میں کامریڈ نواز شریف کو مودی کا یار کہہ دیا؟ جناب عمران خان سے سراج الحق اور مولانا فضل الرحمٰن سے پرویز الٰہی تک ہر شخص حب الوطنی کا جھنڈا اُٹھائے میدان میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی معرکہ حق وباطل شروع ہوا چاہتا ہے۔ فقیر راحموں کہتے ہیں اگر پاکستان میں دہلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے، بھارت کی جوتوں سے مرمت کرنے والی تقاریر ہوں اور درجن بھر جرائد ہر ماہ مجاہدین کی شجاعتوں کی داستانوں اور شہادتوں کے ساتھ آخری خط شائع کرتے ہوں اور کوئی پوچھے تک نا، تو پھر نواز شریف کے انٹرویو میں ممبئی حملوں کے حوالے سے کی گئی باتوں پر آسمان سر پر اُٹھانے کی ضرورت کیا آن پڑی؟ فقیر لگتا ہے آج کل ہمارے دوست حافظ صفوان کی طرح نواز شریف کی محبت میں گرفتار ہوتے جا رہے ہیں۔ ویسے ایک بات پر غور کیجئے‘ نواز شریف نے جو کچھ کہا یہی قبل ازیں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور چند دیگر حضرات بھی کہہ چکے ہیں تو پھر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ دو باتیں مناسب نہیں تھیں، اولاً وقت، ثانیاً ایک خاص پس منظر رکھنے والے صحافی کو انٹرویو دینا۔ یہ بھی جان لیجئے کہ مذکورہ صحافی کو خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی سے ملتان لایا گیا۔ کیبنٹ ڈویژن نے ملتان ائیر پورٹ کے منیجر کو خط لکھا کہ سرل المیڈا کو خصوصی پروٹوکول دیا جائے۔ المیڈا ملتان ائیر پورٹ پر اُترے تو وفاقی وزیر کے مساوی پروٹوکول حاضر تھا۔

پچھلے دو دن سے یار لوگ نواز شریف کی بھد اُڑانے میں مصروف ہیں۔ میر جعفر وصادق کا خطاب دیا جا رہا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں۔ ہمارے دوست پروفیسر ضیاء الدین ضیاء نے پچھلی شب سوال کیا۔ شاہ جی! کیا نواز شریف کو یہ سب کہنا زیب دیتا تھا؟ عرض کیا سرکار! نواز شریف سیاستدان تھے نہ ہیں ان سے سیاسی رہنماؤں جیسی فراست کی توقع عبث ہے۔ وہ مارشل لاء کی چھتری میں بذریعہ اقتدار سیاست کے میدان میں اُترے۔ 1982ء سے 2017ء کے وسط تک اقتدار کے ایوانوں میں ان کا وزیر خزانہ پنجاب‘ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم کے طور پر قیام ان مہربانوں کا مرہون منت ہے جو پیپلز پارٹی کو بہ امر مجبوری قبول کرتے ہیں۔ ان مہربانوں نے انہیں متبادل لیڈر بنا کر پیش کیا۔ یہاں تک کہ جب 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کو جھرلو برانڈ انتخابات میں جتوایا گیا تو ایوان صدر کی پسند رئیس غلام مصطفیٰ جتوئی تھے لیکن آئی جے آئی کے گاڈ فادر جنرل حمید گل آڑے آئے۔ وہ سندھی ہونے کی وجہ سے جتوئی کو ناقابل اعتبار سمجھتے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ متبادل قیادت پنجاب سے ہونی چاہئے تاکہ نظریہ پاکستان کا دفاع ہوسکے۔ صدر غلام اسحٰق خان نے بہ امر مجبوری نواز شریف کو وزیراعظم بنانے کی منظوری دی۔ عمر بھر کی سیاست اداروں کی مرہون منت ہے ہمارے محبوب رہنما کی۔ ان دنوں وہ شخصی توہین پر بپھرے ہوئے ہیں۔ نواز شریف مذکورہ انٹرویو اگر سرل المیڈا کے علاوہ کسی صحافی کو دیتے تو اتنا ہنگامہ ہرگز نہ ہوتا۔ المیڈا مبینہ ڈان لیکس کے اہم کردار ہیں۔ جو دوست یہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کا انٹرویو دستور کے حلف وفاداری اور رازوں کی امانت کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان سے بہت احترام کےساتھ ایک سوال دریافت کرنا ہے، وہ یہ کہ ممبئی حملوں کے مرکزی کردار اجمل قصاب کا پاکستان میں غائبانہ نماز جنازہ کس نے پڑھوایا؟

یہ بھی پڑھئے:   مستونگ اور گوادر کے المناک سانحات | حیدر جاوید سید

مکرر عرض کروں صحافت وسیاست کے مجھ طالب علم کے نزدیک نواز شریف وقت کا انتخاب کئے بغیر بات کہہ گئے۔ شخصی توہین کے غم میں وہ یہ نہیں سوچ پائے کہ اس وقت ان باتوں کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ سیاستدان ہوتے تو وہ یاد کرتے کہ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جب ریاست کے اندر ریاست کی بات کی تھی تو وہ خود ( نواز شریف) بھی اسٹیبلشمنٹ کےساتھ کھڑے تھے۔ گیلانی کے ساتھ ہوا کیا؟ لمبی چوڑی بحث میں مغز کھپانے کی ضرورت ہرگز نہیں۔ غلطی نواز شریف کی یہ ہے کہ وہ حالات کا تجزیہ کرنے اور معاملات کے ادراک کا فہم نہیں رکھتے، غصہ اور نفرت دونوں میں حد سے گزر جاتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ رحمٰن ملک‘ جنرل درانی‘ پرویز مشرف‘ حمید گل مرحوم سمیت اس طرح کی باتیں قبل ازیں بہت سارے لوگ کر چکے ہیں۔ پاکستان نے بمبئی حملوں میں بھارت کے نامزد پاکستانی شہریوں کیخلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا۔ تکرار کی معذرت کچھ سچ دیوار پر بھی لکھے ہوں تو ضروری نہیں ہوتا کہ انہیں باآواز بلند پڑھا جائے۔ وقت کے انتخاب میں کی گئی غلطی نے انہیں سیاسی تنہائی کی سمت دھکیل دیا ہے۔ چالیس برسوں کے دوران جو شخص سیاست کی الف بے نہیں سمجھ پایا اس کے حال کیلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ البتہ یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ان کے بیان کو کفر واسلام یا حب الوطنی وغداری کا کھیل بنانے کی ضرورت نہیں۔ وہ بھولے بادشاہ ہیں اسی لئے تو خاتون امریکی صحافی سے پوچھ بیٹھے تھے ’’آپ کا کوئی بوائے فرینڈ ہے؟‘‘۔

Views All Time
Views All Time
274
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: