Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

اپنی الزاماتی سیاست پر کبھی شرمندہ ہوئے؟

Print Friendly, PDF & Email

کم وبیش 29برسوں سے پیپلز پارٹی کے رہنما (اور ان دنوں سینٹ میں قائد حزب اختلاف) چودھری اعتزاز احسن پر بھار ت کی راجیو حکومت کو سکھوں کی لسٹیں فراہم کرنے کے الزام کی جگالی کرنے والی نون لیگ ان دنوں بھڑکی بھڑکی پھر تی ہے۔ بھارت کو سرمایہ منتقل کرنے کے ایک مبینہ الزام پر نیب کی تحقیقات کو میاں نواز شریف نے کچھ زیادہ سنجیدہ لے لیا ہے یا پھر دال میں کچھ 10والیم کے حوالے سے کالا ہے یہ اللہ جانتا ہے، فی الوقت تو صورت یہ ہے کہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب مجھ پر لگائے گئے الزامات کا ثبوت پیش کریں یا پھر کھلے عام قوم سے معافی مانگیں۔ استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلائی مخلوق کو زمینی مخلوق شکست دے گی۔ 2013ء کے انتخابات میں جب یہی خلائی مخلوق نواز شریف اور نون لیگ کی سرپرستی فرما رہی تھی تب وہ یقیناً فلاحی مخلوق ہی ہوگی۔ اسی فلاحی معاف کیجئے گا، خلائی مخلوق کی نرسری میں ان کی پینری لگی۔ بریگیڈئیر قیوم قریشی، جنرل جیلانی خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل حمید گل، جنرل اشفاق پرویز کیانی اسی خلائی مخلوق کے وہ چیدہ کردار تھے جنہوں نے ان کی سیاست کو آگے بڑھایا۔

اس خلائی مخلوق کے ایک مرد مومن ضیاء الحق کے مشن کو پورا کرنے کا عزم وہ جبڑا چوک پر فرماتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بااعتماد رفیقوں اور خلائی مخلوق کے نمائندوں کے درمیان باہمی ”دلچسپی” کے امور پر آخری ملاقات 27اپریل کو ہوئی، شریف فیملی کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کردی گئی کہ ”قانون اور عدالتوں کا سامنا کیجئے”۔ ایک راوی کا دعویٰ ہے کہ میز کے دوسری طرف بیٹھے ایک درجہ دوئم کے افسر نے ملاقاتیوں سے کہا۔ میاں نواز شریف تو آخری سانس تک جمہوریت کے تحفظ کی جنگ لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ایک مذاکراتی نے کہا سر جلسوں میں لوگوں کے سامنے بھرم بھی تو رکھنا ہوتا ہے۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے جن پنجابی دوستوں کو اُمید ہے کہ نواز شریف واقعی چی گویرا ثابت ہوں گے اللہ کرے ان کی اُمیدیں پوری ہوں البتہ اگر گاہے گاہے دسمبر 2000ء کے دنوں کو یاد کر لیا جائے تو اچھا ہوگا۔ صحت اور سیاست دونوں کیلئے۔

یہ بھی پڑھئے:   مردم شماری کا عمل اور پاک فوج کا کردار - کنول زہرا

ڈر کا عالم یہ ہے کہ فوجی اشرافیہ کا نام لیتے ہوئے جان نکلتی ہے۔ ارے بھائی صاف سیدھا کہیں نا اگر ہمت ہے تو یہ بے رنگ لفافوں میں خط بھیجنے کی بخیلی کیوں؟۔اعتزاز احسن پر لگ بھگ 29سال قبل خالصتان کے حامی سکھ جنگجوؤں کی لسٹیں بھارتی حکومت کو دینے کا الزام میاں نواز شریف نے لگایا تھا تب نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ اور اعتزاز وفاقی وزیر داخلہ تھے، نون لیگ اور ضیاء الحق دسترخوان کے دوسرے شکم سیر 29سالوں سے اس الزام کو دہرانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ 29برسوں میں تین بار نون لیگ وفاق میں برسر اقتدار آئی 9سال جنرل مشرف مسلط رہے اس الزام کی عدالتی یا جے آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات کروانے کی ضرورت محسوس کی گئی نہ ہی شریف برادران نے کبھی مطالبہ کیا۔ نواز شریف نے محترمہ بینظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک کہا (کہا تو اور بھی بہت کچھ اور پھر اس کا فیض بھی پایا) کیا کبھی وہ اپنا الزام کسی فورم پر ثابت کر پائے، کبھی انہوں نے اعتزاز اور بینظیر بھٹو سے معافی مانگی؟۔ انہوں نے تو فوج کی کیانی رجیم اور چیف جسٹس افتخار چودھری کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت کے خلاف جو سازشیں کیں اس پر بھی کبھی کھلے عام قوم سے معافی نہیں مانگی۔یہ عرض کردوں کہ سول وملٹری اشرافیہ کا دست بازو بن کر مخالفین کیخلاف ”جہاد” فرمانے والا ہر سیاستدان اور جماعت 22کروڑ پاکستانیوں کے مجرم ہیں۔

خود میاں نواز شریف نے اقتدار کی منازل فوج کی سرپرستی میں طے کیں۔ اب جوان کی لڑائی ہے وہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ جمہوریت اور ووٹ یہ محض لذت دہن کا سامان ہیں۔ جو قوانین ان کے خیال میں کسی ڈکٹیٹر کے مسلط کردہ ہیں ان قوانین کو انہوں نے چار سالہ وزارت عظمیٰ کے دوران حرف غلط کی طرح مٹا دینے کی کوشش کیوں نہ کی؟۔جناب نواز شریف کی تڑپن اور غصہ بجا مگر انہیں سوچنا ہوگا کہ خود ان کا ماضی کیا ہے۔ 35لاکھ روپے تو انہوں نے آئی ایس آئی سے 1990ء میں لے لئے تھے اس خیرات میں سے حاصل بزنجو بھی پانچ لاکھ لے اُڑے تھے۔ انہوں نے تو خفیہ ایجنسی سے 35لاکھ روپے لینے پر کبھی شرمندگی محسوس نہیں کی۔ ویسے وہ شرمندہ ہوتے بھی نہیں ”(مرحوم حسن پیرزادہ کہا کرتے تھے نوازشریف شرمندگی پروف شخص ہیں”)۔ایک اور دلچسپ بات انہوں نے تکرارکے ساتھ کل کہی۔ ”سزا ہوئی تو معافی نہیں مانگوں گا۔ ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ انہیں مشرف دور میں جھوٹے مقدمات میں سزا ہوئی تو انہوں نے نہ صرف معافی مانگی بلکہ 10سالہ معاہدہ جلاوطنی بھی کیا، پھر وہ اور ان کی جماعت اگلے آٹھ سال ڈھٹائی کے ساتھ جوتوں سمیت لوگوں کی آنکھوں میں گھس کر منوانے کی کوشش کرتے رہے کہ معاہدہ جلاوطنی ہوا ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   مہرے (حاشیے) | فرح رضوی

کڑوا سچ یہ ہے کہ اتنی باتیں چھوٹے صوبے کے کسی لیڈر نے کی ہوتیں تو اب تک اس کا انتم سنسکار ہو گیا ہوتا۔ نوازشریف شکر کریں کہ وہ پنجابی ہیں اور بہرطور سول ملٹری اشرافیہ کے اندر پنجاب کا موثر حصہ ہے۔ ان کا تعلق سندھ، بلوچستان، پختونخوا یا سرائیکی وسیب سے ہوتا تو کہنے لکھنے کی ضرورت نہیں کہ اب تک دنیا کیا سے کیا ہوگئی ہوتی۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
370
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: